حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دہائیوں میں ثقافتی یلغار کے منفی نتائج میں سے ایک، غیر عفیفانہ طرزِ زیست کے بعض مظاہر کا پھیلاؤ ہے جس میں سوشل میڈیا اور سائبر اسپیس پر حاوی مخصوص حالات و شرائط بھی اس ناپسندیدہ رجحان میں مؤثر رہے ہیں۔
اس دوران جو بات اہم ہے وہ یہ کہ پاکیزہ اور اخلاقی طرزِ زندگی کے فروغ کے لیے ملک کی تمام فکری، ثقافتی اور تبلیغی صلاحیتوں خصوصاً حوزہ اور روحانیت کے ادارے سے بھرپور استفادہ کیا جانا چاہیے۔
حوزہ و یونیورسٹی کے استاد حجت الاسلام سید محمود موسوی حسب نے اس سلسلہ میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ایسے دور میں جب مغربی طرزِ زندگی دینی فضائل کے بنیادی چیلنج کے طور پر سامنے آئے ہیں، حوزہ علمیہ کے ہمہ جہتی کردار کو نظریاتی مبانی سے لے کر عملی فعالیت تک واضح کرنا ایک ضروری اور ناگزیر امر ہے۔ اس سلسلے میں مختلف سطحوں پر حوزہ کے اہلِ فکر اور اساتذہ کے نظریات سے استفادہ کرتے ہوئے سنجیدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے اور موجود تمام صلاحیتوں اور امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا: علمائے کرام اور حوزہ علمیہ، ائمہ اطہار علیہم السلام کے علوم کے وارث اور معارفِ دینِ اسلام کے تحفظ اور اشاعت کے اصل متولی کی حیثیت سے اس تاریخی ذمہ داری کے مرکز میں ہیں اور یہ بات مدنظر رہنی چاہیے کہ اس حوالے سے حوزہ علمیہ کا کردار کوئی معمولی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کی بنیادی رسالت میں رچا بسا ہے۔
مؤسسه امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے رکنِ علمی ڈاکٹر سید حسین شرف الدین نے بھی عفیفانہ اور اخلاقی طرزِ زندگی کی ازسرِنو تعریف اور ترویج میں حوزاتِ علمیہ کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا: یہ بات مسلّم ہے کہ حوزاتِ علمیہ اور روحانیت ہمیشہ تبلیغ، ثقافتی ترویج، ثقافتی تنقید اور اصلاح کے میدان میں پیش پیش رہی ہیں اور روایتی معاشرے میں مرجعیت کے مقام اور کسی مؤثر حریف کی عدم موجودگی کے باعث یہ کردار مزید نمایاں رہا ہے۔
انہوں نے کہا: گذشتہ دہائیوں میں معاشرے کے بعض حصوں میں سیکولرائزیشن کے رجحان، فکری و ثقافتی رجحانات کی کثرت، اجتماعی اور سماجی میڈیا، ثقافتی شعبوں کی تخصصی صورت حال اور غیرملکی ثقافتی لہروں کے بے روک ٹوک داخلے جیسے عوامل کی وجہ سے ثقافتی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں علماء کی ہدفمند شرکت کچھ محدود ہوئی ہے تاہم، علماء اپنی تاریخی حیثیت، معاشرے میں مذہب کی مقدس حیثیت، تبلیغی پلیٹ فارمز اور اسلامی نظام کے قیام کے پشت پناہی کے سہارے اب بھی ایک نمایاں کردار اور بہترین اثر رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر سید شرف الدین نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا: موجودہ دور میں ایمانی اور متشرعانہ طرزِ زندگی کی ترسیم کو چیلنجز کا سامنا ہے لیکن اس کے باوجود حوزاتِ علمیہ اپنے تاریخی پس منظر اور دستیاب وسائل کے سہارے آج بھی معاشرے کو حیاتِ طیبہ کی سمت رہنمائی فراہم کرنے میں اسٹریٹجک کردار ادا کر سکتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ