منگل 3 فروری 2026 - 22:17
انقلابِ اسلامی: ظلمت سے نور کی طرف ایک عظیم سفر

حوزہ/انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی ظلم، استبداد اور ناانصافی اپنی انتہا کو پہنچتے ہیں تو فطرت ایک عظیم تبدیلی کو جنم دیتی ہے۔ ایسے ہی حالات میں کوئی مردِ مومن اٹھتا ہے جو امت کو بیدار کرتا ہے اور انہیں غلامی کی زنجیروں سے نجات دلاتا ہے۔ بیسویں صدی کا سب سے عظیم اور تاریخ ساز واقعہ انقلابِ اسلامی ایران ہے، جس نے نہ صرف ایک ملک کے سیاسی نظام کو بدلا، بلکہ پوری دنیا کے فکری، مذہبی اور سیاسی نقشے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

تحریر: عاصم علی

حوزہ نیوز ایجنسی| انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی ظلم، استبداد اور ناانصافی اپنی انتہا کو پہنچتے ہیں تو فطرت ایک عظیم تبدیلی کو جنم دیتی ہے۔ ایسے ہی حالات میں کوئی مردِ مومن اٹھتا ہے جو امت کو بیدار کرتا ہے اور انہیں غلامی کی زنجیروں سے نجات دلاتا ہے۔ بیسویں صدی کا سب سے عظیم اور تاریخ ساز واقعہ انقلابِ اسلامی ایران ہے، جس نے نہ صرف ایک ملک کے سیاسی نظام کو بدلا، بلکہ پوری دنیا کے فکری، مذہبی اور سیاسی نقشے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

یہ انقلاب دراصل باطل قوتوں کے اندھیروں سے نکل کر ایمان، عدل اور آزادی کے نور کی طرف ایک عظیم سفر تھا۔

یہ انقلاب اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جب قوم ایمان، وحدت اور صالح قیادت کے زیرِ سایہ کھڑی ہو جائے تو بڑی سے بڑی طاقت بھی اسے شکست نہیں دے سکتی۔ انقلابِ اسلامی نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات اور نظامِ حکومت بھی پیش کرتا ہے۔

ایران میں شاہی نظام اور ظلم و استبداد

انقلاب سے پہلے ایران میں پہلوی شاہی حکومت قائم تھی۔ رضا شاہ اور اس کے بعد محمد رضا شاہ نے مغربی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور اسرائیل کی سرپرستی میں ایک ایسا نظام قائم کیا جس میں عوام کی آزادی سلب کر لی گئی تھی۔ دین کو معاشرتی زندگی سے نکالنے کی کوشش کی جا رہی تھی، علماء کو دبایا جا رہا تھا، حجاب پر پابندیاں لگائی جا رہی تھیں اور اسلامی شعائر کو کمزور کیا جا رہا تھا۔

شاہی حکومت نے سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ڈالا۔ آزادیٔ اظہار ختم کی۔ ملک کے وسائل مغربی طاقتوں کے حوالے کیے۔ امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھایا۔ ساواک (خفیہ پولیس) کے ذریعے خوف کا ماحول قائم کیا۔

قرآن کریم ایسے ظالم حکمرانوں کے بارے میں فرماتا ہے: "اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِی الْاَرْضِ وَجَعَلَ اَھْلَھَا شِیَعًا یَّسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْھُمْ"(القصص: 4)ترجمہ: بے شک فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور وہاں کے لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کر کے ایک طبقہ کو کمزور بنا دیا۔

یہ آیت شاہی حکومت کی حالت کی مکمل عکاسی کرتی ہے۔

انقلاب کے اسباب و عوامل

انقلابِ اسلامی کسی ایک دن یا ایک واقعے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ یہ کئی دہائیوں کے ظلم، محرومی اور دینی بیداری کا ثمر تھا۔

دینی شعور کی بیداری

ایران کی عوام دین سے گہرا تعلق رکھتی تھی۔ علماء اور مساجد نے اسلامی تعلیمات کو زندہ رکھا۔ لوگوں کو یہ احساس ہوا کہ اسلام ایک عادلانہ نظام پیش کرتا ہے۔

معاشی ناانصافی

ملک کے وسائل شاہی خاندان اور چند سرمایہ داروں کے ہاتھ میں تھے جبکہ عوام غربت کا شکار تھی۔

سیاسی جبر

ہر قسم کی سیاسی سرگرمی پر پابندی تھی۔

مغربی ثقافتی یلغار

اسلامی تہذیب کو ختم کر کے مغربی طرزِ زندگی مسلط کیا جا رہا تھا۔

علماء کی قیادت

علماء نے عوام کو ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کا شعور دیا۔

امام خمینیؒ کی قیادت اور کردار

انقلابِ اسلامی کا سب سے روشن پہلو امام روح اللہ خمینیؒ کی قیادت ہے۔ آپ ایک عظیم فقیہ، مفسر، عارف اور شجاع رہنما تھے۔ آپ نے شاہی حکومت کے خلاف کھل کر آواز بلند کی۔

آپ کا مشہور جملہ تھا: *"ہم امریکہ کو بھی شکست دیں گے اور ظلم کے ہر نظام کو مٹا دیں گے۔"

جلاوطنی، قید و بند اور دھمکیوں کے باوجود آپ پیچھے نہیں ہٹے۔ آپ نے قوم کو یہ یقین دلایا کہ

اسلام میں حکومت کا مکمل نظام موجود ہے۔ ظالم کے خلاف قیام واجب ہے۔ شہادت کامیابی ہے۔

قرآن فرماتا ہے: "وَلَا تَھِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ"(آل عمران: 139) ترجمہ: نہ کمزور پڑو اور نہ غم کرو، اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔

امام خمینیؒ نے اسی آیت کی روح کو زندہ کیا۔

عوامی بیداری اور جدوجہد

انقلاب کی کامیابی میں عوام کا کردار بنیادی تھا۔ مرد، عورتیں، نوجوان، بوڑھے سب میدان میں آئے۔ لاکھوں افراد نے مظاہرے کیے۔ ہزاروں نے شہادتیں پیش کیں۔

مساجد تحریک کا مرکز بنیں

علماء نے خطبات کے ذریعے شعور دیا

خواتین نے بھی بھرپور شرکت کی

نوجوانوں نے قربانیاں دیں

یہ انقلاب بندوقوں سے نہیں بلکہ ایمان سے جیتا گیا۔

انقلاب کی کامیابی اور اسلامی نظام کا قیام

1979ء میں بالآخر شاہ ملک چھوڑ کر فرار ہو گیا اور امام خمینیؒ فاتحانہ انداز میں وطن واپس آئے۔ عوام نے ریفرنڈم کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام کو قبول کیا۔

یہ تاریخ کا پہلا موقع تھا کہ ایک ملک میں مکمل اسلامی نظام قائم ہوا، عوام نے دین کی بنیاد پر حکومت منتخب کی اور قرآن و سنت کو آئین بنایا گیا۔

ولایتِ فقیہ کا نظریہ

انقلابِ اسلامی کی نظریاتی بنیاد ولایتِ فقیہ ہے۔ اس نظریے کے مطابق غیبتِ امام زمانہؑ میں ایک عادل اور باصلاحیت فقیہ معاشرے کی قیادت کرتا ہے۔

یہ نظام دین اور سیاست کو جوڑتا ہے، عدل و انصاف قائم کرتا ہے اور استکبار کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔

انقلاب کے داخلی اثرات

انقلاب کے بعد ایران میں تعلیم میں ترقی، سائنسی میدان میں کامیابیاں، خود انحصاری، دفاعی طاقت میں اضافہ، سماجی انصاف اور ایران آج دنیا کی بڑی طاقتوں کے مقابلے میں خود مختار کھڑا ہے۔

عالمی اثرات اور اسلامی بیداری

انقلابِ اسلامی نے پوری دنیا میں اسلامی بیداری پیدا کی۔ فلسطین، لبنان، عراق، یمن اور دیگر ممالک میں مزاحمتی تحریکوں کو حوصلہ ملا۔

امام خمینیؒ نے فرمایا: "ہماری انقلاب کی لہریں پوری دنیا میں پھیلیں گی۔"

واقعی آج دنیا میں استعمار کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں، مسلم نوجوان بیدار ہو رہے ہیں اور اسلامی شناخت مضبوط ہو رہی ہے۔

انقلابِ اسلامی اور قرآن

انقلاب کی روح قرآن ہے۔

"اِنَّ اللّٰهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِاَنْفُسِهِمْ"

(الرعد: 11)ترجمہ: اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔

ایرانی قوم نے خود کو بدلا، اللہ نے انہیں کامیابی دی۔

نوجوانوں کی ذمہ داریاں

آج کے نوجوانوں پر لازم ہے کہ انقلاب کے نظریات کو سمجھیں، دینی شعور حاصل کریں، علم و تحقیق میں آگے بڑھیں، ظلم کے خلاف آواز بلند کریں اور اتحاد کو فروغ دیں۔

انقلاب سے ملنے والے اسباق

ایمان سب سے بڑی طاقت ہے

صالح قیادت کامیابی کی کنجی ہے

اتحاد سے بڑی طاقتیں بھی ہار جاتی ہیں

اسلام مکمل نظامِ حیات ہے

قربانی کے بغیر کامیابی ممکن نہیں

نتیجہ

انقلابِ اسلامی ایران دراصل ظلمت سے نور کی طرف ایک عظیم سفر تھا۔ یہ انقلاب صرف سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک فکری، روحانی اور اخلاقی انقلاب تھا جس نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ اسلام زندہ اور ناقابلِ شکست دین ہے۔ امام خمینیؒ کی قیادت، شہداء کی قربانیاں اور عوام کی استقامت نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔

آج بھی یہ انقلاب مظلوموں کے لیے امید اور ظالموں کے لیے خوف کی علامت ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر ایمان، اتحاد اور اخلاص ہو تو کوئی طاقت ہمیں غلام نہیں بنا سکتی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حق و صداقت کے راستے پر چلنے اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha