اتوار 4 جنوری 2026 - 16:26
آئینۂ صبر و رضا: سیرتِ زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا

حوزہ/ حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا صبر کی وہ مکمل تصویر ہیں جس پر رضا کا نور سدا درخشاں رہا۔ وہ رضا کی وہ زندہ داستان ہیں جس کے ہر صفحے پر صبر کی روشنی جلوہ فگن ہے۔ تاریخ کے سفید ورق پر آپ کی ذات صبر و استقامت کے وہ فسوں طراز حروف ہیں جو زمانے کی تیز بارشوں میں بھی مٹائے نہیں مٹتے۔

حوزہ نیوز ایجنسی I

تحریر: مولانا مقداد علی علوی

تعارف نورانی حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا صبر کی وہ مکمل تصویر ہیں جس پر رضا کا نور سدا درخشاں رہا۔ وہ رضا کی وہ زندہ داستان ہیں جس کے ہر صفحے پر صبر کی روشنی جلوہ فگن ہے۔ تاریخ کے سفید ورق پر آپ کی ذات صبر و استقامت کے وہ فسوں طراز حروف ہیں جو زمانے کی تیز بارشوں میں بھی مٹائے نہیں مٹتے۔

گہوارۂ عصمت: پرورشِ آسمانی کا شاہکار

بمطابق روایات تاریخی، آپ سلام اللہ علیہا ۵ جمادی الاول ۵ ہجری، سیدۃ النساء فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہا کی گود میں رحمت بن کر، اور مولا علی علیہ السلام کے لیے زینت بن کر،آغوشِ عصمت و طہارت میں جلوہ افروز ہوئیں،

آپ کی پرورش اُس قدسی مرکز میں ہوئی جہاں وحی کا نزول ہوا، تقویٰ کی بلند دیواریں تھیں، اور معرفتِ الٰہی کے چراغ ہمہ وقت روشن تھے۔ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مہربان نگاہیں آپ کے وجود میں صبر کا بیج بوتی رہیں۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی آغوشِ پاک نے آپ کے دل میں رضا کا پودا پروان چڑھایا۔ حضرت علی علیہ السلام کے بحرِ بیکران علم نے آپ کی فکر کو عمق و گیرائی عطا کی۔ یہی وہ تربیت تھی جس نے آپ کو "عقیلة بنی ہاشم" بنایا، خاندانِ رسالت کی وہ تابندہ شخصیت جو حکمت و بلاغت میں یکتائی کی علامت بنیں.

علمی شخصیت: خاندانِ وحی کی وارثِ علم و حکمت

حضرت زینب سلام اللہ علیہا محض صبر و رضا کی پیکر ہی نہیں، بلکہ علم و حکمت کے اُس خزانے کی امین تھیں جو خاندانِ نبوت کی میراث تھا۔ آپ کو علومِ قرآنی، تفسیر، حدیث، فقہ اور کلام میں وہ ملکہ حاصل تھا جو آپ کے عصر میں خواتین کے لیے نادر نمونہ تھا۔ آپ کی علمی بصیرت کا اندازہ اُن خطبوں اور بیانات سے ہوتا ہے جو آپ نے کوفہ و شام کے درباروں میں دیے، جن میں آپ نے نہ صرف قرآنی آیات کی گہری تفسیر پیش کی، بلکہ شرعی استدلال کے ساتھ حق و باطل کا فرق واضح کیا۔ آپ کی فقاہت اور استدلال کی قوت نے یزیدی دربار کے نام نہاد علماء کو بھی گنگ کر دیا۔

بلاغت و خطابت: زبانِ حق کی ترجمان

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی بلاغت آپ کی علمی شخصیت کا ایک درخشاں پہلو تھی۔ آپ کے خطبے نہ صرف جذبات کی روانی تھے، بلکہ منطق، حقیقت بینی اور حکمت کے پہلوؤں سے مالا مال تھے۔ آپ نے اپنے خطبوں میں قرآنی مضامین، نبوی تعلیمات اور علوی حکمتوں کو اس طرح پرویا کہ ہر لفظ حق کا آئینہ دار بن گیا۔ شام کے دربار میں آپ کا خطبہ تاریخِ اسلام میں بلاغت و شجاعت کا شاہکار قرار پایا، جہاں آپ نے قرآن کی آیات کی روشنی میں ظلم و استبداد کے خلاف آواز اٹھائی۔ آپ کی زبان علم کی حامل، دلائل سے لیس اور ایمان کی حرارت سے معمور تھی۔

صبر کا پیکر، رضا کا آئینہ

آپ سلام اللہ علیہا کا صبر مجبوری کی سکت نہ تھی، بلکہ قدرتِ الٰہی پر کامل اعتماد کی صدا تھی۔ آپ کی رضا بے حسی کی تسلیم نہ تھی، بلکہ مشیتِ ربانی کے آگے سرِ اطاعت خم کرنے کا دلآویز امتزاج تھی۔ جب زندگی نے سنگلاخ امتحان پیش کیے، تو آپ کے وجود سے صبر و رضا کا وہ گوہرِ نایاب نمودار ہوا جس کی ضیا سے زمانہ تا امروز منور ہے۔

کربلا: صبر و رضا کا منظرِ عظیم

روزِ عاشور کی وہ شامِ خونین، جب میدانِ کربلا میں شہادتوں کے پھول کھلے، حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے صبر کا وہ بحرِ بے کراں بن کر دکھایا جس میں طوفانِ مصائب بھی گم ہو گئے۔ بھائی کی پیکرِ پاک پر آپ کی آنکھوں میں آنسو نہیں، بلکہ رضا کے نور کے چراغ تھے، جو یہ پیغام دے رہے تھے:

"اللہ کے لیے ہے جو اس نے لیا، اور اسی کے لیے ہے جو اس نے عطا کیا۔ ہر چیز اس کے پاس مقررہ وقت تک ہے۔ ہم صبر کرتے ہیں۔"

خیموں کی محافظ، یتیموں کی پناہ، قیدیوں کی رہنما، آپ نے ہر لحظہ صبر و رضا کا وہ زندہ نمونہ پیش کیا جس نے تاریخ کے دھارے کو ہی بدل دیا۔

دربارِ ظلم میں صدائے حق

کوفہ کے بازارِ غدر اور شام کے ایوانِ ستم میں جب آپ نے نعرۂ حق بلند کیا، تو وہ صبر کے بعد کی وہ قوت تھی جسے رضا کے نور سے توانائی ملی تھی۔ آپ کے ہر لفظ میں صبر کی گہرائی، ہر جملے میں رضا کی بلندی تھی۔ یزید کے دربار میں آپ کی آواد گرج بن کر گونجی:

جو کچھ ہوا، وہ ہمارے لیے عزت ہے، تمہارے لیے ذلت۔ یہ ظلم ہمارا وقار ہے، تمہاری رسوائی۔

یہ محض الفاظ نہ تھے، یہ صبر کے صحرا سے اٹھنے والی رضا کی بارش تھی، جس نے باطل کے قلعوں کو بہا دیا۔

آئینۂ صبر و رضا: ابدی درس

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت سے انسانیت کو یہ نورانی پیغام ملتا ہے:

صبر، یہ ہتھیار نہیں، طاقت ہے۔ یہ کمزوری نہیں، حکمت ہے۔

رضا، یہ شکست نہیں، فتح ہے۔ یہ انکسار نہیں، بلندی ہے۔

آپ سلام اللہ علیہا نے سکھایا کہ:

صبر دل کی وہ پختگی ہے جو طوفانوں میں بھی نہیں ٹوٹتی۔

رضا روح کی وہ بلندی ہے جو مصیبتوں میں بھی نہیں جھکتی۔

صبر و رضا کا امتزاج، یہ وہ کیمیا ہے جو زندگی کی تلخیاں بھی شہد میں بدل دیتی ہے۔

صبر و رضا کے آفاقی اسباق

تاریخ کے آئینے میں حضرت زینبِ کبریٰ سلام اللہ علیہا کی سیرت وہ شفاف سطح ہے جس میں صبر و رضا کی مکمل تصویر دکھائی دیتی ہے۔ آپ نے ثابت کیا کہ:

صبر، خدا کے فیصلے پر کامل یقین کا نام ہے۔

رضا، اسی یقین کے آگے سرِ تسلیم خم کرنے کا نام ہے۔

آج کے پرآشوب دور میں، جب انسانیت صبر کی قوت کھو چکی ہے اور رضا کے مفہوم سے ناآشنا ہے، سیرتِ زینبیہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ:

ہر آزمائش میں صبر کا گہوارہ پنہاں ہے، اور ہر صبر کے بعد رضا کا باغِ بہشت آباد ہوتا ہے۔

اختتام: ابدی مشعلِ راہ

حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی حیاتِ مبارکہ کا ہر لمحہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ صبر و رضا کے بغیر انسان فاتح نہیں، محض راہی ہے۔ آپ کی سیرت وہ آئینہ ہے جس میں دیکھ کر ہر دور کا انسان اپنے وجود میں صبر کی طاقت اور رضا کا نور پیدا کر سکتا ہے۔

شہادت مدافعہ مشن حسینی

مشہور قول کے مطابق، زینب کبرٰی سلام اللہ علیھا ۱۵ رجب ۶۲ ہجری، کو راہ حق کی ترجمانی کرتے ہوئے دار فانی کو الوداع فرماتی ہیں،مگر آپ کا پیغامِ صبر و رضا ہمیشہ زندہ و جاوید رہے گا۔

آپ کی زندگی کا ہر ورق ہمیں پکارتا ہے:

صبر کرو تو رضا ملے گی، رضا کا دامن تھامے رکھو گے تو قربانِ الٰہی بن جاؤ گے اور قربانِ الٰہی بنو تو تاریخ تمہارے قدم چومے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha