۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۱ شوال ۱۴۴۵ | Apr 20, 2024
کنفرانس حقوق انسانی دہلی

حوزہ/ ایران کی یوتھ آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے نقطہ نظر سے انسانی حقوق پر نویں اجلاس کا انعقاد ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی کے ایوان غالب میں کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی یوتھ آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے نقطہ نظر سے انسانی حقوق پر نویں اجلاس کا انعقاد ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی کے ایوان غالب میں کیا گیا۔ کنونشن میں بڑی تعداد میں علمائے کرام، طلباء اور مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ایم اے تاریخ کی طالبہ محترمہ خدیجہ حسین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی انسانی حقوق کی حقیقت کو اجاگر کرنے کے لیے ایک ہفتہ مختص کرنے کی تجویز دی ہے جو مغرب کی طرف سے ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات کرنے کا بہترین موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہیں، ہمیں اس مسئلے پر کام کرنا چاہیے اور مغربی ممالک کو قائل کرنا چاہیے کہ بین الاقوامی سطح پر اپنے مظالم کو روکیں۔ انہوں نے ذات، مذہب، جنس یا نسل سے قطع نظر عالمی سطح پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے کے سپریم لیڈر کے عزم کی تعریف کی۔
پروفیسر لطیف حسین شاہ کاظمی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ کے ڈین نے کہا کہ امریکہ نے عام انسانوں کو نقصان پہنچایا ہے اور فرقہ وارانہ تنازعات کو ہوا دی ہے۔ ہمارے قائدین، مفکرین، اساتذہ اور طلبہ کا فرض ہے کہ وہ بہت سے بکھرے ہوئے لوگوں اور گروہوں کو متحد کرنے کے لیے کام کریں جو مختلف وجوہات کی بنا پر منقسم ہیں۔ انہوں نے اتحاد کو فروغ دینے اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے قرآن مجید کی تعلیمات کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انسانی حقوق کا احترام ہمارے گھروں سے شروع ہوتا ہے اور اوپر تک پھیلتا ہے۔ نفرت کے نام پر کی جانے والی نفرت کی کوئی بھی مکتب حمایت حمایت نہیں کرتا۔ انہوں نے ہندوستانی ثقافت میں واسودیو کٹمبکم کے نظریے کی بھی تعریف کی اور کہا کہ یہ ایک کائناتی تنظیم ہے۔ مزید برآں یہ ایک ایسا گروپ ہے جو لوگوں کے لیے اور ان کے ذریعے کام کرتا ہے۔ یہ بلاشبہ ایک حیاتیاتی اور وجودی تنظیم ہے۔ یہ بنیادی طور پر وجود اور بقا کی ضرورت پر بنایا گیا ہے۔
ایس ڈی پی آئی کے رکن رہنما اور ترجمان ڈاکٹر تسلیم الدین رحمانی نے کہا کہ انسانی حقوق کے بارے میں آیت اللہ خامنہ ای کا نقطہ نظر اسلام کا 1400 سالہ انسانی حقوق کا نقطہ نظر ہے۔ انہوں نے اسلامی معاشروں کی تاریخ کا حوالہ دیا اور پیغمبر اسلام (ص) اور ان کے جانشین امام علی علیہ السلام کی طرف سے مختلف مقامات بشمول اسلام سے پہلے اور بعد میں، میدان جنگ میں، صلح حدیبیہ اور دیگر تاریخی مواقع پر انسانی حقوق کے احترام اور اہمیت کی مثالیں دیں۔ ڈاکٹر رحمانی نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ ہم گزشتہ 200 سالوں میں دیکھ چکے، دو عالمی جنگوں کے دوران بھی اور یہاں تک کہ آج کے یمن، فلسطین، افریقہ اور ایران میں بھی، جن پر انسانی حقوق کے نام نہاد معیاری علمبرداروں کی طرف سے سخت پابندیاں عائد ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ انہوں نے صہیونیت کو دنیا میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ پامالی کرنے والا قرار دیا جو امریکہ کی چھتری تلے یہ سب کچھ کرتا ہے۔
اجلاس میں دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سوشیالوجی کی پروفیسر محترمہ عذرا عابدی نے 'انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں: عصر حاضر میں محروم افراد کے تحفظ کا چیلنج' کے موضوع پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلامیہ کی شقوں کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے ترکیہ میں سعودی شہری جمال خاشقجی کے قتل سمیت دنیا بھر میں خواتین کی المناک حالت زار پر خاموشی پر تنقید کی۔ انہوں نے اس امید کے ساتھ اپنے مقالے کو ختم کیا کہ سماجی مسائل اور غلط فہمیوں کی بنیاد پر بڑھتے ہوئے خلیج کو پر کیا جاسکے گا۔ محترمہ عذرا عابدی نے آیت اللہ خامنہ ای کی دنیا کے تمام آزاد لوگوں کو دی جاے والی دعوت عام کی بھی تعریف کی جس میں انہوں نے دنیا کے تمام آزاد لوگوں کو نظر ثانی اور معاشرے کو مستقبل کے لئے بہتر بنانے کے لئے تبدیلی لانے کی دعوت دی ہے۔
نیشنل پیس مشن ہریانہ کے صدر جناب دیا سنگھ نے انسانی حقوق پر آیت اللہ خامنہ ای کے کام کو سراہا اور اس جیسی بڑی تحریک کا حصہ بننے پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاہب اور مکاتب فکر کے بعد انسانیت سب سے پہلے آتی ہے اور انسانی حقوق معاشرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ہم تمام فرقے ایک دوسرے سے جڑ سکتے ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ انسانی حقوق ہی ہیں جو ہمیں آپس میں متحد کرسکتے یں۔ انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ماضی کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر پروپیگنڈہ کلچر کے لیے اکثریت پسندی کو مورد الزام ٹھہرایا لیکن ساتھ ہی کہا کہ اتحاد کی تعمیر کے لیے اس کے مثبت انداز میں استعمال سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
ممتاز مصنف ڈاکٹر شجاعت حسین جو کہ اجلاس کے آرگنائزنگ سیکریٹری بھی تھے، نے مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اختتامی خطاب پیش کیا اور کہا کہ جناب امین انصاری (اسلامی جمہوریہ ایران سے مدعو مہمان،تنظیم جوانان حقوق بشر کے جنرل سیکریٹری) نے اپنی تقریر میں بجا طور پر کہا کہ امام خمینی اور آیت اللہ خامنہ ای نے انسانیت میں تبدیلی کا بیج بویا ہے۔ دنیا بھر میں اس پودے کی شکوفائی سے بین الاقوامی سطح پر بھی شکوفائی آئے گی اور یہ تحریک بغیر کسی ناکامی کے جاری رہے گی۔
حجۃ الاسلام والمسلمین جناب مہدی مہدوی پور [رہبر معظم انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کے ہندوستان میں نمائندے] نے اجلاس کے شرکاء کو سراہا اور اس اجلاس کو کامیاب بنانے میں ڈاکٹر شجاعت حسین کی بے لوث کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .