تحریر: مولانا سید نجیب الحسن زیدی
حوزہ نیوز ایجنسی| اکیسویں صدی کی جنگیں اب صرف بارود اور بندوق کی جنگیں نہیں رہیں، بلکہ یہ “بیانوں”، “تاثر” اور “شناخت” کی جنگیں بن چکی ہیں۔ آج سلطنتیں میزائلوں سے کم اور میڈیا سے زیادہ بنتی اور ٹوٹتی ہیں۔ اس دور میں اصل میدانِ کارزار وہ نہیں جہاں فوجیں آمنے سامنے ہوں، بلکہ وہ ہے جہاں خیالات ٹکراتے ہیں، عقیدے متزلزل کیے جاتے ہیں اور امیدوں کو آہستہ آہستہ مایوسی میں بدلا جاتا ہے۔
یہی وہ نیا معرکہ ہے جسے دنیا Soft War کہتی ہے — ایک ایسی خاموش مگر گہری جنگ جو دل و دماغ کو نشانہ بناتی ہے، اور جس میں شکست کا اعلان بہت دیر سے سنائی دیتا ہے، مگر زخم بہت پہلے لگ چکے ہوتے ہیں۔
اسلامی انقلاب ایران چونکہ اپنی بنیاد میں فکری، اعتقادی اور تہذیبی انقلاب ہے، اس لیے وہ سب سے پہلے اسی جنگ کا ہدف بنتا ہے۔ کیونکہ جو نظام شعور بیدار کرتا ہو، وہ استعمار کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کے خلاف آج کی اصل لڑائی سرحدوں پر نہیں بلکہ ذہنوں کے اندر لڑی جا رہی ہے۔
جنگ نرم، نظر اور فریبِ نظر
ظاہری آنکھ سے دیکھا جائے تو آج کی دنیا میزائلز، ڈرونز، لڑاکا طیاروں کی طاقت، پابندیوں و محاصرے اور ناکہ بندی کی سیاست سفارتی کشمکش اور عسکری اتحادوں کا میدان دکھائی دیتی ہے، لیکن حقیقت میں اصل جنگ کہیں زیادہ گہری، پیچیدہ اور خاموش ہے۔ جو کچھ بین الاقوامی سطح پر نظر آرہا ہے محض دھوکا ہے فریب نظر ہے سچ تو یہ ہے کہ یہ وہ جنگ نہیں جس میں توپوں کی گھن گرج سنائی دے یا جس میں لاشیں گنی جائیں، بلکہ یہ ذہنوں، فکروں اور عقائد کو نشانہ بنانے والی جنگ ہے۔
اس جنگ میں دشمن آج گولیاں نہیں چلاتا، وہ خیالات میں شگاف ڈالتا ہے، یقین کو شک میں بدلتا ہے اور امید کو مایوسی میں ڈھالتا ہے۔ یہی وہ خطرناک معرکہ ہے جسے آج کی اصطلاح میں "جنگِ نرم" کہا جاتا ہے۔
اسلامی انقلاب، جو ابتدا ہی سے فکری، اعتقادی اور تہذیبی بنیادوں پر استوار ہوا، فطری طور پر اس جنگِ نرم کا سب سے بڑا ہدف ہے۔ کیونکہ یہ انقلاب صرف حکومت کی تبدیلی نہیں تھا، بلکہ نظامِ فکر کی تبدیلی تھا؛ ایسا نظام جو استعمار، استکبار اور ظلم کے مقابل “نہ” کہنے کی جرأت رکھتا ہے۔
رہبر انقلاب کا بصیرت افروز انتباہ
۱۳ دی ۱۴۰۴ھ ش (۳ جنوری ۲۰۲۶ء) کو رہبرِ معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہای (مدظلہ العالی) نے نہایت معنی خیز اور گہرے لہجے میں فرمایا:“جنگِ نرم سے ہوشیار رہنا چاہیے، دشمن کی طرف سے پھیلائی جانے والی شبهہ سازی اور افواہ سازی سے خبردار رہنا چاہیے۔ اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں، فلاں ٹی وی، فلاں ریڈیو، فلاں اطلاعاتی مراکز پر، تاکہ ایران کے خلاف جھوٹ اور بے بنیاد باتیں مسلسل پھیلائی جائیں۔ یہ سب بلا وجہ نہیں؛ اس کا ایک نہایت اہم مقصد ہے: وہ چاہتے ہیں کہ ملک کو اندر سے کمزور کر دیا جائے۔”
یہ جملے محض ایک وعظ یا وقتی انتباہ نہیں، بلکہ دشمن کی حکمتِ عملی کا پردہ چاک کرنے والا منشور ہیں۔ رہبر انقلاب نے واضح کر دیا کہ آج کا اصل محاذ، سرحدیں نہیں بلکہ ذہن ہیں؛ اور اصل حملہ، ٹینکوں سے نہیں، بلکہ اطلاعات سے ہو رہا ہے۔
دشمن کہاں کھڑا ہے؟
اگر کل دشمن ہماری سرحدوں پر تھا، تو آج وہ ہمارے گھروں میں، ہمارے موبائل فونز میں، اور ہمارے بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس میں موجود ہے۔
جعلی خبریں، ادھوری ویڈیوز، سیاق و سباق سے کاٹے گئے بیانات، اور جذباتی نعروں کے ذریعے ایک خاص بیانیہ مسلط کیا جا رہا ہے۔
یہ محض اتفاق نہیں کہ ہر بحران کے وقت، مخصوص میڈیا چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ایک ہی طرح کی زبان، ایک ہی طرح کی تصاویر اور ایک ہی طرح کے “تجزیے” پیش کرتے ہیں۔ یہ سب نفسیاتی جنگ کے منظم ہتھیار ہیں۔
ایران میں حالیہ مظاہرے: احتجاج یا منصوبہ بند انتشار؟
اسلامی جمہوریہ ایران میں گزشتہ چند دنوں بلکہ حالیہ برسوں کے دوران ہونے والے مظاہروں کو اگر محض “عوامی احتجاج” کے طور پر دیکھا جائے تو یہ ایک سادہ لوحی ہوگی۔ یقیناً ہر معاشرے میں مطالبات، شکایات اور مسائل ہوتے ہیں، اور اسلام بھی جائز احتجاج کے حق کو تسلیم کرتا ہے؛ لیکن سوال یہ ہے کہ:
ہر احتجاج میں ایک ہی طرح کے نعرے کیوں سنائی دیتے ہیں؟
کیوں مظاہروں میں اچانک مقدسات کو نشانہ بنایا جاتا ہے؟
کیوں مساجد، قرآنِ مجید، امام بارگاہوں اور دینی مراکز پر حملے ہوتے ہیں؟
کیوں عوامی املاک، ایمبولینسز، بسیں اور سرکاری دفاتر جلائے جاتے ہیں؟
یہ سب سوالات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ان مظاہروں میں بیرونی عناصر، تربیت یافتہ نیٹ ورکس اور مالی معاونت شامل رہی ہے۔
دشمن جانتا ہے کہ اسلامی انقلاب کی روح، مسجد، قرآن اور ولایت سے جڑی ہوئی ہے۔ لہٰذا جب وہ ان مقدسات کو نشانہ بناتا ہے، تو اس کا مقصد صرف نقصان پہنچانا نہیں، بلکہ عوام کے دلوں میں دین کے خلاف نفرت پیدا کرنا نوجوان نسل کو مذہب سے بدظن کرنا، انقلاب کی نظریاتی بنیادوں کو کمزور کرنا؛ یہی وہ مقام ہے جہاں احتجاج، فتنے میں بدل جاتا ہے۔
بیرونی میڈیا اور سرمایہ کاری کا کھیل
یہ بات اب کسی سے مخفی نہیں کہ ایران مخالف میڈیا نیٹ ورکس پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔ سیٹلائٹ چینلز، سوشل میڈیا بوٹس، جعلی اکاؤنٹس اور “آزاد صحافیوں” کے نام پر سرگرم نیٹ ورکس ایک ہی مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں:
مایوسی پھیلانا، اعتماد توڑنا اور نظام کے خلاف بدگمانی پیدا کرنا۔
یہ میڈیا نہ صرف واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے بلکہ اکثر اوقات جھوٹے مناظر، پرانی ویڈیوز اور جعلی بیانات کو حالیہ واقعات کے نام پر نشر کرتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ: “اگر حقیقت کو بدلا نہیں جا سکتا تو کم از کم اس کا تاثر بدل دو۔”
نوجوان نسل اور اصل معرکہ
دشمن کی ساری توجہ نوجوانوں پر مرکوز ہے۔ کیونکہ نوجوان نسل وہ قوت ہے جو یا تو انقلاب کو مستقبل کی ایک مضبوط جہت دے سکتی ہے یا فکری شکست کا شکار ہو سکتی ہے۔
آج کا نوجوان ہزاروں پوسٹس پڑھتا ہے سینکڑوں ویڈیوز دیکھتا ہے
درجنوں متضاد بیانیوں سے دوچار ہوتا ہے
اگر اسے میڈیا کے طریقہ کار یا اس سے جڑی چیزوں کا علم نہ ہو ، اگر اس کے اندر تجزیاتی صلاحیت نہ ہو تو وہ آسانی سے جذباتی نعروں کا شکار ہو سکتا ہے۔
شبهات کو آج فلسفیانہ زبان میں نہیں، بلکہ میمز، طنز، موسیقی اور جذباتی کہانیوں کے ذریعے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہی ان کی خطرناکی ہے۔
انقلابی جوان کی ذمہ داری
اس جنگ میں سپاہی وہ نہیں جو صرف بندوق اٹھائے، بلکہ وہ ہے جو:
سچ کو دلیل سے پیش کرے
جھوٹ کو منطق سے رد کرے
جذبات کے بجائے شعور کو بیدار کرے یونیورسٹی، مدرسہ، مسجد، میڈیا اور حتیٰ کہ سوشل میڈیا—یہ سب آج کے مورچے ہیں۔
خاموشی، خاص طور پر اس دور میں، غیر جانبداری نہیں بلکہ غفلت ہے۔
اعتماد اور تصویر سازی کی جنگ
دشمن صرف نظام کو نہیں گراتا، وہ تصویر بناتا ہے۔
ایران کو آج ایک ناکام، ٹوٹے ہوئے تنہا اور مایوس ملک کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
جب قوم اپنی ہی تصویر دشمن کی آنکھ سے دیکھنے لگے، تو شکست شروع ہو جاتی ہے۔ اسی لیے خود اعتمادی، تاریخی شعور اور انقلابی شناخت کی حفاظت ضروری ہے۔
امید جنگِ نرم کا زہر توڑنے والی دوا
قرآنِ مجید واضح اعلان کرتا ہے:“وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ”سستی نہ کرو، غمگین نہ ہو، تم ہی غالب رہو گے اگر ایمان رکھتے ہو۔
امید، ایمان اور آگاہی—یہ وہ ہتھیار ہیں جو کسی میڈیا ایمپائر کے پاس نہیں۔
ایرانی قوم نے تاریخ میں بارہا ثابت کیا ہے کہ جب یقین زندہ ہو، تو پابندیاں، سازشیں اور فتنہ انگیز مظاہرے بھی قوم کو توڑ نہیں سکتے۔
رہبر انقلاب کی حالیہ بیانات محض خطرے کی گھنٹی نہیں، بلکہ راستہ دکھانے والی روشنی ہیں۔
جسکا نچوڑ ہے: جنگِ نرم کا مطلب ہے حقیقت پر حملہ، اور اس کا دفاع ہے شعور کی پاسبانی۔
آج ہر جعلی خبر ایک گولی ہے، ہر منظم شبہ ایک وار ہے، اور ہر باخبر فرد ایک مضبوط قلعہ۔
جو قوم ایمان اور آگاہی کو ساتھ لے کر چلتی ہے، اسے کوئی بیرونی طاقت اندر سے کمزور نہیں کر سکتی۔کیونکہ آخرکار، سچ وہ مستحکم دیوار ہے جس سے ٹکرا کر مصنوعی ابال کے ذریعہ بنی جھوٹ کی ہر لہر ٹوٹ جاتی ہے۔
ممکن ہے کسی کے ذہن میں سوال پیدا ہو کہ سچائی سے ٹکرا کر اگر جھوٹ چکنا چور ہو جاتا ہے تو پھر دشمن کیوں مسلسل جھوٹے پروپیگنڈوں پر لاکھوں ڈالر خرچ کر رہا ہے سوال کو دوسرے انداز سے یوں بھی کیا جا سکتا ہے۔
سوال:
اگر دشمن ہمارے شہروں پر قبضہ نہیں کر سکا، تو وہ ہمارے ذہنوں پر قبضہ کیوں چاہتا ہے؟
جواب:
کیونکہ جو قوم جھوٹے پروپیگنڈوں کا شکار ہو کر اپنے ہی نظریے پر شک کرنے لگے، اسے ہرانے کے لیے پھر کسی حملے کی ضرورت نہیں رہتی۔
جو نوجوان اپنی تاریخ سے کٹ جائے، وہ مستقبل کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
اور جو امت اپنی شناخت دشمن کے میڈیا سے لے، وہ آہستہ آہستہ اپنی ہی روح کھو دیتی ہے۔
اسی لیے جنگِ نرم کا اصل دفاع بندوق نہیں، بلکہ بصیرت، یقین اور شعور ہے۔
اور جو قوم سچ کو پہچاننے کی آنکھ رکھتی ہو، وہ کبھی دشمن کے بنائے ہوئے آئینے میں خود کو نہیں دیکھتی۔
کیونکہ آخرکار…
جنگِ نرم میں جیتنے والی قوم وہی ہوتی ہے جو پہلے اپنے ذہن کو آزاد کر لے۔









آپ کا تبصرہ