ہفتہ 3 جنوری 2026 - 17:55
پوری طاقت سے دشمن کے خلاف ڈٹ جائيں گے اور عوام کے ساتھ مل کر اسے دھول چٹا دیں گے

حوزہ/ رہبر انقلاب اسلامی نے مولی الموحدین امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کے یوم ولادت با سعادت اور الحاج قاسم سلیمانی، ابو مہدی المہندس اور ان کے دیگر ساتھیوں کی چھٹی برسی کے موقع پر سنیچر 3 جنوری 2026 کی صبح بارہ روزہ جنگ میں شہید ہونے والوں (شہدائے اقتدار) کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی نے مولی الموحدین امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام کے یوم ولادت با سعادت اور الحاج قاسم سلیمانی، ابو مہدی المہندس اور ان کے دیگر ساتھیوں کی چھٹی برسی کے موقع پر سنیچر 3 جنوری 2026 کی صبح بارہ روزہ جنگ میں شہید ہونے والوں (شہدائے اقتدار) کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔

آيت اللہ خامنہ ای نے امیر المومنین کے یوم ولادت کو تاریخ کا ایک بے نظیر دن بتایا اور کہا کہ امام علی کی عدیم المثال خصوصیات میں سے آج ہمیں ان کی انصاف اور تقوی جیسی دو خصوصیات کی زیادہ ضرورت ہے۔

انھوں نے گزشتہ ہفتے تاجروں اور کاروباریوں کے اجتماعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تاجر اور کاروباری، نظام اور اسلامی انقلاب کے سب سے زیادہ وفادار طبقوں میں شامل ہیں بنابریں بازار اور کاروباری کے نام پر اسلامی جمہوریہ کے خلاف کھڑا نہیں ہوا جا سکتا۔ انھوں نے قومی کرنسی کی قدر میں گراوٹ پر کاروباریوں کے اعتراض کو، جس کی وجہ سے کام کاج میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے، ایک صحیح اعتراض بتایا اور کہا کہ کاروباری صحیح کہتا ہے کہ وہ ایسے حالات میں کام نہیں کر سکتا، اس بات کو ملک کے ذمہ داران بھی تسلیم کرتے ہیں اور صدر محترم اور دیگر اعلی عہدیداران بھی اس مشکل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔

رہبر انقلاب نے اسی کے ساتھ کہا کہ جو بات ناقابل قبول ہے وہ دشمن کے ایجنٹوں یا بعض بہکائے گئے لوگوں کا کاروباریوں کی پشت پر کھڑا ہونا اور اسلام، ایران اور اسلامی جمہوریہ کے خلاف نعرے لگانا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اعتراض کرنا صحیح ہے لیکن اعتراض اور ہنگامہ آرائی میں فرق ہے، کہا کہ عہدیداران کو اعتراض کرنے والوں سے بات کرنی چاہیے لیکن فساد اور ہنگامہ برپا کرنے والے سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور اسے اس کی جگہ بٹھا دینا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ یہ بات بالکل بھی قابل قبول نہیں ہے کہ مومن، سالم اور انقلابی کاروباریوں کے پیچھے، ملک میں تخریب کاری اور بدامنی پھیلانے کا ارادہ رکھنے والے کچھ لوگ مختلف ناموں سے چھپ جائيں اور ان کے اعتراض سے غلط فائدہ اٹھا کر ہنگامہ آرائی کریں۔ انھوں نے دشمن کی جانب سے مسلط کیے جانے والے اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جب انسان کو یہ محسوس ہو کہ دشمن، آمرانہ طور پر کوئی چیز ملک، حکام، حکومت اور قوم پر مسلط کرنا چاہتا ہے تو اسے پوری طاقت کے ساتھ دشمن کے خلاف ڈٹ جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ہم دشمن کے مقابلے میں نہیں جھکیں گے اور خداوند عالم پر توکل کرتے ہوئے اور عوامی حمایت پر بھروسہ کرتے ہوئے ان شاء اللہ خداوند عالم کی توفیق سے دشمن کو دھول چٹا دیں گے۔

آيت اللہ خامنہ ای نے عوام اور خاص طور پر حکام کی جانب سے امیر المومنین علیہ السلام کی سیرت کی پیروی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علوی انصاف، ملک کی سب سے واجب اور سنجیدہ ضرورت ہے اور پوری تاریخ کے شیعوں کے برخلاف آج ہمارے پاس عدل و انصاف کا مطالبہ اور اسے قائم نہ کرنے کا کوئی بہانہ نہیں ہے کیونکہ حکومت، اسلامی جمہوریہ اور علوی نظام ہے۔ انھوں نے پیغمبر اکرم کے دور میں اپنی حکمرانی کے دور میں بھی امام علی کے تمام فوجی مقابلوں میں فاتح رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو فریب دینے اور ان کی حوصلہ شکنی کے لیے شکست خوردہ دشمنوں کے مختلف حیلے، بہت سے مواقع پر امام علی علیہ السلام کے اہداف کے عملی جامہ پہننے میں رکاوٹ بن گئے۔

انھوں نے افواہیں پھیلانے اور جھوٹ، فریب اور اسی طرح کے دوسرے حربوں کے استعمال کو، جنھیں آج کی زبان میں نرم جنگ یا سافٹ وار کہا جاتا ہے، اُس وقت کے معاشرے میں لوگوں میں شک و شبہ پیدا کرنے اور ان کے جوش و جذبے کو ختم کرنے کے لیے مولائے متقیان کے دشمنوں کی پالیسی بتایا اور کہا کہ جب لوگ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں تو اہداف کو عملی جامہ پہنانا ناممکن ہو جاتا ہے کیونکہ سنت الہی کی بنیاد پر کام، لوگوں کے ہاتھ میں ہے اور انھیں کے ذریعے انجام پاتا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے نرم جنگ میں دشمن کا ہدف لوگوں کا جذبہ چھین لینا، انھیں مایوس کر دینا اور قوم میں تذبذب پھیلانا بتایا اور کہا کہ جس طرح سے امیر المومنین کے زمانے میں افواہوں اور جھوٹ کا بازار گرم کر کے لوگوں میں بدگمانی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی اسی طرح آج بھی بالکل وہی حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، البتہ ایرانی قوم نے دکھا دیا ہے کہ وہ سخت میدانوں میں اور جہاں بھی اس کی موجودگي اور مدد کی ضرورت ہوتی ہے وہ پوری طاقت سے کھڑی رہتی ہے اور دشمن کو مایوس کر دیتی ہے۔

انھوں نے ایک دن میں تین سیٹیلائٹ فضا میں بھیجنے اور ائیرواسپیس، بایو ٹیکنالوجی، میڈیکل، معالجے، نینو ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور میزائیلی صنعت سمیت مختلف سائنسی شعبوں میں ملک کی زبردست پیشرفت کو ایرانی قوم اور ایران کے غیر معمولی صلاحیت والے جوانوں کے عظیم کاموں کے کچھ نمونوں کے طور پر پیش کیا۔

آيت اللہ خامنہ ای نے بارہ روز جنگ میں دشمن کی جانب سے جنگ روکے جانے کی درخواست کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ وہ چیز جو اس بات کا سبب بنی کہ دشمن جنگ روکنے کی درخواست کرے اور اس کے بعد بھی یہ پیغام دے کہ ہم آپ کے ساتھ لڑنا نہیں چاہتے، ایرانی قوم کی طاقت اور توانائی ہے۔ انھوں نے اسی کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ہمیں خبیث، فریبی اور جھوٹے دشمن پر بالکل بھی اعتماد نہیں ہے۔ عوام نے بارہ روز جنگ میں خود ہی امریکا کی حقیقت کو دیکھ لیا۔ یہاں تک کہ جو لوگ، ملک کے مسائل کا حل، امریکا سے مذاکرات کو سمجھتے تھے وہ بھی سمجھ گئے کہ مذاکرات کے دوران ہی امریکی حکومت، جنگ کا منصوبہ بنانے میں مصروف تھی۔

رہبر انقلاب نے دشمن کی نرم جنگ، افواہیں پھیلانے اور شک و شبہے کا ماحول پیدا کرنے کے مقابلے میں چوکنا رہنے کو ضروری بتایا اور کہا کہ ان کا ہدف ملک کو کمزور کرنا اور بارہ روزہ جنگ کے دوران دکھائی دینے والے معجز نما اتحاد کو توڑنا ہے۔ بنابریں سب سے اہم مسئلہ، دشمن کی دشمنی اور اندرونی اتحاد پر توجہ دینا ہے جسے قرآن کے لفظوں میں "اَشِدّاءُ عَلَی الکُفّارِ رُحَماءُ بَینَھُم" (کافروں کے لیے سخت گير اور آپس میں مہربان) کہا جاتا ہے۔

انھوں نے اپنے خطاب کے ایک دوسرے حصے میں تیرہ رجب اور شہید الحاج قاسم سلیمانی کی برسی کے ایک ہی دن پڑنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایمان، اخلاص اور عمل، اس عزیز شہید کی تین نمایاں خصوصیات تھیں جو ہمارے زمانے کے ایک جامع اور کامل انسان شمار ہوتے تھے۔ شہید سلیمانی، اخلاص الہی والے انسان تھے اور اپنے نام و نمود یا دوسروں کو خوش کرنے کے لیے کوئی کام نہیں کرتے تھے۔ انھوں نے تمام ضروری میدانوں میں شہید قاسم سلیمانی کی موجودگي کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بعض لوگوں کے برخلاف جو بات کو خوب سمجھتے اور خوب باتیں کرتے ہیں لیکن کوئی قدم نہیں اٹھاتے، تمام ضروری میدانوں میں موجود رہتے تھے، چاہے وہ کرمان میں انقلاب کی حفاظت، انقلاب کی راہ کی ہدایت اور شر پسندوں سے مقابلہ ہو یا قدس فورس، دفاع حرم، داعش سے مقابلہ یا دوسرے میدان ہوں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha