حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد/ ملکِ پاکستان کی ممتاز دینی درسگاہ جامعۃ الکوثر میں حسبِ روایت امسال بھی فاضل طلاب کے اعزاز میں سالانہ تقریبِ عمامہ پوشی نہایت عقیدت، وقار اور روحانیت کے ساتھ منعقد کی گئی۔
اس ایمان افروز تقریب کا باقاعدہ آغاز قاری اکبر رجائی (استاد، وارث الانبیاء اسکول) کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ حفاظِ قرآن پر مشتمل طلبا نے خوبصورت تواشیح پیش کر کے محفل کو مزید روحانی رنگ عطا کیا۔
مکمل تصاویر دیکھیں:
جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں سالانہ تقریبِ عمامہ پوشی؛ فاضل طلاب کے اعزاز میں پروقار روحانی اجتماع
پروگرام کے اگلے مرحلے میں فاضلانِ جامعہ کی نمائندگی کرتے ہوئے جامعۃ الکوثر کے ہونہار فاضل جناب محمد صائم نے اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے جامعۃ الکوثر میں گزارے ہوئے ایام کو اپنی زندگی کا یادگار اور قیمتی سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ محسنِ ملت شیخ محسن نجفی کے سایۂ شفقت و محبت کو وہ اپنی حیات کا عظیم اثاثہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے جامعہ کے اساتذہ کرام کا خصوصی شکریہ ادا کیا جن کی انتھک محنت کا ثمر آج ان کے سروں پر عمامے کی صورت میں جلوہ گر ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علامہ شیخ محمد شفاء نجفی نے فاضلانِ جامعہ کو محسنِ ملت حضرت آیت اللہ شیخ محسن علی نجفیؒ کی وصیت پر عمل پیرا رہنے اور ان کی امیدوں پر پورا اترنے کی تلقین کی۔
اس کے بعد تقریب کا سب سے پُراثر اور روحانی مرحلہ، عمامہ پوشی، منعقد ہوا۔ محسنِ ملت کی معنوی موجودگی کے احساس کے ساتھ ان کے عکسِ مبارک کے جلو میں
علامہ زاہد حسین زہدی، علامہ شیخ محمد شفاء نجفی، علامہ شیخ محمد اسحاق نجفی اور وکیلِ مرجعیت علامہ شیخ انور علی نجفی قبلہ نے اپنے دستِ مبارک سے فاضلانِ جامعہ کے سروں پر عمامے سجائے۔
بعد ازاں وکیلِ مرجعیت علامہ شیخ انور علی نجفی نے اختتامی خطاب میں طلابِ جامعۃ الکوثر کو علم کے میدان میں سبقت لے جانے، مسلسل جدوجہد اختیار کرنے اور دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق مؤثر اسلوبِ کار اپنانے کی نصیحت کی۔ اس طرح یہ بابرکت اور یادگار تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔
واضح رہے کہ تقریب میں مولانا نقاش الحسنین اور ڈاکٹر کاظم کمیل نے نقابت کے فرائض نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ اس موقع پر جامعۃ الکوثر اور جامعۃ اہلِ بیتؑ کے اساتذہ کرام، دینی طلبا اور فاضلان کے والدین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کے فوراً بعد تمام شرکاء نے مرقدِ محسنِ ملت پر حاضری دی، پھول نچھاور کیے اور فاتحہ خوانی کر کے اپنے عقیدت کے جذبات کا اظہار کیا۔









آپ کا تبصرہ