تحریر: عبداللہ فاروقی
حوزہ نیوز ایجنسی | میں ایک قدیم دینی مدرسے کی ان چار دیواریوں میں پلا بڑھا ہوں جہاں قال اللہ و قال الرسول ﷺ کی صدائیں گونجتی ہیں۔ بچپن سے ہی کتبِ احادیث میں ایک حدیث پڑھ کر اکثر ٹھٹھک جایا کرتا تھا۔ یہ حدیث امام بخاریؒ اور امام مسلمؒ نے نقل کی ہے، جس کے الفاظ کچھ یوں ہیں:
"لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ (وفی روایۃ: الْعِلْمُ) عِنْدَ الثُّرَيَّا، لَنَالَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ"
(ترجمہ: اگر ایمان (یا علم) ثریا ستارے کے پاس بھی چلا جائے، تو ان (اہلِ فارس) میں سے کچھ لوگ اسے حاصل کر لیں گے۔)
میں اکثر سوچتا تھا کہ اس "علم" سے مراد شاید صرف فقہ، حدیث یا تصوف کا علم ہے، جس کی خدمت ماضی میں امام بخاریؒ اور امام ابوحنیفہؒ جیسے اکابرین نے کی لیکن آج جب میں دورِ حاضر کے عالمی منظر نامے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی سائنسی و ٹیکنالوجیکل پیشرفت کو دیکھتا ہوں تو میرے ذہن کے بند کواڑ کھلنے لگے ہیں۔ مجھے سمجھ آیا کہ حضور ﷺ کی نگاہِ نبوت صرف ماضی ہی نہیں بلکہ مستقبل کے ان "سائبر وارئیرز" کو بھی دیکھ رہی تھی جو ثریا (خلا) میں بچھے جالوں کو اپنی ذہانت سے مسخر کریں گے۔
ڈیجیٹل ثریا اور اسٹار لنک کا چیلنج
حالیہ برسوں میں ہم نے دیکھا کہ جب استعماری طاقتوں نے ایران کے داخلی استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے ایلون مسک کی 'اسٹار لنک' سیٹلائٹس کا سہارا لیا تو بظاہر ایسا لگتا تھا کہ زمین پر موجود کوئی بھی طاقت خلا سے آنے والے اس ڈیجیٹل سیلاب کو نہیں روک سکے گی۔ آسمان پر ہزاروں سیٹلائٹس کا ایک ایسا جال بچھا دیا گیا جسے "ناقابلِ شکست" قرار دیا جا رہا تھا۔
لیکن پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ قوم، جس کے بارے میں صادق و امین ﷺ نے خوشخبری دی تھی، میدان میں اتری۔
ایران کے سائنسدانوں نے صرف تین دنوں کے اندر اس پیچیدہ ترین سیٹلائٹ نیٹ ورک کی فریکوئنسیوں کو ٹریس کیا اور ایک ایسی الیکٹرانک جنگ لڑی کہ وہ سگنلز جو ثریا کی بلندیوں سے زمین پر فتنے پھیلا رہے تھے، وہیں دم توڑ گئے۔
یہ واقعہ محض ایک فوجی دفاع نہیں تھا بلکہ اس حدیثِ پاک کی عملی تفسیر تھی کہ "اگر علم ثریا پر بھی ہوگا، تو یہ لوگ اسے حاصل کر لیں گے۔"
ایران: علمی و سائنسی ترقی کا مینار
آج کا ایران صرف جذبات کا نام نہیں بلکہ وہ علم و حکمت کا ایک ایسا مرکز بن چکا ہے جو رہبرِ معظم سید علی خامنہ ای کی مدبرانہ قیادت میں شاہراہِ ترقی پر گامزن ہے۔
رہبرِ معظم نے ہمیشہ "تولیدِ علم" (Knowledge Production) پر زور دیا ہے، جس کا نتیجہ ہے کہ آج ایران نینو ٹیکنالوجی اور اسٹیم سیلز میں دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں شامل ہے، میڈیکل سائنس اور نیوکلیئر انرجی میں خود کفیل ہو چکا ہے اور اب سائبر اسپیس و ایرو اسپیس میں سپر پاورز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہا ہے۔
اہل سنت اور محبتِ ایران
بطور ایک طالبِ علمِ اہل سنت، میری ایران سے محبت کسی مسلکی تعصب پر مبنی نہیں بلکہ اس قرآنی حکم پر مبنی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "وآخرون منھم لما یلحقوا بھم" (اور دوسروں کے لیے بھی جو ابھی ان سے نہیں ملے)۔ جب صحابہؓ نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ تو حضور ﷺ نے حضرت سلمان فارسیؓ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ان کی قوم کی نشاندہی فرمائی۔
ہمارے پیارے نبی ﷺ کی نسبت جس قوم سے جڑ جائے، اس سے محبت کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ آج جب عالمِ اسلام مجموعی طور پر ٹیکنالوجی کے لیے مغرب کا محتاج ہے، ایسے میں ایران کا سر اٹھا کر کھڑا ہونا ہر مسلمان کے لیے باعثِ فخر ہے۔
اختتامیہ
آج مجھے اس حدیث کا مفہوم اپنے مدرسے کی کتابوں سے نکل کر آسمان کی وسعتوں میں چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ میں یہ سمجھ چکا ہوں کہ اسلام صرف تسبیح و مصلے تک محدود نہیں، بلکہ یہ کائنات کی ہر لہر اور ہر ستارے پر کمند ڈالنے کا نام ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عالمِ اسلام کے اس علمی قلعے کی حفاظت فرمائے اور رہبرِ معظم جیسے مدبر قائدین کا سایہ ہم پر سلامت رکھے، جنہوں نے امت کو دوبارہ "ثریا" تک پہنچنے کا راستہ دکھایا۔









آپ کا تبصرہ