۲۴ مهر ۱۴۰۰ |۹ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 16, 2021
رہبر انقلاب اسلامی

حوزہ/ صیہونی حکومت، اسپورٹس کے عالمی مقابلوں میں شامل ہو کر قانونی حیثیت کے حصول کے درپے ہے آزاد منش کھلاڑی، مجرم صیہونی حکومت کے ساتھ نہیں کھیلتے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ٹوکیو اولمپک اور پیرالمپک 2020 میں شامل اسلامی جمہوریہ ایران کے کارواں میں میڈل حاصل کرنے والے کھلاڑیوں اور چیمپینوں نے آج رہبر انقلاب اسلامی سے ملاقات کی۔

آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اس ملاقات میں اسپورٹس کے مقابلوں میں فتح کو سماج کے لیے توانائي، نشاط، عزم اور ارادے کی طاقت کے پیغام کا حامل بتایا اور کہا: سبھی محسوس کرتے ہیں کہ یہ شخص، جو اس وقت فاتح کے پائيدان پر کھڑا ہوا ہے، اس نے عزم کیا، ارادہ کیا اور اپنی توانائي کو عملی شکل دی اور اس طرح وہ سماج کو نشاط عطا کرتا ہے۔ در حقیقت اسپورٹس کے چیمپین استقامت، امید اور نشاط کے معلم ہیں۔

تصویری جھلکیاں: ٹوکیو 2020 اولمپک اور پیرالمپک مقابلوں کے چیمپینوں کی رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای سے ملاقات

انہوں نے صیہونی حکومت کی جانب سے اسپورٹس کے میدانوں سے فائدہ اٹھا کر اپنے وجود کا قانونی جواز حاصل کرنے کی کوشش کی طرف اشارہ کیا اور کہا: ایک آزاد منش اور سر بلند کھلاڑی، ایک میڈل کے لیے ایک مجرم حکومت کے نمائندے سے ہاتھ نہیں ملا سکتا اور کھیل کے میدان میں اسے قانونی طور پر تسلیم نہیں کر سکتا۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اسی طرح بہت سے کھلاڑیوں کی جانب سے جنوبی افریقا کی اپارتھائیڈ حکومت کے نمائندوں کے ساتھ نہ کھیلنے کے تجربے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آج صیہونی حکومت کے لیے ہنگامہ مچایا جاتا ہے لیکن ماضی میں جنوبی افریقا کی اپارتھائیڈ حکومت اسی طرح کی تھی اور دنیا کے بہت سے کھلاڑی اس کے ساتھ نہیں کھیلتے تھے۔ وہ حکومت ختم ہو کر نابود ہو گئي اور یہ حکومت بھی ختم ہوگي، یہ بھی نابود ہو جائے گي۔

انہوں نے ملکی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ صیہونی حکومت کی نمائندگي کرنے والے کھلاڑی کے ساتھ نہ کھیلنے کے سبب تادیبی کارروائي کا شکار ہونے والے ایرانی بلکہ الجزائری کھلاڑی کی طرح غیر ایرانی کھلاڑیوں کے حقوق کا دفاع کریں اور ان کی حمایت کریں۔

آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے صحیح اور غلط چیمپین بننے اور میڈل حاصل کرنے کو الگ الگ بتاتے ہوئے غلط طریقوں سے حاصل کیے جانے والے بعض میڈلز کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ اسپورٹس کے بعض عالمی میدانوں میں جان بوجھ کر کیے جانے والے غلط فیصلے، سیاسی جوڑ توڑ اور رشوت دہی وغیرہ سے لے کر کھلاڑیوں کی جانب سے طاقت بڑھانے والی دواؤں کے استعمال اور ڈوپنگ جیسے کام اور یہاں تک کے میڈل کے حصول کے لیے ایک کھلاڑی کی جانب سے وطن فروشی اور خود فروشی تک کی جاتی ہے۔ اس میڈل کی کوئي وقعت نہیں ہے، بلکہ یہ باعث ننگ ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ان کے لیے ایک قابل توجہ نکتہ یہ تھا کہ اس بار (اولمپک اور پیرالمپک میں) ملک کے بنے ہوئے اسپورٹس کے لباس کو کئی ملکوں نے استعمال کیا۔ ایران کی یہ نشانی دنیا میں درخشاں ہوئي اور اس طرح کئي عالمی برانڈز کی روایتی اجارہ داری کو توڑنے میں کامیابی حاصل ہوئي۔ یہ بہت ہی اہم ہے۔ انھوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ اس پروڈکٹ کی بھی حمایت کی جائے اور اسپورٹس کے بقیہ سامان بھی ملک میں ہی تیار کیے جائيں۔

آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اسپورٹس کے مقابلوں میں محجبہ کھلاڑیوں کی زبردست کارکردگي کو حجاب کے سلسلے میں دشمنوں کے پروپیگنڈوں پر خط بطلان قرار دیا اور ایران کی خاتون کھلاڑیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: آپ کے اس حجاب نے دیگر مسلم ممالک کی خواتین کو بھی حوصلہ عطا کیا ہے۔ میں نے سنا کہ دس سے زیادہ مسلمان ملکوں کی خاتون کھلاڑی اس سال حجاب کے ساتھ اسپورٹس کے عالمی میدانوں میں آئيں۔ یہ کام رائج نہیں تھا، یہ کام آپ نے کیا ہے۔ ایران کھلاڑی اور چیمپین کی حیثیت سے آپ نے یہ کام کیا اور یہ راستہ کھول دیا۔

انہوں نے اسی طرح کہا کہ ہماری خاتون کھلاڑیوں نے ثابت کر دیا کہ حجاب، کمال کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے جیسا کہ سیاست کے میدان، علم کے میدان اور مینیجمینٹ کے میدانوں میں بھی وہ پہلے اسے ثابت کر چکی ہیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے کھلاڑیوں کے کچھ اور گرانقدر کاموں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آپ نے جس اخلاقی رویے اور معنویت کے ساتھ اسپورٹس مین اسپرٹ کا مظاہرہ کیا، اسپورٹس کے کاروانوں کا نام شہیدوں خاص طور پر شہید قاسم سلیمانی کے نام پر رکھا،  کچھ چیمپینوں نے کچھ خاص شہیدوں کو اپنا میڈل ہدیہ کیا، ایثار اور استقامت کے مظہر کی حیثیت سے 'چفیے' کا استعمال اور چفیے پر خدا کا سجدہ، یہ سب بہت گرانقدر ہیں، یہ چیزیں عالمی رائے عامہ کی سطح پر معنویت اور عالمی جذبات کو پھیلاتی ہیں اور بہت گرانقدر ہیں۔

آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ ہمیں اس لحاظ سے خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ یہ فتوحات اور امید آفرینی صرف کھیل کے میدان تک نہیں ہیں، ہم علم کے میدان میں بھی ایسے ہی ہیں، ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی ایسے ہی ہیں اور ادب کے میدان میں بھی ایسے ہی ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
5 + 3 =