پیر 5 جنوری 2026 - 16:11
آیاتِ زندگی | اختلاف اور جھگڑے کے وقت ان آیات کو فراموش نہ کیجیے

حوزہ/ بہت سے فکری اور عملی اختلافات اس وجہ سے جنم لیتے ہیں کہ انسان مختلف اسباب کی بنا پر ایک ہی حقیقت کو صحیح طور پر سمجھنے سے قاصر رہتا ہے، لیکن قیامت کے دن جب تمام پردے ہٹ جائیں گے تو خالص اور بے آمیز حقیقت سامنے آ جائے گی، اور اللہ تعالیٰ جو ہر چیز کا کامل علم رکھنے والا ہے، نہ صرف ان اختلافات کے نتائج کو بلکہ ہر رائے اور ہر عمل کے پیچھے موجود نیتوں اور پوشیدہ پہلوؤں کو بھی سب کے سامنے آشکار کر دے گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی I اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے:

«إِلَی اللَّهِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیعًا فَیُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ فِیهِ تَخْتَلِفُونَ»(سورۂ مائدہ: 48)

ترجمہ: تم سب کو آخرکار اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے، پھر وہ تمہیں ان باتوں سے آگاہ کرے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔

«اللَّهُ یَحْکُمُ بَیْنَکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ فِیمَا کُنْتُمْ فِیهِ تَخْتَلِفُونَ» (سورۂ حج: 69)

ترجمہ: اور اللہ قیامت کے دن تمہارے درمیان ان باتوں میں فیصلہ فرما دے گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔

تشریح:

انسانی زندگی، آغاز سے انجام تک، خیالات کے ٹکراؤ اور حقائق کو سمجھنے میں اختلاف کا ایک وسیع میدان رہی ہے۔ یہ اختلافات کبھی تفرقے اور کبھی نزاع و جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اس فکری بھٹکاؤ کے درمیان، کلامِ وحی پوری قطعیت کے ساتھ انسان کو ایک بنیادی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے: اللہ کی طرف واپسی۔

بہت سے فکری اور عملی تنازعات کی جڑ یہ ہوتی ہے کہ انسان مختلف اسباب کی بنا پر ایک ہی حقیقت کو پوری طرح درک نہیں کر پاتا۔ مگر قیامت کے دن، جب تمام پردے ہٹ جائیں گے، خالص حقیقت آشکار ہو جائے گی، اور اللہ تعالیٰ جو ہر شے کا کامل علم رکھنے والا ہے، نہ صرف اختلافات کے نتائج بلکہ ہر رائے اور ہر عمل کے پیچھے چھپی نیتوں اور باطنی پہلوؤں کو بھی سب کے سامنے واضح کر دے گا۔

یہی حقیقت میں وہ حتمی آگاہی اور آخری فیصلہ ہے۔ اس دن اللہ ظاہر کر دے گا کہ کون لوگ اخلاص کے ساتھ حق کی تلاش میں تھے اور کون لوگ نفسانی خواہشات یا تعصب کے زیرِ اثر حق کے راستے سے ہٹ گئے۔

یہ آیات ہمیں فکری اور عملی تواضع کی دعوت دیتی ہیں۔ اگرچہ حق تک پہنچنے کے لیے اجتہاد اور کوشش کرنا ایک شرعی ذمہ داری ہے، مگر ایک مؤمن یہ جانتا ہے کہ آخری فیصلہ اس کے ہاتھ میں نہیں۔ یہی یقین انسان کو اپنی رائے کو مطلق سمجھنے اور دوسروں پر مسلط کرنے سے روکتا ہے، اور باہمی گفت‌وگو، برداشت اور تحمل کا دروازہ کھولتا ہے۔

یہ آیات ہمیں یہ اطمینان بھی دلاتی ہیں کہ حق تک پہنچنے کی کوئی بھی مخلصانہ کوشش—چاہے علمی میدان میں ہو یا عملی زندگی میں—اللہ کے ہاں ضائع نہیں ہوتی۔ اگر دنیا میں اس کوشش کا نتیجہ قبول نہ بھی کیا جائے، تو قیامت کے دن اس کی قدر و قیمت واضح ہو جائے گی۔

اور جو لوگ اختلاف کو تفرقہ اور جدائی کا ذریعہ بناتے ہیں، ان کے لیے یہ آیات ایک سنجیدہ تنبیہ ہیں کہ ایک دن ان کی نیتوں سے پردہ اٹھا دیا جائے گا، اور وہ بارگاہِ الٰہی میں ان دراڑوں اور فاصلے پیدا کرنے کے بارے میں جواب دہ ہوں گے جو انہوں نے لوگوں کے درمیان پیدا کیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha