تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| گزشتہ دنوں میں ایران کے بارے میں جو نقشہ عالمی میڈیا نے دنیا کے سامنے رکھا، وہ خبر کم اور خواہش زیادہ تھی؛ یہ حقیقت نہیں، بلکہ ایک خواب تھا اور وہ خواب ان آنکھوں نے دیکھا تھا جو سچ دیکھنے کی عادی نہیں رہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ پورے ایران میں ہنگامہ آرائی کرنے والوں کی تعداد دو ہزار سے بھی کم تھی، جبکہ اسی عرصے میں ایران کے مختلف شہروں میں لاکھوں افراد حکومت کی حمایت میں سڑکوں پر نکلے۔ فضا امریکہ مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے نعروں سے گونج رہی تھی، اور یہ مظاہرے عوامی شعور، سیاسی وابستگی اور قومی خودداری کا واضح اعلان تھے۔ مگر یہ سارے مناظر عالمی میڈیا کی آنکھوں سے اوجھل رہے؛ یہ ہجوم، یہ آوازیں، یہ چہرے کہیں نظر نہیں آئے—جیسے یہ سب کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ حقیقت کو اس طرح غائب کر دینا لاعلمی نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا انتخاب ہے۔
اسی دوران پورے ملک میں تقریباً پندرہ لاکھ نوجوان اعتکاف میں شریک تھے۔ خاموش، باوضو، سر بسجود، بیدار دل اور زندہ نظریے کے حامل یہ نوجوان ایران کے حقیقی مزاج کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہ فرق محض اعداد کا نہیں بلکہ فکر، سمت اور شعور کا فرق ہے—شور اور ایمان کے درمیان کھنچی ہوئی ایک واضح لکیر۔
مگر غیر ملکی میڈیا نے اس مکمل تصویر کو جان بوجھ کر الٹ دیا۔ دیندار، انقلابی اور باوقار کروڑوں ایرانیوں کو مکمل خاموشی کے ساتھ منظر سے ہٹا دیا گیا، اور چند سو مشتعل چہروں، چند درجن نعروں اور چند لمحوں کی افراتفری کو ’’قوم کی آواز‘‘ بنا کر پیش کیا گیا۔ یہ صحافت نہیں بلکہ فکری دھوکہ ہے، یہ تجزیہ نہیں بلکہ نفسیاتی یلغار ہے۔ قرآن پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر شور مچانے والوں کی پیروی کی جائے تو وہ انسان کو حق کے راستے سے بھٹکا دیتے ہیں۔
یہ وہی میڈیا ہے جو فلسطین کی لاشوں پر خاموش رہتا ہے، مگر ایران کے ایک جلتے ہوئے کوڑے دان یا ٹوٹے ہوئے شیشے پر سینکڑوں تجزیے اور مضامین لکھ دیتا ہے۔ یہ وہی میڈیا ہے جو عبادت میں کھڑے لاکھوں نوجوانوں کو نہیں دیکھتا، مگر چند گھنٹوں کی ہنگامہ آرائی میں انقلاب تلاش کر لیتا ہے۔
اگر میڈیا کے اس پروپیگنڈے میں ذرّہ برابر بھی حقیقت ہوتی تو ایران میں اسلامی جمہوری نظام کب کا دم توڑ چکا ہوتا؛ مگر فریب کے سوداگر اس سچ کو تسلیم کرنے پر آج بھی آمادہ نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ قومیں سوشل میڈیا کے وقتی ٹرینڈز سے نہیں بلکہ زمینی حقائق اور نظریاتی بنیادوں سے چلتی ہیں۔ جو نظام دینِ الٰہی، سنتِ رسالت اور عدالتِ علیؑ کے اصولوں پر قائم ہو، جو عبادت، نظم اور واضح فکر سے جڑا ہوا ہو، وہ چند نعروں، افواہوں اور عارضی ہنگاموں سے نہیں ڈھہ جاتا۔ ایران کی اکثریت آج بھی جانتی ہے کہ فتنہ ہمیشہ شور مچاتا ہے، مگر ایمان خاموشی کے ساتھ تاریخ کا رخ موڑ دیتا ہے۔ اسی لیے استعماری اور شیطانی طاقتیں یہ خواب بار بار دیکھتی ہیں، مگر وہ خواب کبھی تعبیر کی دہلیز تک نہیں پہنچ پاتا۔
اور بے شرمی کی حد تو تب ہوتی ہے جب یہی نام نہاد تجزیہ کار اور دلال گودی میڈیا، جو چند سکوں کے عوض اپنی غیرت، اپنا ضمیر اور اپنی ساکھ بیچ چکا ہے، انہی حقائق کے انکار پر بضد نظر آتا ہے۔ انہیں نہ سچ سے غرض ہے، نہ عوام سے؛ ان کا قبلہ مفاد ہے اور ان کا دین اشتہار۔ چنانچہ وہ ایسی ایسی من گھڑت کہانیاں تراشتے ہیں کہ انسان پناہ مانگے—افسانے، قیاس آرائیاں اور زہریلے بیانیے، جن کا مقصد خبر دینا نہیں بلکہ ذہنوں کو مسموم کرنا ہے۔
ایک اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کچھ لوگ ہر ہنگامے پر شیطانی خوشی میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اور کچھ سادہ دل ہر افواہ پر بے جا خوف کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دونوں کے لیے ایک ہی پیغام ہے: خبروں کے شور میں نہیں، حقائق کی روشنی میں دیکھیں؛ ویڈیوز کے ہنگامے میں نہیں، اکثریت کے عمل میں سچ تلاش کریں؛ نعروں میں نہیں، قوم کی سمت میں فیصلہ پہچانیں۔ قرآن کی صاف ہدایت ہے کہ جب کوئی مشکوک خبر آئے تو تحقیق لازم ہے۔
آخر میں حقیقت یہی ہے کہ ایران کو ہنگاموں سے نہیں بلکہ اعتکاف جیسے روح پرور مناظر اور یونیورسٹیوں میں جمعہ اور دیگر اجتماعات سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ ملک نعروں سے نہیں بلکہ سجدوں سے اپنی شناخت قائم رکھتا ہے۔ جو میڈیا اس حقیقت کو چھپاتا ہے، وہ ایران کو نہیں بلکہ خود کو بے نقاب کرتا ہے۔ یہ وقت خوش فہمیوں کا نہیں بلکہ بصیرت کا ہے، افواہوں کا نہیں بلکہ شعور کے امتحان کا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ شور مچانے والے تھک جاتے ہیں، مگر خاموش اکثریت ہی آخرکار فیصلہ لکھتی ہے۔









آپ کا تبصرہ