منگل 6 جنوری 2026 - 05:37
اللہ تعالیٰ سورۂ حمد میں بندوں کی زبان میں کیوں گفتگو کرتا ہے؟

حوزہ/ سورۂ حمد اُن سورتوں میں شامل ہے جن میں کلام بندے کی زبان سے بیان کیا گیا ہے اور اسے اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے گویا خود انسان براہِ راست اللہ تعالیٰ سے گفتگو کر رہا ہو۔ اس کے ذریعے بندوں کو درست دعا اور صحیح عبادت کا طریقہ سکھایا گیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یہ شبہ کہ سورۂ حمد میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کی زبان میں کیوں بات کی ہے، دراصل قرآن کو محض احکام و ہدایات کی کتاب سمجھنے کی غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ قرآن صرف احکام کا مجموعہ نہیں کہ اس کی ہر آیت کا آغاز لازماً “قُل” (کہہ دیجیے) سے ہو۔ قرآن ایک مکمل ہدایت نامہ ہے جو انسان کی تربیت کے لیے مختلف اسالیب اور انداز میں گفتگو کرتا ہے۔

خود قرآن پر نظر ڈالیں۔ سورۂ نمل میں اللہ تعالیٰ ہُدہُد کی بات نقل فرماتا ہے:

أَلاَّ یَسْجُدُوا لِلَّهِ الَّذی یُخْرِجُ الْخَبْ‏ءَ فِی السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ یَعْلَمُ ما تُخْفُونَ وَ ما تُعْلِنُونَ اللَّهُ لا إِلهَ إِلاَّ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظیمِ؛ (نمل(۲۷)، آیت ۲۵-۲۶.)

“وہ اللہ کو سجدہ کیوں نہیں کرتے جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو، سب جانتا ہے۔ وہ اللہ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، عظیم عرش کا مالک ہے۔”

کیا اس کا مطلب یہ ہے "نعوذباللہ" کہ ہُدہُد نے قرآن لکھا؟ ہرگز نہیں! یہ اللہ کا کلام ہے جو ایک مخلوق کی گفتگو کو نقل کر رہا ہے۔

لیکن سورۂ حمد محض نقلِ قول نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ یہ دراصل اللہ کی طرف سے بندوں کو سکھایا گیا الہی درس ہے کہ بندہ اپنے رب سے کس طرح گفتگو کرے۔

یوں سمجھ لیجیے جیسے کوئی استاد اپنے شاگرد کو یہ سکھاتا ہے کہ رسمی خط کیسے لکھا جاتا ہے—وہ ایک نمونہ دیتا ہے، ایک قالب بنا کر دکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ حمد میں بالکل یہی کام کیا ہے: انسان کو سکھایا کہ وہ اپنے رب کی حمد کیسے کرے، اس کی وحدانیت کا اعتراف کیسے کرے، اور ہدایت کی دعا کس انداز میں مانگے۔

اگر اس سورت کے آغاز میں “قُل” آ جاتا تو کیا فرق پڑتا؟ ہم پھر بھی یہی الفاظ پڑھتے، لیکن ایک ذہنی واسطے کے ساتھ۔

جبکہ “قُل” کے بغیر ہم براہِ راست اللہ سے ہمکلام ہو جاتے ہیں، گویا خود اللہ تعالیٰ نے ہماری زبان کو ان کلمات کے لیے آمادہ کر دیا ہو۔

یہ اللہ کا عظیم لطف ہے۔ انسان خود نہیں جانتا کہ اس بے مثال رب کی تعریف کس طرح کرے یا اس سے سوال کیسے کرے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے خود معلم بن کر عبادت کا سب سے کامل اور حسین طریقہ سورۂ حمد کی صورت میں ہمیں عطا فرما دیا۔

اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ کہیں “قُل” کیوں آیا ہے اور کہیں کیوں نہیں؟ یہ قرآن کی بلاغت اور اسلوب کے وہ دقیق نکات ہیں جن سے علمِ معانی و بیان کے ماہرین واقف ہیں۔

اللہ کی حکمت ہمارے محدود فہم سے کہیں بلند ہے، مگر یہ جان لینا کافی ہے کہ سورۂ حمد بندے اور خدا کے درمیان گفتگو کا درس ہے۔ یہاں کوئی تضاد نہیں بلکہ یہ قرآن کی کامل ہدایت کا روشن ثبوت ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha