منگل 27 جنوری 2026 - 18:19
کیا جنگ متوقع ہے؟

حوزہ/تمام فتنہ انگیزیوں کے بعد بھی اسلامی جمہوریہ ایران کا آہنی دیوار کی طرح ٹس سے مس نہ ہونا اور امریکہ کو منہ کی کھانا، ایران کی حکومت اور امریکہ کے علاقائی مفادات کے درمیان کشمکش نے اس امکان کو جنم دیا ہے کہ دونوں کے درمیان تصادم کی نوعیت اب صرف سفارتی یا معاشی نہیں رہے گی، بلکہ اس کے عسکری پہلو بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔

تحریر: مولانا سید نجیب الحسن زیدی

حوزہ نیوز ایجنسی| بین الاقوامی سیاست کے موجودہ مرحلے میں ایران اور امریکہ کے تعلقات ایک نہایت حساس اور نازک موڑ پر کھڑے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی اسٹریٹجک صورتِ حال، محورِ مزاحمت کی مسلسل قربانیوں کے بعد ان کا عزم پہیم اور مستقبل کو لیکر انکی منصوبہ بندی کے پیش نظر بڑھتی ہوئی پر اسرار فعالیت، حالیہ ایران میں ہونے والے خونیں مظاہرے اور تنگی معیشت کی بنیاد پر سامنے آنے والے عوامی غصے کی لہر پر سامراج کی سواری ۔تمام فتنہ انگیزیوں کے بعد بھی اسلامی جمہوریہ ایران کا آہنی دیوار کی طرح ٹس سے مس نہ ہونا اور امریکہ کو منھ کی کھانا ایران کی حکومت اور امریکہ کے علاقائی مفادات کے درمیان کشمکش نے اس امکان کو جنم دیا ہے کہ دونوں کے درمیان تصادم کی نوعیت اب صرف سفارتی یا معاشی نہیں رہے گی بلکہ اس کے عسکری پہلو بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔

زیرِ نظر تحریر میں اسی تناظر میں یہ سوال قائم کیا گیا ہے کہ امریکہ کس قسم کے جنگی منظرنامے پر زیادہ عمل پیرا ہو سکتا ہے:

محدود کارروائی،

نفسیاتی دباؤ

یا پھر مکمل عسکری تصادم؟

ہم نے اس تحریر میں کوشش کی ہے صرف امریکی فوجی آرائش اور سیاسی اہداف تک ہی بات محدود نہ رہے بلکہ ایران کی داخلی ساخت، سماجی طاقت اور علاقائی اثرورسوخ کو بھی اس معادلے میں شامل کر کے ایک جامع تصویر پیش کیا جا سکے۔ ہم نے اس مختصر تجزیہ میں محض خطرات کا بیان نہیں بلکہ حکمتِ عملی، آگہی اور دانش مندانہ ردِعمل کی اہمیت کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اور مختلف مفروضوں کے درمیان اس بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے کہ

امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف کون سا جنگی منظرنامہ زیادہ محتمل ہے؟

موجودہ تجزیاتی فضا میں، امریکہ کے آئندہ رویّے کے بارے میں اندازے دو بڑے کیمپوں میں تقسیم ہیں:

1-ایک رائے کے مطابق موجودہ حالات میں وسیع فوجی حملہ بعید از قیاس ہے اور حالیہ نقل و حرکت کو نفسیاتی جنگ، تدریجی محاصرے یا ایران کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے تاکہ محورِ مزاحمت کو نشانہ بنایا جا سکے۔ عین ممکن ہے کہ ہوا کسی اور چیز کی بنے اور عمل کچھ اور ہو اور ایران کے بجائے عراق و لبنان میں مزاحمتی محاذ پر دھاوا بول دیا جائے جبکہ ایران کامحاصرہ اس طرح سے کیا جائے کہ وہ اپنے بازووں کی کوئی مدد نہ کر سکے ۔ یا پھر گھیرا بندی سے پورے خطے کو جنگ کے دہانے پر لا کر بہت مختصر اور محدود حملہ کیا جائے یہ حملہ سپاہ پاسداران سے وابستہ مراکز اور ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کے لئے ہو سکتا ہے۔

دوسری رائے کے مطابق حملہ عین ممکن ہے اور “محدود حملے” سے لے کر “کلاسیکی وسیع جنگ” تک کے منظرناموں کا احتمال ہے۔

چنانچہ امریکی فوجی آرائش کی مقدار اور نوعیت کا جائزہ یہ بتاتا ہے کہ یہ سرگرمیاں محض نفسیاتی نہیں ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ابھی تک کسی ہمہ گیر آپریشن کے آغاز کی قطعی نشانیاں بھی سامنے نہیں آئیں۔

“محدود حملے” کے قائلین کے نزدیک تین نمایاں منظرنامے ہیں:

اوّل: مؤثر محدود حملہ (جیسے کسی اہم شخصیت کا قتل یا خاص سیکیورٹی آپریشن)،

دوّم: علامتی محدود حملہ جس کا مقصد پرستیژ بچانا اور سیاسی دباؤ بڑھانا ہو،

سوّم: خطرناک محدود حملہ، مثلاً بحری جھڑپ یا حساس مقامات پر قبضہ۔

ان سب کا مشترک نکتہ یہ ہے کہ امریکہ کو امید ہے کہ ایران یا تو جواب نہیں دے گا یا کمزور جواب دے گا، اور پھر دھمکی اور لالچ کے ذریعے سیکیورٹی توازن بدلنے کی کوشش کی جائے گی۔

لیکن ایران کی جانب سے واضح اعلان کہ کسی بھی جارحیت کا وسیع جواب دیا جائے گا اور محورِ مزاحمت کی آمادگی، اس مفروضے کو نہایت کمزور بنا دیتی ہے۔

بلند تر سطح پر بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکہ ایک بڑے حملے کے لیے عملیاتی زنجیر مکمل کر رہا ہے:

ایسا ماڈل جس میں فیصلہ سازی کی مرکزی کڑی کو ختم کرنا، دفاعی ڈھانچے اور اندرونی سلامتی کے مراکز کو نشانہ بنانا اور ساتھ ہی اندرونی انتشار کو ہوا دینا شامل ہو سکتا ہے۔

اس فریم ورک میں دشمن کا ذہنی نمونہ لیبیا یا سوویت یونین سے زیادہ “عراق ماڈل” سے مشابہ ہے:

ایک محدود جھڑپ کے بعد ہمہ گیر فرسایش، اقتصادی و سماجی دباؤ میں اضافہ اور بالآخر اسلحے سے دستبرداری مسلط کرنا۔

لیکن ایران اور بعثی عراق کے درمیان بنیادی فرق—سیاسی ساخت، سماجی سرمائے، حالات و شرائط کی بحالی کی صلاحیت، اسٹریٹجک گہرائی اور علاقائی طاقت کی ترتیب—اس قیاس کو سنگین غلطیوں سے بھر دینے کا سبب ہے

اسٹریٹجک جمع بندی یہ ہے کہ موجودہ جنگ کسی کلاسیکی ماڈل کی نقل نہیں بلکہ “ایرانی سماج کے کوڈ” پر مبنی ایک ڈیزائن شدہ جنگ ہے۔

ایسی صورتِ حال میں سب سے بڑا خطرہ غفلت میں مبتلا رکھتے ہوئے غیر متوقع یلغار ہے جیسا کہ 12 دن کی جنگ کے دوران ہوا اور بہترین و زبدہ ترین کمانڈروں کو اس طرح نشانہ بنایا گیا کہ جس میں خطا کا امکان نہ ہو اور جوابی کاروائی کے لئے فیصلہ سازی کے اہم عناصر یا شہید ہو جائیں یا اتنے زخمی کے کسی رائے دینے کے قابل نہ رہیں ۔یہ غیر متوقع حملہ جسے وسیع انداز میں اچانک انجام دیا جائے اتنا خطرناک ہے کہ انتقامی کاروائی کے لئے پہلے سے بنائے گئے منصوبوں کی ترتیب کو بگاڑ دینے کا سبب بنتا ہے اگر سے بچنا ہے تو اس کا مقابلہ حسب ذیل عناصر میں مضمر ہے:

الف: درست اور معتبر اطلاعات کا حصول،

ب: مختلف الگ الگ نقاط کو جوڑ کر ایک وسیع تناطر میں عسکری حکمتِ عملی کی تعیین۔ مثلا بحریہ ، فضائیہ اور زمینی افواج کی ایک ساتھ ایک ہی ہدف پر ھمہ جہت یلغار ۔

ج : معلوماتی دائرہ کار میں مسلسل تجزیاتی گردش۔

یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ آج امریکہ کے پاس نہ عراق جیسی طویل فرسایشی و تھکا دینے والی جنگ کا وقت ہے اور نہ رضاکارانہ اسلحہ بندی چھوڑوانے کی صلاحیت کہ وہ کہے اپنے اسلحہ ڈال دو تو سب امریکہ کے چرنوں میں سجدہ ریز ہو جائیزن اور یہی وہ چیلنجز ہیں جو ایران کے لیے بحران کو ہوشیاری سے سنبھالنے کا دائرہ کو وسیع کرتے ہیں

حاصل کلام

حاصلِ کلام یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ کسی روایتی یا یکساں ماڈل پر مبنی نہیں ہو سکتی۔ امریکہ نہ تو عراق جیسی طویل فرسایشی و تھکا دینے والی جنگ کا متحمل ہو سکتا ہے اور نہ ہی ایران کو دباؤ کے ذریعے آسانی سے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ دوسری طرف اسلامی جمہوریہ ایران اپنی سیاسی ساخت، سماجی ہم آہنگی، علاقائی جائے وقوع کے ساتھ محورِ مزاحمت کے ساتھ جڑا ہوا ہے، یہ ایک ایسا عامل ہےجو کسی بھی محدود یا وسیع حملے کی قیمت کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔

اس لیے اصل خطرہ براہِ راست جنگ سے زیادہ غفلت، نفسیاتی دباؤ اور داخلی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں ہیں۔ ایسے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے دانش مندانہ راستہ یہی ہے کہ وہ درست معلومات، گہرے تجزیے اور مسلسل اسٹریٹجک بصیرت کے ذریعے بحران کو کنٹرول کرے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ میدانِ جنگ سے زیادہ اہم میدان جانکاری ، آگہی، دشمن شناسی اتحاد اور حکمت کا ہے—اور جو فریق اس میدان میں برتری حاصل کرے گا، وہی اصل معنوں میں بحران کو اپنے حق میں موڑنے میں کامیاب ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha