منگل 3 فروری 2026 - 12:49
آیت اللہ خامنہ ای: شجاعت اور ملک کا انتظام

حوزہ/ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے قابل ذکر ترقی کی ہے اور ان کی شجاعت، تدبر، دور اندیشی اور حکمت عملی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ ایک ایسے قائد ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے ملک کو بحرانوں سے نکالا ہے، بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے ایک امید کی کرن بھی روشن کی ہے۔

تحریر: ڈاکٹر ذیشان حیدر عارفی

حوزہ نیوز ایجنسی | آیت اللہ سید علی خامنہ ای، رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران، بجا طور پر ایک جامع شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ وہ نہ صرف ایک جید عالم دین ہیں بلکہ ایک مدبر، دور اندیش قائد اور صاحبِ بصیرت رہنما بھی ہیں۔ ان کی قیادت میں اسلامی جمہوریہ ایران نے گوناگوں اور پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کیا ہے، اور ان تمام حالات میں ان کی شجاعت، تدبر اور حکمت عملی نے ملک کو بحرانوں سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

شجاعتِ قائد: اصولوں پر استقامت اور بے خوف قیادت

آیت اللہ خامنہ ای کی شجاعت محض ایک جذباتی ردعمل نہیں، بلکہ اصولوں پر مبنی ایک مضبوط موقف کا نام ہے۔ انہوں نے ہمیشہ حق و انصاف کا علم بلند رکھا اور کسی بھی عالمی یا علاقائی طاقت کے دباؤ میں آنے سے انکار کیا۔ ان کی یہ اصولی شجاعت مظلوموں کے لیے ایک سہارا اور ظالموں کے خلاف ایک توانا آواز بنی ہے۔ انہوں نے نہ صرف زبانی کلامی حمایت کی، بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے مظلوموں کی مدد کی اور ظالموں کو بے نقاب کیا۔

مشکل ترین حالات میں بھی آیت اللہ خامنہ ای نے استقامت کا بے مثال مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کبھی بھی ہمت نہیں ہاری اور نہ ہی اپنے موقف سے پیچھے ہٹے۔ ان کی یہ استقامت ایرانی عوام کے لیے ایک روشن مثال ہے، جس نے انہیں مشکلات کا مقابلہ کرنے اور اپنے حقوق کے لیے ڈٹے رہنے کا حوصلہ بخشا ہے۔ اس کی تازہ ترین مثال اس وقت دیکھنے میں آئی جب ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ حملوں کے بادل منڈلا رہے ہیں اور امریکی جنگی بیڑا ابراھیم لنکن ایران کے قریب موجود ہے۔ ایسے پرخطر ماحول میں بھی آپ نے مرقد امام خمینیؒ پر حاضری دی، وہاں امام خمینیؒ سے تجدیدِ عہد کیا، نماز ادا کی اور پھر عوام کے درمیان ایک تاریخی تقریر کی۔ آپ نے فرمایا کہ امریکا ایران کو نگل جانا چاہتا ہے، لیکن ملت ایران اس کے راستے میں حائل ہے۔ آپ نے مزید کہا کہ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر انہوں نے کوئی غلطی کی تو یہ ایک علاقائی جنگ میں تبدیل ہو جائے گی۔ اس شجاعت اور بے خوفی پر مخالفین نے بھی دادِ تحسین دی کہ جس موقع پر کسی رہنما کو بنکر میں پناہ لینی چاہیے تھی، آپ بغیر کسی خوف کے عوام کے درمیان موجود تھے۔ بلاشبہ یہ شجاعت آپ نے اہل بیت اطہارؑ سے ورثے میں پائی ہے۔

فیصلہ سازی کے میدان میں بھی آیت اللہ خامنہ ای کی شجاعت اور دور اندیشی نمایاں ہے۔ انہوں نے اہم مسائل پر بروقت اور درست فیصلے کیے ہیں، جس سے ملک کو بے پناہ فائدہ ہوا ہے۔ ان کے فیصلوں میں نہ صرف فوری ضرورتوں کا خیال رکھا جاتا ہے، بلکہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کی حکمت عملی بھی شامل ہوتی ہے۔

ملک کا انتظام: ایک مدبرانہ قیادت

آیت اللہ خامنہ ای نے ہمیشہ ملک کی رہنمائی کا فریضہ نہایت احسن طریقے سے انجام دیا ہے۔ انہوں نے اہم پالیسیوں کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے واضح سمت متعین کی ہے۔ ان کی رہنمائی میں ایران نے سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت، زراعت اور دیگر مختلف شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔

قومی اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینا آیت اللہ خامنہ ای کی قیادت کا ایک اہم پہلو ہے۔ انہوں نے ہمیشہ تمام طبقات، نسلوں اور مذاہب کے لوگوں کو متحد کرنے کی کوشش کی ہے اور ملک میں امن و امان قائم کرنے کے لیے انتھک محنت کی ہے۔ ان کی کوششوں سے ایران ایک مضبوط اور متحد قوم کے طور پر ابھرا ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے معیشت کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں اور خود کفالت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے ملکی وسائل کو استعمال کرنے اور غیر ملکی انحصار کو کم کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔ ان کی کوششوں سے ایران کی معیشت مضبوط ہوئی ہے اور ملک نے معاشی پابندیوں کے باوجود ترقی کی ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای نے اسلامی ثقافت کے تحفظ اور فروغ کے لیے بھی گرانقدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے مغربی ثقافت کے منفی اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی ہے اور نوجوان نسل کو اپنی تہذیب و ثقافت سے جوڑنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے قابل ذکر ترقی کی ہے اور ان کی شجاعت، تدبر، دور اندیشی اور حکمت عملی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ ایک ایسے قائد ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے ملک کو بحرانوں سے نکالا ہے، بلکہ دنیا بھر کے مظلوموں کے لیے ایک امید کی کرن بھی روشن کی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha