حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل اسلام آباد کے رہنما مولانا سید علی بنیامین نقوی نے کہا کہ پاکستان کا نام نہاد غزہ امن بورڈ کا حصّہ بننا ایک ایسی پیش رفت ہے جو سنجیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔ ایسے وقت میں جب غزہ بدترین انسانی بحران، مسلسل بمباری، اجتماعی قتلِ عام اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سامنا کر رہا ہے، کسی بھی ایسے فورم کا حصہ بننا جو مزاحمت کے بجائے محض “امن” کے مبہم بیانیے کو فروغ دے، اخلاقی اور سیاسی طور پر قابلِ تشویش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کا مسئلہ محض جنگ بندی یا مذاکرات کا نہیں، بلکہ یہ ایک واضح ظلم، ناجائز قبضے اور نسل کشی کا مسئلہ ہے۔ ایسے حالات میں امن کے نام پر بنائے گئے بورڈز اکثر مظلوم اور ظالم کے درمیان مصنوعی توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جو درحقیقت ظلم کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔
شیعہ علماء کونسل پاکستان کے رہنما نے کہا کہ پاکستان تاریخی طور پر فلسطین کے مظلوم عوام کے حقِ خود ارادیت کا حامی رہا ہے۔ ایسے کسی پلیٹ فارم کا حصہ بننا، جس کی تشکیل، اہداف اور طاقت کے مراکز مشکوک ہوں، نہ صرف پاکستان کے اصولی مؤقف کو کمزور کرتا ہے بلکہ امتِ مسلمہ کے اجتماعی ضمیر کو بھی مجروح کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان واضح، جرأت مندانہ اور اصولی سفارتی حکمتِ عملی اختیار کرے؛ ایسی حکمتِ عملی جو قابض قوت کے خلاف کھل کر آواز بلند کرے، نہ کہ ایسے “امن فورمز” کا حصّہ بنے جو عملی طور پر مظلوم کی مزاحمت کو غیر مؤثر بنانے کا ذریعہ بن جائیں۔
انہوں نے کہا کہ غزہ کو امن کی نہیں، انصاف کے ساتھ امن کی ضرورت ہے اور انصاف ظالم کو للکارے بغیر ممکن نہیں۔









آپ کا تبصرہ