جمعہ 2 جنوری 2026 - 13:13
حضرت علیؑ؛ وحدتِ امت، عدلِ انسانی اور روحانی استقامت کا محور

حوزہ/میلادِ باسعادت حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ، ماہِ رجب کے بابرکت ایام میں امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم اور معنویت سے بھرپور موقع ہے۔ یہ دن نہ صرف اہلِ ایمان کے لیے خوشی کا پیغام ہے بلکہ تمام مظلوموں، آزادگان اور دنیا میں عدل کے متلاشی انسانوں کے لیے امید اور روشنی کا نشان بھی ہے۔

تحریر: مولانا سید محمد علی نقوی

حوزہ نیوز ایجنسی| میلادِ باسعادت حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ، ماہِ رجب کے بابرکت ایام میں امتِ مسلمہ کے لیے ایک عظیم اور معنویت سے بھرپور موقع ہے۔ یہ دن نہ صرف اہلِ ایمان کے لیے خوشی کا پیغام ہے بلکہ تمام مظلوموں، آزادگان اور دنیا میں عدل کے متلاشی انسانوں کے لیے امید اور روشنی کا نشان بھی ہے۔

حضرت علیؑ کی شخصیت تاریخِ انسانیت میں اس شان کے ساتھ جلوہ گر ہے کہ ان کی عظمت پر تمام اسلامی فرقے متفق ہیں، بلکہ غیر مسلم مفکرین بھی ان کے عدل و کردار کے معترف ہیں۔

حضرت امیرالمؤمنینؑ کا سب سے نمایاں پہلو ان کا ایمانِ خالص ہے، جو بچپن سے لے کر آخری سانس تک رسولِ اکرم ﷺ کی کامل اطاعت میں جلوہ گر رہا۔ ان کی پوری زندگی جہاد، قربانی، استقامت اور اسلام کی حفاظت میں گزری۔ وہ ایک ایسے انسان تھے جنہوں نے کبھی حق سے منہ نہیں موڑا اور نہ ہی دنیاوی مفادات کو اصولوں پر ترجیح دی۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت علیؑ کی عظمت کسی ایک فرقے تک محدود نہیں۔ وہ تمام مسلمانوں کا مشترکہ سرمایہ ہیں۔ اسی لیے آج کے دور میں، جب امتِ مسلمہ اختلافات اور تفرقے کا شکار ہے، حضرت علیؑ کی شخصیت وحدتِ امت کا مضبوط مرکز بن سکتی ہے۔ دشمنانِ اسلام مختلف حیلوں سے مسلمانوں کے درمیان نفرت اور تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں، مگر علیؑ وہ مشترک نقطہ ہیں جن پر سب سر جھکا سکتے ہیں۔

محبتِ علیؑ ایک عظیم نعمت ہے، مگر صرف محبت کافی نہیں۔ حقیقی محبت کا تقاضا اطاعت اور پیروی ہے۔ شیعہ ہونے کا مطلب یہی ہے کہ انسان حضرت علیؑ کے اہداف، ان کے راستے اور ان کے اصولوں کی پیروی کرے، اگرچہ ان کے مرتبے تک پہنچنا ممکن نہیں، مگر اس سمت میں سفر ضروری ہے۔

حضرت علیؑ کی سیرت کا سب سے درخشاں پہلو عدل و انصاف ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں ظلم کے ساتھ کسی قسم کی مصلحت نہیں کی۔ وہ فرماتے ہیں کہ اگر مجھے کانٹوں پر چلا دیا جائے یا زنجیروں میں جکڑ دیا جائے، یہ مجھے اس بات سے زیادہ عزیز ہے کہ میں کسی ایک انسان پر بھی ظلم کر کے اللہ سے ملاقات کروں۔ ان کی نگاہ میں دنیا کی تمام آسائشیں بے وقعت تھیں۔ انہوں نے دنیا سے خطاب کر کے فرمایا: “کسی اور کو دھوکہ دے، علی کو تو نہیں فریب دے سکتی۔”

آج کے اسلامی معاشرے میں سب سے بڑی ذمہ داری عدل کا قیام ہے۔ عدل کسی خاص قوم یا طبقے کی خواہش نہیں بلکہ پوری انسانیت کی فطری آرزو ہے۔ حقیقی عدل صرف وہی لوگ قائم کر سکتے ہیں جن کے دل دنیا کی محبت سے آزاد ہوں، جن کا اللہ پر مکمل توکل ہو اور جو اخلاقی جرات رکھتے ہوں۔

عدل کے اس راستے پر چلنے کے لیے روحانی طاقت ناگزیر ہے۔ اسی لیے ماہِ رجب، شعبان اور رمضان کو عبادت، دعا، توبہ اور اللہ سے قربت کے مہینے قرار دیا گیا ہے۔ حضرت علیؑ جیسا بہادر انسان، جو میدانِ جنگ میں شیرِ خدا تھا، محرابِ عبادت میں اللہ کے حضور روتا اور تڑپتا نظر آتا تھا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ طاقت کی اصل بنیاد اللہ سے مضبوط تعلق ہے۔

حضرت علیؑ کا پیغام آج بھی زندہ ہے: اللہ سے مضبوط تعلق، انصاف پر قائم رہنا اور آپس میں اتحاد ہی عزت اور کامیابی کا راستہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha