حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ میں مسجد جمکران میں منعقد ہونے والی اکیسویں بین الاقوامی ’’دکترینِ مهدویت‘‘ (عقیدہ مہدویت) کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ علی رضا اعرافی نے کہا کہ عالمِ اسلام کو آج ایسے عقیدہ مہدویت اور انتظار کی ضرورت ہے جو امید، بیداری اور مزاحمت کا سرچشمہ بنے۔ ایسا انتظار جو ایک طرف عالمی سطح پر انسانوں کو اپنی طرف متوجہ کرے اور دوسری جانب ظلم، استکبار اور صہیونیت کے خلاف مضبوط مزاحمت پیدا کرے۔
انہوں نے ماہِ شعبان، ولادت حضرت امام مہدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) اور عشرہ فجر کی مناسبت سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کانفرنس کے منتظمین، محققین اور مسجد جمکران کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کے پیغام پر بھی قدردانی کا اظہار کیا۔
آیت اللہ اعرافی نے تاریخ اور منجی بشریت کے تصور پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلامی فکر میں تاریخ محض واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل ارتقائی سفر ہے جو آخرکار عدل، عقل اور انسانی اقدار کے مکمل ظہور پر منتج ہوتا ہے۔ ان کے مطابق انتظار صرف ایک ذاتی عبادت نہیں بلکہ ایک سماجی، تاریخی اور تمدنی ذمہ داری بھی ہے۔
انہوں نے منجی (نجات دہندہ) کے تصور میں پائی جانے والی تین بڑی گمراہ کن تصورات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی یہودیت، صہیونی عیسائیت اور مغربی لبرل فکر، بظاہر مختلف ہونے کے باوجود درحقیقت ایک ہی خطرناک نظام کا حصہ ہیں۔ یہی نظریات استعمار، نسل پرستی اور اسرائیلی مظالم کی پشت پناہی کرتے ہیں۔
سربراہ حوزات علمیہ نے مهدویت کی تین بنیادی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے کہا کہ پہلی ذمہ داری دنیا کے سامنے مهدویت کے درست اور عقلی پیغام کو پیش کرنا ہے۔ دوسری ذمہ داری گمراہ کن نظریات کا علمی اور تحقیقی انداز میں ردّ کرنا ہے، جبکہ تیسری ذمہ داری عملی میدان میں فعال کردار ادا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی انتظار میں ’’جاذبیت‘‘ اور ’’مزاحمت‘‘ دونوں شامل ہیں۔ یہ ایک طرف انسانوں کو الٰہی اقدار کی طرف مائل کرتا ہے اور دوسری طرف ظالم قوتوں کے سامنے ڈٹ جانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ ان کے مطابق مزاحمت کے بغیر انتظار نامکمل ہے۔
آیت اللہ اعرافی نے امتِ مسلمہ کو اتحاد کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلمان فرقہ وارانہ اور ثقافتی اختلافات سے بالاتر ہو کر متحد نہ ہوئے تو دشمن انہیں ایک ایک کرکے نشانہ بناتا رہے گا۔ دشمن کا مقصد مسلمانوں کو ذلت اور غلامی میں مبتلا کرنا ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ ’’مقاوم مهدویت‘‘ اور ’’امید بخش انتظار‘‘ آج کی نوجوان نسل کی بنیادی ضرورت ہے۔ یہی فکر انقلابِ اسلامی کا پیغام ہے جو مظلوموں کے لیے امید اور ظالموں کے لیے چیلنج بن چکی ہے۔ علما اور دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ اس پیغام کو عالمی سطح پر عام کریں۔









آپ کا تبصرہ