بدھ 21 جنوری 2026 - 18:37
آیت اللہ العظمیٰ مکارم شیرازی کے نقطۂ نظر سے حالیہ واقعات کا تجزیاتی جائزہ / مرجعیت کا رہبر معظم انقلاب سے قاطعانہ دفاع

حوزہ / حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی نے کہا: جو بھی شخص یا حکومت امت اسلامی اور اس کی حاکمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے رہبر معظم اور مرجعیت کو دھمکائے یا (اللہ نہ کرے) ان پر کوئی حملہ کرے، اس کا حکم "محارب" (خدا اور رسول سے جنگ کرنے والے) کا ہے اور مسلمانوں یا اسلامی حکومتوں کی طرف سے اس کی کسی بھی قسم کی حمایت یا تعاون کرنا حرام ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ مرجع تقلید حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی نے حالیہ واقعات کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا: جو بھی شخص یا حکومت امت اسلامی اور اس کی حاکمیت کو نقصان پہنچانے کے لیے رہبر معظم اور مرجعیت کو دھمکائے یا (اللہ نہ کرے) ان پر کوئی حملہ کرے، اس کا حکم "محارب" (خدا اور رسول سے جنگ کرنے والے) کا ہے اور مسلمانوں یا اسلامی حکومتوں کی طرف سے اس کی کسی بھی قسم کی حمایت یا تعاون کرنا حرام ہے۔

حضرت آیت اللہ مکارم شیرازی کے نقطۂ نظر سے حالیہ واقعات کی تجزیاتی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:

گذشتہ چند دنوں کے واقعات نے ہر درد دل رکھنے والے انسان کے دل کو دکھایا ہے۔ اس قوم نے اپنی آزادی اور عزت کے لیے بھاری قیمت ادا کی ہے اور اب جب کہ دشمن پہلے سے کہیں زیادہ سنجیدگی سے اپنے خیال میں اس سرزمین اور اس کے عوام کو نقصان پہنچانے کے لیے سازشیں کر رہا ہے، ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ اپنی وحدت کو برقرار رکھنا چاہیے لہٰذا میں آپ عزیز لوگوں کی توجہ کچھ ضروری نکات کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں:

عوام کی معیشت، عملی اقدامات کی محتاج ہے:

اس وقت مارکیٹ کے حالات اور عوام کی معیشت میں موجود مسائل سب کو پریشان کر رہے ہیں۔ اس دوران حکومت نے عوام کی معیشت میں مدد کے لیے ایک رقم مختص کی جو ایک اچھا اقدام تھا لیکن فوری طور پر بنیادی سامان کی زرمبادلہ کی رقم بند کر دی گئی جس کی وجہ سے تمام اشیا پر اثر پڑا اور عوام مزید دباؤ کا شکار ہو گئے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام کی معاشی حالت، بے لگام مہنگائی اور قیمتوں کی بے ثباتی سماجی نااہلی کی بنیادی وجوہات میں سے ہیں؛ مزدوروں اور تنخواہ داروں کے لیے مستقل تنخواہوں کے ساتھ روزانہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہے اور یہی مسئلہ احتجاج کا باعث بنتا ہے۔ لیکن سب کو، خاص طور پر معاشرے کے ہر طبقے کے دانشوروں اور اثر انداز افراد کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اس جائز احتجاج کو غلط استعمال کی راہ نہ دی جائے۔

تخریب کاروں کے چہرے بے نقاب:

ملک میں حالیہ فسادات اور دہشت گردانہ واقعات میں، تخریب کاروں کے چہرے سے نقاب اتر گیا اور اسرائیل نے بھی تسلیم کیا کہ اس نے ان فسادات میں کردار ادا کیا ہے۔

بے شک مساجد، عوامی مقامات، تاجروں کے گھروں، بینکوں اور عوام کی دیگر املاک کو تباہ کرنے کی کسی بھی قسم کی کوشش نظام اسلامی اور اسلام سے جنگ کی ایک شکل ہے۔

امریکی صدر کا وہم و خیال:

امریکی صدر انتہائی وہم کا شکار ہے اور ٹرمپ کا اصل سرمایہ دروغ گوئی ہے۔ ٹرمپ کو اسلامی نظام کے ٹوٹنے کا وہم ہے؛ امریکی سیاست دانوں کا خیال تھا کہ اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کے عوام ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے اور مذاکرے کی میز پر آئیں گے لیکن ان (عوام) نے ثابت کیا کہ یہ ان کا محض ایک وہم و خیال ہے۔

رہبر معظم کا وجود ہمارے عقیدے کا ایک نازک اور حساس پہلو ہے:

شیعہ بلکہ پوری امت اسلامی کی حفاظت کرنے والے کے طور پر رہبر معظم کا وجود ہمارے عقیدے کا ایک نازک اور انہائی حساس نقطہ ہے اور کوئی بھی صالح اور آزاد مسلمان اس دھمکی کو برداشت نہیں کرے گا لہٰذا ضروری ہے کہ تمام مسلمان اور آزاد خیال افراد پوری دنیا میں ہر ممکن طریقے سے ان کی حمایت اور ان کے سلسلہ میں کسی بھی قسم کی جسارت کی پر زور مذمت کریں تاکہ دشمن کو معلوم ہو کہ امتِ مسلمہ ان کے مقابلے میں کھڑی ہے۔

میرے عزیز فرزندو! دشمن کے ایجنٹوں کو اپنے جائز مطالبات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی اجازت مت دو اور انہیں یہ بہانہ بنانے مت دو کہ وہ ہمارے مقدس مقامات کی بے حرمتی کریں، عوامی املاک اور مساجد کو تباہ کریں، یہاں تک کہ لوگوں کی نجی املاک اور ان کے امن و سکون پر بھی حملہ کریں۔ آپ کو اپنی صفوں کو ان سے جدا کرنا چاہیے۔

میرے عزیزو! ہم سب کو مل کر اپنے مسائل کے حل کے لیے ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے تاکہ امن کے محافظ امن و سکون کو معاشرے میں واپس لے آئیں۔ شام اور لیبیا اور ان جیسے دیگر ممالک کی طرف دیکھیں کہ کس طرح انہوں نے اپنی عزت اور امن دونوں کو کھو دیا اور بیرونی دشمن ان پر مسلط ہو گیا! یاد رکھیں، یہ (بیرونی دشمن) ہمارے ہمدرد نہیں ہیں بلکہ اس سرزمین کو نقصان پہنچانے اور اس کی دولت پر قبضہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔

تمام ایرانی عوام اور قومیں چاہے ترک ہوں، کرد، لر، عرب، فارس، بلوچ یا دیگر، جان لیں کہ صرف ایک متحد اور طاقتور ایران ہی سب کے امن اور سکون کو یقینی بنا سکتا ہے۔

مجھے امید ہے کہ ان مبارک شب و روز (ماہ شعبان) میں یہ ملک اور نظام حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ کی خاص توجہ کے سائے میں اور عوام اور ذمہ داران کی ہمراہی کے ساتھ تمام بدخواہوں کے نقصانات سے محفوظ رہے گا۔ إن شاء اللہ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha