منگل 27 جنوری 2026 - 18:19
عادلانہ نظام کیلئے جدوجہد کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے

حوزہ / علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: بین الاقوامی صورتحال پر نظر ہے، سامراج کا ہدف اور کو شش یہ ہے کہ طاقت کے بل پوتے پر اسرائیل مضبوط ہو اور فلسطین نابود ہو لیکن یہ قابل قبول نہیں ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے بیاد شہدائے سیہون و شہدائے اسلام کانفرنس کے عظیم الشان اجتماع سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے تمام تنظیمی و غیر تنظیمی شہداء کی بلندی درجات کی دعا کے ساتھ سالانہ اجتماع کے انعقاد پر شیعہ علماء کونسل پاکستان سندھ کو تحسین کہتے ہوئے کہا: یہ اجتماع ایک جذبہ پیدا کرے گا، تنظیمی افراد میں ایک تحرک پیداہوگااور تنظیم اور زیادہ فعال ہو گی۔

انہوں نے کہا: تمام انبیاء و رسل (ص) اس لئے بھیجے گئے کہ قسط وعدل قائم ہو ، ہماری جماعت کے اہداف میں سے بھی ایک یہ ہے۔ ہم اس ملک میں عادلانہ نظام و حقوق کا حصول چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک میں انصاف کا قیام ہو ،میرٹ ہو، عدل ہو جس کیلئے تنظیم کومزید بہتر بنانا ہو گا، اس کیلئے آواز اٹھانا اور جدوجہد جاری رکھنا بہت ضروری ہے۔ ان حالات میں اہداف کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ ہم تنظیم کو مضبوط اور فعال بنائیں اپنے اندر رابطے، یکجہتی اور ہم آہنگی پید اکریں اور کسی بھی مخالفت کو بڑھاوا نہ دیں۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا: اس دور میں عادلانہ نظام کا فقدان ہے ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ عادلانہ نظام کیلئے جدوجہد کریں۔ اس جدوجہد کی طرف قرآن کریم ہماری رہنمائی کرتا ہے، انبیاء کرام کا مشن بھی یہی ہے، اوصیاء کا مشن بھی یہی ہے۔ ظاہر ہے اس کیلئے آواز اٹھانا بھی بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا: بین الاقوامی سطح پر جو مشکلات در پیش ہیں جو صورتحال درپیش ہے اس پر بھی ہمارا کر دار ہونا چاہیے، بین الاقوامی صورتحال پر نظر ہے، سامراج کا ہدف اور کو شش یہ ہے کہ طاقت اور دھونس کے بل بو تے پر اسرائیل مضبوط ہو اور فلسطین نابود ہو۔ لیکن یہ قابل قبول نہیں ہے۔ اس طرح پاکستان میں بہت سے مسائل ہیں، زائرین کا مسئلہ، عزاداری سید الشہدا کا مسئلہ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہمارا بنیادی حق ہے اس سے ہم ایک انچ بھی پیچھے ہٹ نہیں سکتے۔

علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا: حالات کے تقاضوں کے ساتھ ہمارے اقدامات جاری ہیں۔ ہمارے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اور زیادہ اس پر متوجہ ہوں، ہم آہنگی پیدا کریں اور زیادہ یکجہتی پیدا کریں۔ اس لئے کہ یکجہتی اور ہم آہنگی ایک بہت بڑی قوت ہے اس لئے کہ جب ہم کوئی اقدامات کریں گے، کوشش کریں گے تو یقینا مثبت نتیجہ نکلے گا۔

انہوں نے آخر میں منتظمین کانفرنس کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: میں آپ کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔ تمام مرکزی، صوبائی اور دیگر جتنے بھی احباب ہیں میں سب کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں اور میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالی اس اجتماع کو بااثر اور با نتیجہ بنائے اور آپ کی کوششوں اور کاوشوں کو باثمر بنائے اور اور مزید باہمی یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا کرے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha