تحریر اور یادداشت (31)
-
مقالات و مضامینٹرمپ کا بورڈ آف پیس اور اقوامِ عالم کے نظریات!
حوزہ/عالمی سیاست میں امن (Peace) ایک ایسا نعرہ ہے جسے اکثر طاقتور ممالک اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دورِ حکومت بھی اسی تضاد کی ایک نمایاں مثال ہے۔ ٹرمپ…
-
ہندوستانجمہوری ہندوستان میں مسلمانوں کا ریاستی امتحان!
حوزہ/ہندوستان میں حکومتی سطح پر نفرت کا بیانیہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جارہا ہے۔ ہمارے ملک کا تشخص گنگا جمنی تہذیب، رواداری، مشترکہ ثقافت اور آپسی بھائی چارے میں تھا، لیکن اب یہ شناخت بتدریج…
-
مقالات و مضامینیحیٰی بن اکثم کے سوالات اور امام علی نقی علیہ السلام کے جوابات!
حوزہ/ یحییٰ بن اکثم، جو عہدِ مأمون میں بصرہ کا سب سے بڑا اور نامور قاضی سمجھا جاتا تھا، علم و مناظرے میں اپنی مثال آپ تھا۔ مگر یہی یحییٰ بن اکثم، جب عالم آل محمد حضرت علی بن موسیٰ الرضا علیہ…
-
مقالات و مضامین’وندے ماترم ‘ حب الوطنی کا امتحان کیسے؟
حوزہ/ ’وندے ماترم ‘کے ایک سو پچاس سال پورے ہونے پر لوک سبھا میں بحث کا آغاز ہوا۔ملک کو درپیش سینکڑوں مسائل کو پس پشت ڈال کر ایک بے مقصد بحث کو ایوان میں ترجیح دی گئی جس سے سیاسی رہنمائوں کی…
-
مقالات و مضامینعراق کا اعلانِ عزت و غیرت؛ اسرائیل سے ہر تعلق جرم قرار
حوزہ/عراق کی پارلیمنٹ نے 26 مئی 2022 کو ایک تاریخی فیصلے میں اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کے تعلق، تعاون یا رابطے کو جرم قرار دینے والا قانون متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے…
-
مقالات و مضامینغیر مسلح کرنے کی ناقابل حصول آرزو
حوزہ/ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ ابہامات اور خطرات سے بھرا پڑا ہے اور حماس نے واضح طور پر غیر مسلح ہونے کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے بقول یہ تنظیم کسی صورت بھی غیر مسلح ہونے پر تیار نہیں ہو گی اور…
-
ہندوستانیہ محض عسکری فتح نہیں، مکتبِ حسینی کا یزیدی نظام پر اعلانِ فتح ہے: مولانا شیخ ریاض علی کشمیری
حوزہ/ مولانا شیخ ریاض علی کشمیری نے اسلامی جمہوریہ ایران کی اسرائیل و امریکہ کے خلاف حالیہ تاریخی کامیابی کو مکتبِ حسینی کی فتح قرار دیتے ہوئے ولایتی رہبریت، عوام اور سربازوں کو دل کی گہرائی…
-
مقالات و مضامینامریکہ کی دادا گیری کب تک؟
حوزہ/امریکہ کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے اپنے ذاتی فائدے کے لیے ہزاروں بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلی ہے۔
-
مقالات و مضامینچاپلوسوں سے ہوشیار!
حوزہ/ کریم خان زند کا شمار اسلامی جمہوریہ ایران کے ان چند نیک بادشاہوں میں ہوتا ہے جن کا آج بھی نیک انسانوں میں تذکرہ ہوتا ہے۔