۶ آذر ۱۴۰۰ |۲۱ ربیع‌الثانی ۱۴۴۳ | Nov 27, 2021
رهبر انقلاب

حوزہ/ رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سال نو کے آغاز پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ چھے سال گزر جانے کے باوجود سعودی عرب اب تک یمن کے عوام کو جھکا نہیں سکا ہے، اور امریکا نے جال بن کر آل سعود کو یمن کی جنگ کے دلدل میں پھنسا دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے نئے شمسی سال کے آغاز میں اپنے خطاب میں پیداوار کے شعبہ میں رکاٹوں اور موانع کو برطرف کرنے پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا: اگر عوام میں خریدنے کی قدرت بڑھ جائے تو اس سے پیداوار میں مدد مل سکتی ہے۔ رہبر معظم ہر سال نئے سال کے آغاز میںم شہد مقدس کا سفر کرتے تھے اور حرم رضوی میں زائرین اور مجاورین کے اجتماع سے خطاب کرتے تھے لیکن کورونا وائرس اور طبی دستورات کی رعایت کی وجہ سے گذشتہ سال کی طرح اس سال بھی یہ سفر انجام پذير نہیں ہوسکا۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے نئے سال کے پہلے دن عوام سے ٹی وی چینلوں پر براہ راست خطاب میں نئے سال کے شعار کو بھی پیداوار کا شعار قراردیتے ہوئےفرمایا: نئے سال میں پیداوار ساتھ  پشتپناہی اور موانع کو برطرف کرنے پر زوردیا گیا ہے۔ یمن کی جنگ اوباما کی ڈیموکریٹ حکومت کے زمانے میں آل سعود نے شروع کی اور امریکا کے گرین سگنل پر کی۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکا نے انھیں اجازت دی اور ان کی مدد کی، بے شمار فوجی وسائل ان کے حوالے کیے۔ کس لیے؟ اس لیے کہ یمن کے نہتے عوام پر اتنے بم برسائيں کہ پندرہ دن میں یا ایک مہینے میں وہ ان کے سامنے جھک جائيں۔ انھوں نے غلطی کی!

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اب چھے سال ہو چکے ہیں اور وہ ایسا نہیں کروا سکے۔ مارچ کے یہی ایام تھے کہ یمن پر حملہ شروع ہوا تھا۔ اس دن سے چھے سال گزر چکے ہیں اور یہ لوگ یمن کے عوام کو جھکا نہیں سکے۔ امریکیوں سے میرا سوال یہ ہے کہ جس دن تم نے آل سعود کو یمن کی جنگ شروع کرنے کا گرین سگنل دیا تھا کیا تمھیں معلوم تھا کہ انجام کیا ہوگا؟

رہبر انقلاب اسلامی نے امریکیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم جانتے تھے کہ سعودی عرب کو کس دلدل میں پھنسا رہے ہو کہ اب وہ نہ تو اس میں باقی رہ سکتا اور نہ ہی باہر نکل سکتا ہے۔ اس کے لیے دو طرفہ مشکل ہے۔ نہ تو وہ جنگ کو روک سکتا ہے اور نہ ہی اسے جاری رکھ سکتا ہے، اس کے لیے دونوں صورتوں میں نقصان ہے۔

آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ تم امریکی جانتے تھے کہ سعودی عرب کو کس مصیبت میں دھکیل رہے ہو۔ اگر جانتے تھے اور پھر بھی تم نے ایسا کیا تو تمھارے حلیفوں کی بد نصیبی ہے کہ تم ان کے بارے میں اس طرح عمل کرتے ہو۔ اگر نہیں جانتے تھے تب بھی تمھارے حلیفوں پر وائے ہو جو تم پر یقین کرتے ہیں اور اپنے پروگراموں کو تمھارے حساب سے تیار کرتے اور آگے بڑھاتے ہیں جبکہ تم خطے کے حالات سے ناواقف ہو۔

آيۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا کہ علاقے کے تمام مسائل کے بارے میں امریکی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ اس وقت بھی وہ غلطی کر رہے ہیں۔ وہ صیہونی حکومت کی جو ظالمانہ حمایت کر رہے ہیں، غلط ہے۔ وہ شام میں غاصبانہ طریقے سے داخل ہو گئے ہیں شرق فرات میں وسیع پیمانے پر موجود ہیں، یہ یقینی طور پر غلط ہے اور یمن کے مظلوم عوام کی سرکوبی میں سعودی عرب کی حکومت کا ساتھ دینا بھی غلط ہے۔

رہبر انقلاب نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ فلسطین کے بارے میں امریکا کی پالیسیاں غلط ہیں، زور دے کر کہا کہ عالم اسلام میں مسئلۂ فلسطین کبھی فراموش نہیں ہوگا، یہ اسی بات پر خوش ہیں کہ دو چار حقیر حکومتیں ان سے، صیہونی حکومت سے رابطہ قائم کر لیں اور تعلقات کو معمول پر لے آئیں۔ ان کا کوئي اثر ہی نہیں ہے، دو تین غیر مؤثر حکومتوں کی وجہ سے امت مسلمہ مسئلۂ فلسطین کو فراموش نہیں کرے گی اور مسئلۂ فلسطین کو نظر انداز نہیں کرے گي، اسے امریکی جان لیں، یمن کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اپنی تقریر کے ایک دوسرے حصے میں امریکا کے شدید ترین دباؤ کی شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ، اس پچھلے احمق نے شدید ترین دباؤ کی اس پالیسی کو اس لیے تیار اور نافذ کیا تھا کہ ایران کو کمزور پوزیشن میں لے آئے اور پھر ایران کمزوری کے سبب مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے مجبور ہو جائے اور پھر وہ اپنے مطالبات کو ایران پر مسلط کر دے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ وہ تو دفع ہو گيا اور وہ بھی کتنی بے عزتی سے! اس کا جانا بھی خیر و عافیت کے ساتھ نہیں تھا بلکہ ذلت و رسوائي کے ساتھ تھا، وہ خود بھی ذلیل ہوا اور اپنے ملک کو بھی ذلیل کر گيا۔

آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اسی طرح زور دے کر کہا کہ شدید ترین دباؤ، اب تک تو ناکام ہی رہا ہے اور امریکی اس کے بعد بھی ہزیمت اٹھائیں گے، یہ لوگ بھی دفع ہو جائیں گے اور اسلامی جمہوریہ ایران پوری طاقت و سر بلندی کے ساتھ باقی رہے گا۔

انھوں نے اسی طرح ایٹمی معاہدے کے بارے میں کہا کہ ایٹمی معاہدے کے فریقوں کے ساتھ تعاون کے بارے میں ملک کے موقف کا صریحی طور پر اعلان کیا جا چکا ہے۔ اس موقف سے بالکل بھی نہیں ہٹنا چاہیے۔ اس موقف کا اعلان کیا جا چکا ہے اور اس پر اتفاق رائے بھی ہے۔ یہ موقف یہ ہے کہ امریکی، ساری پابندیوں کو ختم کریں، پھر ہم ان کی سچائي کو پرکھیں گے۔ اگر صحیح معنی میں پابندیاں ہٹ گئي ہوں گي تو پھر ہم ایٹمی معاہدے کے ذیل میں اپنی ذمہ داریوں کی تکمیل کی طرف لوٹ آئيں گے۔ یہ حتمی موقف ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ بعض امریکی اسی ایٹمی معاہدے کے سلسلے میں بھی کچھ باتیں کر رہے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ بعض امریکی کہہ رہے ہیں کہ آج کے حالات سنہ دو ہزار پندرہ-سولہ کے حالات سے کافی بدل چکے ہیں جب ایٹمی معاہدے پر دستخط ہوئے تھے، اس لیے ایٹمی معاہدے میں بھی تبدیلی ہونی چاہیے۔ میں بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ آج کے حالات سنہ دو ہزار پندرہ اور دو ہزار سولہ کے حالات سے کافی بدل ہو چکے ہیں لیکن حالات امریکا کے حق میں نہیں بدلے ہیں بلکہ ہمارے حق میں بدلے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سنہ دو ہزار پندرہ کا ایران، آج زیادہ طاقتور ہو چکا ہے، وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میں کامیاب ہوا ہے، اور اس نے خود اعتمادی حاصل کر لی ہے۔ تم امریکی سنہ دو ہزار پندرہ سے اب تک بے عزت ہوئے ہو۔

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکا میں ایک ایسی حکومت اقتدار میں آئي جس نے اپنی باتوں، اپنے عمل اور اپنے رویے سے اور پھر اقتدار سے ہٹنے کے طریقے تک سے تمھیں رسوا کیا۔ معاشی مشکلات نے تمھارے پورے ملک کو اپنے چنگل میں جکڑ لیا ہے۔ ہاں حالات بدلے ہیں لیکن تمھارے نقصان میں اور اگر ایٹمی معاہدے میں تبدیلی ہونی ہے تو اسے ان کے نہیں بلکہ ایران کی مرضی کے مطابق میں ہونا چاہیے۔

آیۃ اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اپنی آن لائن تقریر کے آخر میں کہا کہ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ وہ پہلے پابندیاں ہٹائيں تو میں نے سنا ہے کہ بعض افراد، دنیا کے بعض سیاستداں کہتے ہیں کہ جناب پہلے میں پہلے آپ، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ آپ کہہ رہے ہیں کہ پہلے امریکا، امریکا کہہ رہا ہے کہ پہلے آپ، دیکھیے بات پہلے میں پہلے آپ کی نہیں ہے۔ بات یہ ہے کہ ہم نے اوباما کے زمانے میں امریکیوں کی بات پر یقین کیا تھا اور جو کام ہمیں کرنے چاہیے تھے وہ ہم نے کیے تھے، ایٹمی معاہدے کی بنیاد پر کیے تھے، انھوں نے اپنی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کیا، یعنی صرف کاغذ پر کہا کہ پابندیاں اٹھا لی گئي ہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 12 =