اتوار 4 جنوری 2026 - 14:41
حقیقی اور سپر طاقت صرف خدا کی ہے / طبس سے ونزویلا تک عبرت آموز سبق، آیت اللہ عباس کعبی

حوزہ / آیت اللہ عباس کعبی نے ایک تجزیاتی مضمون میں قرآن کریم کی روشنی میں حقیقی طاقت کے مفہوم پر روشنی ڈالی ہے۔ ان کے مطابق قرآن کریم واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ حقیقی طاقت صرف خداوند متعال کی ہے اور دنیا کی تمام ظاہری قوتیں اسی کے ارادے کے تابع ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس خبرگان رہبری کے پریذائیڈنگ بورڈ کے رکن آیت اللہ عباس کعبی نے ایک تحریر میں لکھا ہے کہ:

جدید مادی دنیا میں طاقت کو اسلحہ، فوجی ساز و سامان اور ٹیکنالوجی کے پیمانے سے ناپا جاتا ہے حالانکہ قرآنی منطق کے مطابق غلبہ اور اقتدار صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ «وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَیٰ أَمْرِهِ» (یوسف، ۲۱)۔ جو طاقتیں خود کو ناقابلِ شکست ظاہر کرتی ہیں تاریخ میں وہی سب سے زیادہ شکست کا سامنا کرتی رہی ہیں۔

خُدا کا ارادہ اور حتمی مرضی ہمیشہ غالب رہتی ہے اور کوئی منصوبہ خواہ کتنا ہی پیچیدہ کیوں نہ ہو، ارادہ الٰہی کو ناکام نہیں کر سکتا۔ قرآنی ثقافت میں مادی طاقت خواہ وہ اپنے تئیں کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہو، ارادہ الٰہی اور مومنانہ مقاومت کے خلاف "أوھن البیوت" (سب سے کمزور گھر) شمار ہوتے ہیں۔

اسی تناظر میں امریکی خصوصی افواج ( (Delta Force) جو 1977ء میں دہشتگردی وغیرہ کا مقابلہ کرنے کے لئے تشکیل دی گئی، کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کی تشہیر شدہ فوجی برتری کئی مواقع پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ طبس کا واقعہ، لبنان میں پسپائی اور موگادیشو کی جنگ اس بات کا ثبوت ہیں کہ مادی طاقت ہمیشہ فیصلہ کن نہیں ہوتی۔

امریکا اس فورس کی طاقت کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے اقوام کے عزم کو توڑنا چاہتا ہے تاکہ پہلی گولی چلنے سے پہلے ہی مزاحمت کے حوصلے سلب کر لیے جائیں؛ یہ آیتِ کریمہ «إِنَّمَا ذَٰلِکُمُ الشَّیْطَانُ یُخَوِّفُ أَوْلِیَاءَهُ» کا واضح مصداق ہے: «یہ تو شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے تمہیں ڈراتا ہے»۔

ڈیلٹا فورس کی تاریخ بھاری ناکامیوں سے جڑی ہوئی ہے جنہوں نے اس کی دعوے دار ہیبت کو زمین بوس کر دیا؛ واقعۂ طبس سے لے کر جہاں ان کا سازوسامان ناکارہ ہو گیا اور امام راحل رحمۃ اللہ علیہ کے بقول "ریت خدا کی نمائندہ تھی تاکہ لبنان سے ذلت آمیز انخلا اور موگادیشو کی خونریز لڑائی تک جہاں امریکی فوجیوں کی لاشوں کی تصاویر نے دنیا کی نظروں میں اس فورس کے ناقابلِ شکست ہونے کے افسانے کو باطل کر دیا"۔

3 جنوری 2026ء کی صبح وینزویلا میں ہونے والی کارروائی جس میں بنیادی ڈھانچے پر بمباری، بجلی کی بندش اور ایک ملک کے قانونی صدر کا اغوا شامل تھا، محض ایک فوجی اقدام نہیں بلکہ تمام بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور عہدِ بربریت کی طرف واپسی ہے۔

ٹرمپ کے حکم پر کی جانے والی اس جدید راہزنی کا مقصد قومی وسائل یعنی تیل و گیس اور سونا لوٹنا اور آزاد اقوام کی تذلیل کے سوا کچھ نہیں۔

اگرچہ دشمن اُن ماحولیات میں جہاں اندرونی تقسیم موجود ہو وقتی طور پر ٹیکنیکل کامیابی حاصل کر لیتا ہے لیکن سنتِ الٰہی کے مطابق یہ ظاہری فتوحات دیرپا نہیں ہوتیں۔ انبیاء کی تاریخ آیت «أَخْذَ عَزِیزٍ مُقْتَدِرٍ» "زبردست اور مقتدر گرفت" کی بہترین گواہ ہے۔ خداوندِ متعال مطلق حاکم ہے جو خطرے کے اندر سے کشادگی پیدا کرتا ہے: حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے ختم کرنے کے لیے کنویں میں ڈال دیا مگر وہی کنواں اور قید خانہ عزیزِ مصر کے تخت تک پہنچنے کا راستہ بن گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خاتمے کے لیے فرعون نے بچوں کو قتل کیا مگر خدا کی مشیت نے موسیٰ علیہ السلام کو خود فرعون کی آغوش میں پرورش دی۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت کی رات دشمنوں نے جان لینے کا ارادہ کیا مگر وہی خطرہ اسلام کے عالمی پھیلاؤ کا نقطۂ آغاز بن گیا۔ یہ سنتِ الٰہی بتاتی ہے کہ دشمن کی ظاہری ناکامیاں یا عارضی کامیابیاں بھی حکمتِ الٰہی کے دائرے میں بڑے فتوحات اور نئے نازی ازم کے خلاف مقاوم اقوام کی بیداری کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔

اس جنگی اور میڈیا صف بندی کے مقابلے میں دو اقدامات ناگزیر ہیں: ہمہ جہتی آمادگی میں اضافہ کیونکہ اسباب و مسببات کے نظام سے غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ آیت «وَأَعِدّوا لَهُم مَا استَطَعتُم مِن قُوَّةٍ»، "اور ان کے لیے جتنی طاقت تم سے ہو سکے تیار رکھو" کے مطابق ہر امکان کے مقابل دفاعی اور عسکری آمادگی میں اضافہ ایک شرعی فریضہ ہے۔ میڈیا پروپیگنڈوں کے سامنے مغلوب نہیں ہونا چاہیے۔

دشمن وینزویلا کی کارروائی کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے خود کو ہیرو پیش کرنا چاہتا ہے۔ ڈیلٹا فورس اور اس کے حامی میڈیا نیٹ ورکس خوف القا کرنے کے لیے شیطانی اوزار ہیں لیکن جیسا کہ طبس میں بھی مشاہدہ کیا گیا کہ عوامی مزاحمت اور قلبی ایمان واشنگٹن کے پیچیدہ ترین منصوبوں کو بھی اسٹریٹجک شکست میں بدل سکتے ہیں۔ مستقبل مقاوم اقوام کا ہے کیونکہ «انَّ مَعَ العُسرِ یُسرًا» "بے شک تنگی کے ساتھ ہی آسانی ہے" ہر سختی کے اندر ایک کشادگی پوشیدہ ہوتی ہے جو تدبیر اور توکل سے حاصل ہوتی ہے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی کے بیانات: صرف بیٹھ کر تماشا دیکھنے اور دشمن کی غلطی کے انتظار میں رہنے سے کام آگے نہیں بڑھتا۔ کوشش کرنا ہوگی، میدانِ عمل میں موجود رہنا ہوگا، کام کرنا ہو گا، خدا پر توکل اور اعتماد کرنا ہو گا، مجاہدت کرنا ہو گی اور مسلسل متقابل منصوبہ بندی کرنی ہو گی؛ یہ حکام و ذمہ داران کا فریضہ ہے۔ قومی طاقت کے عناصر میں اضافہ کرنا ہو گا۔ جن میں سے ایک مسلح افواج ہیں اور طاقت پیدا کرنا ہوگی اور اس طاقت کو عمل میں بھی دکھانا ہوگا۔ 19/11/1399 شمسی (7 فروری 2021ء) کے خطاب سے اقتباس۔

(لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِینَ کَفَرُوا فِی الْبِلَادِ (196) مَتَاعٌ قَلِیلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ) سورۂ نساء: آیت 197

قابل ذکر ہے کہ 25 اپریل 1980ء کو امریکہ نے ایرانی دارالحکومت تہران میں امریکی سفارت خانے کے عملے کو ہوائی جہاز سے اتارنے کی کوشش میں ایک خفیہ فوجی آپریشن شروع کیا، جسے "آپریشن ایگل کلاؤ" کہا جاتا ہے۔ تاہم ریت کے طوفان نے طبس کے صحرا میں امریکی فوجی طیاروں کے گروپ کو مار گرایا، جس سے آٹھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے اور مشن ختم ہو گیا۔ اس آپریشن میں شامل یونٹس میں امریکی فضائیہ، فوج، بحریہ اور میرین کور شامل تھیں۔ طبس کا واقعہ سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ کے دوران پیش آیا تھا اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس نے 1980ء کے صدارتی انتخابات میں کارٹر کی شکست میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ ہر سال 25 اپریل کو ملّت ایران طبس میں امریکی فوجی کارروائیوں میں شکست کی یاد مناتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha