حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انقلابِ اسلامی ایران کی 47 ویں سالگرہ کے موقع پر جموں و کشمیر انجمنِ شرعی شیعیان کے اہتمام سے حوزہ علمیہ جامعہ باب العلم کے محبوب ملت ہال میں ایک پُروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں علمائے کرام، ذاکرین حضرات ، اساتذہ، حوزۂ علمیہ کے فارغ التحصیلان کے علاوہ مکتبِ الزہراء حسن آباد کی طالبات اور جامعہ بابُ العلم میرگنڈ کے طلبہ کی بھاری تعداد نے شرکت کرکے انقلاب اسلامی ایران سے اپنی والہانہ عقیدت اور وابستگی کا مظاہرہ کیا۔

تقریب میں معروف علمائے دین اور مفکرین نے شرکت کرکے انقلابِ اسلامی ایران کے مختلف گوشوں اور بانی انقلابِ اسلامی حضرت امام خمینیؒ کے کردار و عمل پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
جن معزز شخصیات نے تقریب سے خطاب کیا ان میں انجمنِ شرعی شیعیان کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی، حجت الاسلام سید محمد حسین موسوی، حجت الاسلام سید یوسف الموسوی، حجت الاسلام سید محمد حسین صفوی، حجت الاسلام مولوی محبوب الحسن، حجت الاسلام غلام احمد شیخ، حجت الاسلام نثار حسین والو، حجت الاسلام سید ارشد الموسوی، حجت الاسلام غلام محمد گلزار، حجت الاسلام مولوی گوہر حسین، حجت الاسلام سید علی اور حجت الاسلام تنویر حسین قابلِ ذکر ہیں۔

اس موقع پر علمائے کرام نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ آج کا ایران وہ ایران نہیں جسے امریکہ اور صہیونی اسرائیلی رژیم کمزور، تنہا یا پسپا دیکھنا چاہتے تھے۔ موجودہ حالات اس امر کی گواہی دے رہے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے شدید ترین پابندیوں، سیاسی دباؤ، معاشی جنگ، میڈیا یلغار اور کھلی سازشوں کے باوجود غیرمعمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ یہ کامیابیاں اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ جب قیادت قرآنی فکر، ولائی بصیرت اور عوامی حمایت پر کھڑی ہو تو استکبار کی تمام چالیں خاک میں مل جاتی ہیں۔

صدرِ انجمنِ شرعی شیعیان حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے اپنے صدارتی خطاب میں واضح کیا کہ رہبر معظم انقلاب کی مدبرانہ قیادت نے نہ صرف ایران کو محفوظ رکھا بلکہ پورے خطے میں استقامت اور مزاحمت کے محور کو مضبوط کیا۔ امریکہ اور صہیونی اسرائیلی رژیم کی یہ خواہش کہ ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے، آج خود ان کی سیاسی، عسکری اور اخلاقی شکست میں بدل چکی ہے۔ غزہ سے یمن، لبنان سے عراق تک مزاحمت کا بڑھتا ہوا محاذ اس بات کا اعلان ہے کہ انقلاب اسلامی کی فکر سرحدوں کی محتاج نہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج ایران سائنسی ترقی، دفاعی خودکفالت، علاقائی اثر و رسوخ اور نظریاتی استقامت کے میدان میں دشمن کے لیے ایک ناقابل تسخیر حقیقت بن چکا ہے۔ صہیونی رژیم کی بوکھلاہٹ اور امریکہ کی مسلسل ناکامیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ استقامت کی سیاست ہی کامیابی کی ضمانت ہے، نہ کہ غلامی اور پسپائی۔

تقریب میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ انقلاب اسلامی ایران کسی ایک دن یا جشن کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مسلسل جہاد، ایک زندہ تحریک اور ظہور امام زمانہؑ کی تمہید ہے۔ آج کی دنیا دو صفوں میں بٹ چکی ہے: ایک صف استکبار، ظلم اور صہیونیت کی ہے، اور دوسری صف مزاحمت، حق اور ولایٔت کی۔ غیرجانبداری اب ممکن نہیں، خاموشی اب جرم ہے۔
انجمنِ شرعی شیعیان اس موقع پر واضح اعلان کرتی ہے کہ ہم رہبر معظم انقلاب کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہر سطح پر اپنی فکری، اخلاقی اور عملی وابستگی کو تجدید عہد سمجھتے ہیں۔ ہماری موجودگی، ہماری آواز اور ہماری شعوری شرکت اس بات کی گواہی ہے کہ ہم اہل حق کے قافلے میں ہیں، نہ کہ تاریخ کے تماشائی۔ان شاء اللہ، انقلاب اسلامی اپنی کامیابیوں کے ساتھ انقلاب امام زمانہؑ سے جُڑ کر ظلم و استکبار کے خاتمے اور عدل الٰہی کے قیام کا ذریعہ بنے گا اور امریکہ و صہیونی رژیم کی تمام سازشیں ہمیشہ کی طرح ناکامی سے دوچار ہوں گی۔









آپ کا تبصرہ