تحریر: حجت الاسلام سید حسن ظفر نقوی
حوزہ نیوز ایجنسی| 11 فروری 1979 کو دنیا کے نقشے پر ایک قطعہ زمین پر بظاہر ایک بادشاہت کا خاتمہ اور ایک مذہبی طبقے کو اقتدار مل گیا مگر اس انقلاب نے عالمی بساط پر شطرنج کی بازی بچھانے والوں کو مخمصے میں ڈال دیا۔ ان کے مہرے بکھرنے لگے، شطرنج کی بازی کا سب سے بڑا مہرہ بادشاہ کہلاتا ہے، لیکن اس بچارے بادشاہ کو بازی گر گردن سے پکڑ کر اِدھر اُدھر بٹھاتا رہتا ہے۔ ایسا ہی کچھ شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے ساتھ ہوا، وہ اپنے کو بادشاہ ہی سمجھتا رہا، جبکہ اس کی گردن کسی اور کے ہاتھ میں تھی۔ جب یہ بادشاہ پیادوں سے مات کھا گیا تو بازی گروں نے اسے اپنے ملک میں بھی جگہ نہیں دی۔ عالمی سامراج جو اس زمانے میں دو قطبی تھا شرقی اور غربی یا یوں کہیے کہ دایاں بازو اور بایاں بازو یا سوشلسٹ بلاک اور سرمایہ داری نظام کا حامی بلاک۔
ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد ان دونوں عالمی ٹھیکیداروں یعنی امریکہ اور اس وقت کا سوویٹ یونین(USSR) کو یقین تھا کہ مولویوں کے پاس نہ تو کو نظام ہے اور نہ ہی کوئی نظام چلانے والی ٹیم، اور نہ ایرانی قوم مولویوں کی حکومت کو قبول کرے گی، اس لئے دونوں طاقتیں پر امید تھیں امریکہ اپنے جمہوری نعروں اور ایران میں موجود اپنے ہزاروں حامیوں کی وجہ سے جنھیں امریکی ایجنٹ کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔
امریکہ کو یقین تھا کہ وہ جمہوریت کے فریبی نعروں کے ذریعے دوبارہ ایران پر کنٹرول حاصل کر لے گا اور دوسری طرف سوویت یونین کو ایران میں موجود تودہ پارٹی اور دیگر بائیں بازو کے گروہوں کی موجودگی سے یقین تھا کہ کیونکہ یہ انقلاب امریکی تسلط کے خلاف نعروں سے برپا ہوا ہے اس لئے اس کے لئے اپنی مرضی کی حکومت لانے کے لئے زمین ہموار ہو چکی ہے۔ اس حقیقت کا ادراک کرنے کے لئے کوئی طاقت تیار نہیں تھی کہ اگر ڈیموکریٹس اور سوشلسٹس میں اتنا دم خم ہوتا تو اس انقلاب کی قیادت روحانیت نہ کر رہی ہوتی۔ عالمی سیاسی تجزیہ نگاروں نے ایران کے بارے میں ہمیشہ جو غلطی کی وہ انقلاب کے مذہبی اور روحانی پہلو کو نظر انداز کرنا تھا۔
دیگر اسلامی ممالک کے برعکس ایران کی مذہبی قیادت صدیوں سے انقلابی کردار ادا کرتی رہی ہے، مصر میں بھی اخوان نے انقلابی اسلامی تحریک کو زندہ رکھا لیکن خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کرنے میں ناکام رہی ، بر صغیر میں بھی اسلامی تحریکیں جنم لیتی رہیں لیکن سامراج کے پیدا کردہ اختلافات ہمیشہ راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ بنتے رہے اور آج تک یہ اختلافات اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ہر مرحلے پر سامنے آتے ہیں۔ لیکن ایران میں عوام کو علماء سے الگ کرنے کی سامراج کی ہزار کوشش کے باوجود آج تک اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ مرجعیت کی صورت میں مذہب نے ایرانی قوم کو ایک مرکز سے وابستہ رکھا۔
یہ تجزیہ نگار بھول جاتے ہیں کہ ماضی میں یعنی انیسویں اور بیسویں صدی میں برطانوی اور روسی سامراج کے خلاف جتنے بھی قیام ہوئے وہ علماء کی قیادت میں ہوئے اور شہید آیت اللہ فضل اللہ نوری، سمیت ہزاروں علماء اور طلباء کو دردناک انداز میں قتل کیا جاتا رہا۔ ایرانی علماء کسی بھی زمانے میں اپنے عوام سے اور ان کے مسائل سے الگ تھلگ نہیں رہے۔ ایرانی تیل جس کی آمدنی کی شاہی خاندان اور برطانیہ اور دیگر سامراجی طاقتوں میں بندر بانٹ ہو رہی تھی اور ایرانی عوام غربت کی آخری سطح تک آگئی یتھی اس دولت کو بچانے اور ایرانی عوام تک اس کے ثمرات پہنچانے کے لئے جب ڈاکٹر مصدق (1953 میں ایران کے وزیر اعظم ) نے شاہ ایران کے فیصلوں کے خلاف تحریک شروع کی تو سب سے پہلے آیت اللہ کاشانی اس تحریک کی حمایت میں میدان میں اتر آئے اور آیت اللہ کاشانی کے اس تحریک میں شامل ہوتے ہی ساری ایرانی قوم سڑکوں پر نکل آئی۔ جس کے نتیجے میں شاہ کو ایران سے فرار ہونا پڑا تھا۔گو کہ عالمی بدمعاش شاہ کو دوبارہ لے آئے اور ڈاکٹر مصدق گرفتار کر لئے گئے، مگر اس تحریک کے نتیجے میں ایرانی تیل ذاتی ملکیت سے نکل کر قومی ملکیت میں آگیا ، شاہ آقائے کاشانی کو بھی گرفتار کرنا چاہتا تھا لیکن عوامی رد عمل کے خوف نے اسے اس عمل سے باز رکھا۔
اور 1953 کے بعد مسلسل روحانیت میدان میں رہی، 1953 سے 1960 کے درمیان فدائیان اسلام نے اصفہان، نجف آباد اور اطراف کے علاقوں میں شہنشاہیت کے خلاف تاریخی جد و جہد کی۔ جس کے دوران اس تنظیم کے سربراہ عالم دین نواب مجتبیٰ صفوی کو گرفتار کرکے پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ 1880 سے شروع ہونے والی سامراجی تسلط کے خلاف اٹھنے والی مذہبی تحریکوں اور علماء کی قربانیوں نے ایرانی معاشرے میں روحانیت کی جڑوں کو مضبوط اور گہرا کر دیا تھا۔
اُنہی تحریکوں کا تسلسل 1964 میں شروع ہونے والی امام خمینی کی تحریک ہے، امام خمینی نے شاہ کے خلاف اس وقت قیام کا آغاز کیا جب انھیں یقین ہو چکا تھا کہ اب ایران لبرل ازم اور سیکولر ازم کے دلفریب نعروں کی آڑ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مغرب کی غلامی میں جانے والا ہے۔ شاہ کا سفید انقلاب کا نعرہ دراصل مذہب سے چھٹکارا حاصل کرنے کی طرف پہلا قدم تھا، دوسری طرف امریکہ شاہ ایران کے ذریعے اسرائیل کو عالم اسلام سے منوانے اور فلسطین کے مسئلے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ اس مقصد کے لئے شاہ ایران کو شہنشاہ ایران کے بت کی صورت میں تراش کر عالم اسلام کے سامنے رکھا گیا اور یہ بات تاریخ کا حصہ ہے کہ انقلاب اسلامی سے پہلے شہنشاہ ایران اسلامی دنیا کی آنکھ کا تارا تھا۔ سارے عالم اسلام میں ایرانی سفارت خانے اور کلچر سنٹرز دراصل اسرائیلی اور امریکی مفادات کے تحفظ کے اذے تھے۔
ہم پہلے کسی تجزیہ نگار کے کالم کے جواب میں لکھ چکے ہیں کہ امام خمینی کی تحریک کا آغاز شہر خون و قیام ، قم کی سرزمین سے ہوا تھا اس تحریک کا نقطہ آغاز اور مرکز آغاز نہ تو کوئی دائیں بائیں بازو کی سیاسی جماعتیں تھیں اور نہ ہی سیاسی مراکز بلکہ یہ تحریک مدرسہ فیضیہ قم سے اٹھی اور اس تحریک کے پہلے قربانی دینے والے سیکڑوں علماء اور طلاب دینی تھے۔
قم سےاٹھنے والی امام خمینی کی آواز راتوں رات پوری ملت ایران کی آواز بن گئی ، سارا ایران شہنشاہیت کے خلاف سڑکوں پر نکل آیا۔ ہزاروں لوگوں کے قتل عام اور امام خمینی کی گرفتاری اور بعد میں جلا وطنی کے ساتھ بظاہر اس تحریک کو کچل دیا گیا تھا۔ مگر حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔ بلکہ یوں کہیئے کہ سامراجی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے بعد آنے والے نظام کی تیاری ہو رہی تھی۔ 1964 سے 1977 کے آخر اور 1978 کے اوائل تک ایک ایسی جماعت تیار ہو چکی تھی جو استقلال پر یقین رکھتی تھی، یعنی شرق اور غرب یا دائیں بائیں کی ذہنی غلامی سے آزاد قوم۔ ایسی قوم جس کے فیصلے وائٹ ہاؤس اور کریملن میں نہ لکھے جائیں بلکہ وہ اپنی آزادی سے اپنے فیصلے کریں۔
ابھی حال ہی میں دنیا نے دو موقعوں پر دیکھ لیا کہ جب بھی ایرانی قوم کو یہ احساس ہو جاتا ہے کہ ایران کے داخلی حالات کا استعماری طاقتیں فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں وہ حکومت مخالف ہونے کے باوجود اپنی حکومت اور قیادت کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایران اسرائیل جنگ کے دوران دنیا بھر کے تجزیہ نگار یہ تجزیہ کرنے میں سارا وقت لگے رہتے تھے کہ اب یہ رجیم نہیں بچ سکتی کیونکہ باہر سے اسرائیل اور امریکہ ان کو تباہ کر دے گا اور اندر ان عوام ان کے خلاف سڑکوں پر آگئی ہے۔
اور دوسری مرتبہ دسمبر 2025 کے آخر سے شروع ہونے والے مہنگائی کے خلاف مظاہرے اور پھر ان مظاہروں کا اچانک ہی پرتشدد روپ اختیار کر لینا۔ اس بار تو عالمی تجزیہ بازار یقین کی آخری حدوں تک آگیا تھا کہ یہ رجیم ختم اور نعم البدل کے طور پر شاہ ایران کے بیٹے اور کچھ مغرب میں رہنے والے ایران میں آزادی کے نام نہاد علمبرداروں کے نام تک آنے لگے تھے۔ کچھ تجزیہ نگار اندر سے خوش اور باہر سے تشویش کا اظہار کر رہے تھے کہ اب تو خانہ جنگی چھڑ جائے گی اور ایران تباہ و برباد ہو جائے گا لیکن ایرانیوں نےہمیشہ کی طرح پھر ساری دنیا کو سرپرائز دیا اور اچانک ہی احتجاجی مظاہرے ختم کر کے اپنی حکومت اور قیادت کی پشت پر آگئے اور امریکا اور اسرائیل کے خوابوں کا محل ایک بار پھر چکنا چور ہو گیا۔
احتجاجی مظاہروں کی درجنوں یا چلئے سیکڑوں افراد پر مشتمل ٹولیوں کے جواب میں جب تہران، اصفہان شیراز ، مشہد اور تبریز سمیت سارے ایران میں لوگ بلا مبالغہ کروڑوں کی تعداد میں رہبری سے وفاداری کا اعلان کرتے سڑکوں پر نکلے تو سامراجی میڈیا سکتے میں آ گیا اور اسے سانپ سونگھ گیا پھر آہستہ آہستہ سب نے پینترے بدلنے شروع کئے۔
دنیا اب تک یہ ہضم نہیں کر پا رہی کہ ان سب کرشموں کے پیچھے روحانیت اور مرجعیت کی طاقت ہے۔ مستقبل میں کچھ بھی ہو سکتا ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ موجودہ ایران اتنا طاقتور ہو چکا ہے کہ عالمی بدمعاشوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سرخرو میدان میں کھڑا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے دیکھ لیا کہ آج دنیا میں اسلامی جمہوریہ ایران کی حمایت پہلے سے کہیں زیادہ ہے ۔ ایران کے اسلامی انقلاب کو سینتالیس سال مکمل ہونے کو آ رہے ہیں اور ایران کو الگ تھلگ کرنے کی جتنی بھی سازشیں ہوتی رہیں ان میں سب سے خوفناک سازش فرقہ واریت کو ہوا دینا تھا۔ لیکن الحمد للہ آج سارا عالم اسلام اس صیہونی سازش کو پوری طرح سمجھ چکا ہے اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ عوامی سطح پر مختلف مکاتب فکر کے علماء اور عوام ایک دوسرے کے قریب آتے جارہے ہیں۔ جس دن اسلامی دنیا کے حکمرانوں نے سپر طاقتوں کے بجائے اپنے عوام پر بھروسہ کرنا شروع کر دیا بس اسی دن سے ہر طاقت کا خوف دل سے نکل جائے گا۔
ان شاءالله
وما علینا الا البلاغ









آپ کا تبصرہ