اتوار 15 فروری 2026 - 15:35
حوزہ علمیہ دین اور معارفِ الٰہی کی علمی پیداوار کا مرکز ہے

حوزہ / حوزہ علمیہ کے مدیر نے اسلامی علوم کے دائرے میں علم‌سنجی کے نظام کی تشکیل اور حوزہ کی محوریت میں «کتابِ سالِ دین» کے اجرا کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ان دونوں منصوبوں کو حوزہ کے اسٹریٹجک اور تاخیر کا شکار پروجیکٹس قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے مدیر آیت اللہ علی رضا اعرافی نے مدرسہ امام موسیٰ کاظم (ع) قم میں منعقدہ ستائیسویں ہمایشِ کتابِ سالِ حوزہ کے منتخب افراد سے صمیمی نشست میں زیرِ غور بعض پروگراموں اور پروجیکٹس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حوزہ کی مدیریت کی ذمہ داری سنبھالنے کے آغاز سے ہی اپنے ساتھیوں کی کوششوں سے درجنوں نئے پروگراموں کے ساتھ ساتھ بعض اہم تصورات اور علمی پروجیکٹس بھی پیش کیے گئے جن میں سے کچھ ابھی عملی مرحلے تک نہیں پہنچ سکے یا ادھورے رہ گئے ہیں۔

حوزہ علمیہ دین اور معارفِ الٰہی کی علمی پیداوار کا مرکز ہے

انہوں نے ان اہم پروگرامز میں سے ایک «اسلامی علوم میں علم‌سنجی کے نظام» کے قیام کو قرار دیتے ہوئے کہا: آج ملک میں دینی کتب کی جانچ اور درجہ‌بندی کے لیے بعض طریقۂ کار موجود ہیں لیکن جو چیز موجود نہیں وہ اسلامی علوم کے میدان میں علمی پیداوار کی علمی سنجش اور درجہ‌بندی ہے جس کی قیادت خود حوزہ ہائے علمیہ کریں۔

حوزہ علمیہ کے مدیر نے کہا: حوزہ علمیہ دین اور معارفِ الٰہی کی علمی پیداوار کا مرکز ہے۔ حوزہ کو چاہیے کہ اسلامی علوم کے دائرے میں اپنے مخصوص اشاریے اور درجہ‌بندی کا نظام خود تیار کرے اور نافذ کرے؛ جس طرح دنیا میں مختلف میدانوں کے لیے علمی درجہ‌بندی کے نظام موجود ہیں اسی طرح اسلامی علوم میں بھی یہ کام حوزہ کی ابتکار اور مدیریت سے انجام پانا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha