منگل 17 فروری 2026 - 12:24
ماہِ مبارک رمضان میں خواتین کی ذمہ داریاں اور ان کا عظیم اجر

حوزہ/ رمضان عورت کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ اپنی قدر پہچانے، اپنی ذمہ داری کو عبادت سمجھے اور اپنے کردار سے معاشرے میں نور پھیلائے۔ جب ایک عورت سنورتی ہے تو ایک خاندان سنورتا ہے، اور جب خاندان سنورتے ہیں تو پوری امت میں اصلاح کی لہر دوڑ جاتی ہے۔

تحریر: محترمہ سیدہ ناظمہ حسینی

حوزہ نیوز ایجنسی | ماہِ مبارک رمضان اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں، برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے۔ یہ وہ مقدس مہینہ ہے جس میں قرآن نازل ہوا، شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں، جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔ اس مہینے کی ہر ساعت نور اور ہر لمحہ اجر و ثواب سے بھرا ہوا ہے۔ اگرچہ رمضان کی عبادات مرد و عورت دونوں پر فرض ہیں، لیکن خواتین کا کردار اس مہینے میں نہایت اہم، حساس اور اثر انگیز ہوتا ہے، کیونکہ عورت ہی گھر کی بنیاد، نسلوں کی معمار اور معاشرے کی پہلی مربّیہ ہے۔

اسلام نے عورت کو محض گھر کی خدمت گزار نہیں بلکہ ایک باعزت، باوقار اور بااثر شخصیت کے طور پر پیش کیا ہے۔ رمضان میں اس کی ذمہ داریاں صرف روزہ رکھنے یا افطار تیار کرنے تک محدود نہیں ہوتیں، بلکہ اس کی عبادت، تربیت، اخلاق اور صبر پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

1۔ عبادت میں استقامت اور اخلاص

سب سے پہلی اور بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ خاتون خود اپنی عبادات کی پابند ہو۔ نماز کی ادائیگی، روزوں کی حفاظت، تلاوتِ قرآن اور ذکر و دعا میں مشغول رہنا اس کی اولین ذمہ داری ہے۔

رمضان میں ایک فرض کا ثواب ستر گنا یا اس سے بھی زیادہ بڑھا دیا جاتا ہے، اور نفل عبادت کا اجر فرض کے برابر ہو جاتا ہے۔ حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر عطا کروں گا۔"

پس جب ایک عورت اخلاص کے ساتھ روزہ رکھتی ہے، بھوک اور پیاس برداشت کرتی ہے، اپنی زبان، آنکھ اور دل کی حفاظت کرتی ہے تو وہ صرف ایک فریضہ ادا نہیں کر رہی ہوتی بلکہ اللہ کی خاص رضا حاصل کر رہی ہوتی ہے۔

2۔ گھر کو عبادت گاہ بنانا

عورت گھر کی ملکہ ہوتی ہے۔ اگر وہ چاہے تو گھر کو دنیا کی باتوں کا مرکز بنا دے اور اگر ارادہ کر لے تو اسی گھر کو عبادت گاہ میں تبدیل کر دے۔ رمضان میں اس کی یہ ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ:

  • بچوں کو روزے کی ترغیب دے
  • گھر میں قرآن کی تلاوت کا ماحول بنائے
  • افطار کے وقت اجتماعی دعا کا اہتمام کرے
  • اہلِ خانہ کو نماز کی یاد دہانی کروائے

جو ماں اپنے بچوں کو نیکی کی طرف راغب کرتی ہے، وہ صرف ایک نصیحت نہیں کرتی بلکہ اپنے لیے صدقۂ جاریہ کا انتظام کرتی ہے۔ اولاد کی صحیح تربیت ایسا عمل ہے جس کا ثواب مرنے کے بعد بھی جاری رہتا ہے۔

3۔ صبر اور حسنِ اخلاق

رمضان صبر کا مہینہ ہے۔ ایک روزہ دار کو نہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنی ہوتی ہے بلکہ غصہ، چڑچڑا پن اور بد اخلاقی سے بھی بچنا ہوتا ہے۔ خواتین چونکہ گھر کے مختلف کاموں میں مصروف رہتی ہیں، اس لیے ان کے لیے صبر کا امتحان زیادہ ہوتا ہے۔

کھانا تیار کرنا، بچوں کو سنبھالنا، مہمانوں کی خدمت کرنا اور اس کے ساتھ عبادات کا اہتمام کرنا یقیناً آسان کام نہیں۔ لیکن اگر یہ سب اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے تو یہی گھریلو کام عبادت بن جاتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے بہترین ہو۔"

پس جو خاتون رمضان میں خوش اخلاقی، نرمی اور برداشت کا مظاہرہ کرتی ہے، وہ اللہ کے نزدیک بلند درجات حاصل کرتی ہے۔

4۔ خدمتِ شوہر اور اہلِ خانہ

اسلام نے شوہر اور بیوی کے تعلق کو محبت، رحمت اور تعاون پر قائم کیا ہے۔ اگر ایک عورت اپنے شوہر کی جائز خدمت کرتی ہے، اس کے لیے افطار تیار کرتی ہے، اس کے آرام کا خیال رکھتی ہے اور اس سب کو عبادت سمجھ کر کرتی ہے تو اسے عظیم اجر ملتا ہے۔

حدیث میں آتا ہے کہ اگر عورت نماز کی پابند ہو، رمضان کے روزے رکھے، اپنی عصمت کی حفاظت کرے اور شوہر کی اطاعت کرے تو اسے جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔

یہ کتنی بڑی بشارت ہے! یعنی ایک خاتون اگر اپنی روزمرہ ذمہ داریوں کو دینی شعور کے ساتھ ادا کرے تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

5۔ پردہ، حیا اور زبان کی حفاظت

روزہ صرف کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں بلکہ آنکھ، زبان اور دل کو گناہوں سے بچانے کا نام بھی ہے۔ خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ:

  • غیبت اور چغلی سے پرہیز کریں
  • فضول گفتگو سے بچیں
  • سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال کو محدود کریں
  • پردے اور حیا کا مکمل اہتمام کریں

اگر ایک عورت پورا دن بھوکی پیاسی رہے مگر زبان سے غیبت کرتی رہے تو اس کا روزہ کمزور ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنی زبان اور آنکھ کی حفاظت کرے تو اس کا روزہ نور بن جاتا ہے۔

6۔ صدقہ و خیرات اور ہمدردی

رمضان سخاوت کا مہینہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس مہینے میں سب سے زیادہ سخی ہو جاتے تھے۔ خواتین اگرچہ گھر کے محدود وسائل کی نگران ہوتی ہیں، لیکن تھوڑا سا بھی صدقہ دیں تو اس کا اجر کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

کسی غریب کو کھانا دینا، یتیم کی مدد کرنا، کسی ضرورت مند کی خاموشی سے اعانت کرنا—یہ سب اعمال جنت کے راستے ہموار کرتے ہیں۔

حدیث میں ہے:

"جو کسی روزہ دار کو افطار کرائے، اسے بھی اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا روزہ دار کو، بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی ہو۔"

پس ایک خاتون اگر اپنے ہاتھ سے افطار تیار کر کے کسی مستحق تک پہنچائے تو وہ دوہرا اجر حاصل کرتی ہے۔

7۔ حیض اور نفاس کے ایام میں عبادت

رمضان میں خواتین کو بعض ایام میں شرعی عذر کی بنا پر نماز اور روزے سے رخصت دی جاتی ہے۔ یہ کوئی کمی یا محرومی نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے آسانی ہے۔ ان دنوں میں وہ:

  • ذکر و تسبیح کر سکتی ہیں
  • درود شریف پڑھ سکتی ہیں
  • دینی کتابوں کا مطالعہ کر سکتی ہیں
  • صدقہ و خیرات کر سکتی ہیں
  • دعا اور استغفار میں مشغول رہ سکتی ہیں

اللہ تعالیٰ نیتوں کو دیکھتا ہے۔ اگر نیت سچی ہو تو اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔

8۔ روحانی انقلاب کی معمار

اگر خواتین رمضان کو سنجیدگی سے لے لیں تو پورا معاشرہ بدل سکتا ہے۔ کیونکہ ماں ہی پہلی درسگاہ ہے۔ ایک باعمل ماں ایک صالح نسل تیار کرتی ہے، اور ایک صالح نسل ایک صالح معاشرہ بناتی ہے۔

رمضان عورت کے لیے صرف کچن تک محدود رہنے کا مہینہ نہیں، بلکہ یہ اس کے لیے اپنی روحانی طاقت کو پہچاننے، اپنے مقام کو بلند کرنے اور اپنے گھر کو جنت کا نمونہ بنانے کا موقع ہے۔

نتیجہ

ماہِ مبارک رمضان خواتین کے لیے بے شمار ذمہ داریوں اور لامحدود ثواب کا مہینہ ہے۔ اگر وہ:

  • اپنی عبادات کی پابند رہیں
  • گھر کو دینی ماحول دیں
  • صبر اور حسنِ اخلاق اختیار کریں
  • اولاد کی تربیت کریں
  • صدقہ و خیرات کریں
  • اپنی حیا اور زبان کی حفاظت کریں

تو ان کا ہر لمحہ عبادت بن جاتا ہے اور ہر سانس ثواب میں بدل جاتا ہے۔

رمضان عورت کو یہ پیغام دیتا ہے کہ وہ اپنی قدر پہچانے، اپنی ذمہ داری کو عبادت سمجھے اور اپنے کردار سے معاشرے میں نور پھیلائے۔ جب ایک عورت سنورتی ہے تو ایک خاندان سنورتا ہے، اور جب خاندان سنورتے ہیں تو پوری امت میں اصلاح کی لہر دوڑ جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ تمام خواتین کو رمضان کی برکتوں سے بھرپور حصہ عطا فرمائے، ان کی عبادات قبول فرمائے اور انہیں دنیا و آخرت کی کامیابی نصیب کرے۔ آمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha