حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ روحانیت بلتستان پاکستان کے زیرِ اہتمام ایّامِ بصیرت کے موقع پر مقالہ "بصیرتِ قرآنی رہبرِ معظمِ انقلاب کی نگاہ میں" پر ایک تنقیدی و تجزیاتی نشست منعقد ہوئی؛ جس میں علمائے کرام اور طلباء نے بھرپور شرکت کی۔

مقالہ نگار مولانا محمد بشیر دولتی نے ایک نہایت اہم موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا، جس میں رہبرِ معظمِ انقلاب کے قرآنی فہم، فکری زاویۂ نگاہ اور بصیرتِ قرآنی کے مختلف پہلوؤں کو علمی انداز میں واضح کیا گیا۔ مقالے میں فکری گہرائی، حوالہ جاتی استناد اور معاصر افکار و مختلف فتنوں کے تناظر میں تجزیہ پیش کیا گیا، جس کے باعث مقالہ حاضرین کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا۔

انہوں نے عصرِ حاضر میں رہبرِ معظم کے افکار سے آشنائی کو تمام نوجوانوں کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے، رہبرِ معظم کی سیاسی بصیرت اور استقامت کو نمونۂ عمل اور اسے تشیعِ جہاں سمیت عالمِ اسلام کے لیے فکری، شعوری، عزت اور کامیابی کا راستہ قرار دیا۔
حجت الاسلام ڈاکٹر محمد حسین چمن آبادی نے مذکورہ مقالے پر علمی نقد پیش کرتے ہوئے مقالے کی خصوصیات، شرائط، فکری ساخت، استدلالی قوت، موضوع سے وابستگی اور اسلوب کی روانی پر تفصیلی اور دقیق تعمیری نکات پیش کیے۔
انہوں نے مقالے کو ایک جدید موضوع پر عصرِ حاضر کی ضرورت کے مطابق اہم کاوش قرار دیتے ہوئے اس کی بعض کمی اور کوتاہیوں کی نشاندہی بھی کی، تاکہ مقالے کو مزید نکھارا جا سکے۔

مولانا نادم شگری نے مقالے کے اسلوب، زبان، تعبیرات اور ادبی حسن پر جامع تبصرہ پیش کرتے ہوئے مقالہ نگار کی کوششوں اور قلیل عرصے میں حاصل ہونے والی قلمی پختگی پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا، نیز ادبی و فنی پہلوؤں میں موجود چند کمی کوتاہیوں کی نشاندہی کی، تاکہ مقالے کی علمی و ادبی جہات مزید نکھر کر سامنے آ سکیں۔











آپ کا تبصرہ