حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجتالاسلام والمسلمین نظری منفرد نے ایران کے شہر ساری میں حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے سورۂ شعرا کی آخری آیات کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ بظاہر ان آیات میں شعر اور شاعروں کی مذمت نظر آتی ہے، لیکن شانِ نزول اور آیتِ استثنا «إِلَّا الَّذِینَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ» پر توجہ دینے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن نے ایمان، حکمت اور حق پر مبنی پاکیزہ شاعری کو رد نہیں کیا۔
انہوں نے مزیود کہا کہ صدرِ اسلام بلکہ دورِ جاہلیت میں بھی حضرت ابوطالب علیہ السلام اور امیرالمؤمنین علی علیہ السلام جیسے عظیم شاعروں کا وجود ملتا ہے، جن کے اشعار توحید کے بلند مضامین اور رسالت کے دفاع سے لبریز ہیں۔ اسی طرح رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حسان بن ثابت جیسے شاعر کی حوصلہ افزائی فرمایا کرتے تھے تاکہ وہ اپنے اشعار کے ذریعے اسلام کے دفاع میں کردار ادا کریں۔
استادِ حوزۂ علمیہ نے تاریخی واقعات میں شاعری کے گہرے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کبھی ایک شعر یا ایک مصرعہ ایسا اثر رکھتا ہے جو تاریخ کے دھارے کو بدل دیتا ہے؛ جیسا کہ جنگِ جمل میں ایک شعر نے عوام کو متحرک کیا، یا فرزدق کے وہ اشعار جنہوں نے امام زین العابدین علیہ السلام کی مدح میں اہلِ بیت علیہم السلام کی حقیقی پہچان کو آشکار کر دیا۔
انہوں نے کمیت اسدی، سید حمیری اور دعبل خزاعی جیسے شاعروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان بزرگوں نے اہلِ بیت علیہم السلام کے معارف سے فیض یاب ہو کر ایسے اشعار تخلیق کیے جنہیں ائمۂ معصومین علیہم السلام نے سراہا اور بعض مواقع پر ان پر گریہ بھی فرمایا۔ یہ امر اس بات کی دلیل ہے کہ شعر اس وقت مذموم ہوتا ہے جب وہ گمراہی کے لیے استعمال ہو، لیکن جو شاعری حق، حکمت اور خالص معارف کی حامل ہو، وہ نہ صرف قابلِ مذمت نہیں بلکہ عبادت کے درجے میں اور معاشرتی تربیت کا ایک طاقتور وسیلہ ہے۔
حجتالاسلام والمسلمین نظری منفرد نے کہا کہ اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ شعر اور شاعری بذاتِ خود قابلِ مذمت نہیں؛ اصل معیار اس کا رخ اور اس کا محتوا ہے۔ وہ شاعر جو اپنی صلاحیتوں کو الٰہی معارف کے فروغ، اخلاق کی ترویج اور حق کے دفاع کے لیے بروئے کار لائیں، وہ قرآن کے بیان کردہ استثنا کے مصداق ہیں اور ان کا عمل قابلِ تحسین ہے۔
17:58 - 2026/01/05









آپ کا تبصرہ