تحریر: مولانا سید نجیب الحسن زیدی
حوزہ نیوز ایجنسی| آج کی اس بدلتی ہوئی دنیا میں دنیا کی تصویر ہر دن ہی کے سورج کے ساتھ بدلتی نظر آ رہی ہے۔ جغرافیہ بدل رہا ہے، کردار بدل رہے ہیں عالمی سیاست بدل رہی ہے جنگ و صلح کا انداز بھی اس سے پرے نہیں۔ آج ایک ایسی جنگ کے میدان میں ہم سب گھسے ہوئے ہیں جو نظر نہیں آتی؛ آج کی دنیا میں جنگ کا مفہوم بنیادی طور پر بدل چکا ہے۔ اب دشمن صرف سرحدوں پر فوج نہیں اتارتا، بلکہ وہ ذہنوں میں داخل ہوتا ہے۔ اصل محاذ آج سرحدیں نہیں بلکہ شعور و اذہان ہیں۔ دشمن کی توپیں اب ٹینک نہیں، بلکہ اطلاعات، افواہیں، جعلی خبریں، میمز، ویڈیوز اور سوشل میڈیا کے بیانیے ہیں۔
ایسے ماحول میں ایک بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ:
کیا ہر وقت “دنیا سے جڑے رہنا” واقعی مفید ہے؟
یا کبھی کبھی “الگ ہو جانا”، “خاموش ہو جانا” اور “ڈیجیٹل فاصلہ اختیار کرنا” ہی سلامتی کی ضمانت بن جاتا ہے؟
جنگِ نرم کا اصل ہدف: انسان کا شعور
آج دشمن گولیاں نہیں چلاتا، وہ یقین کو شک میں بدلتا ہے، اور امید کو مایوسی میں ڈھالتا ہے۔
یہی جنگِ نرم کی روح ہے۔ سامراجی طاقتیں جانتی ہیں کہ:
جس قوم کے نوجوان مایوس ہو جائیں، جس معاشرے کا دین مشکوک بنا دیا جائے، جس نظام پر عوام کا اعتماد ٹوٹ جائے، وہ قوم خود ہی ٹوٹ جاتی ہے، بغیر کسی بمباری کے۔
یہی وجہ ہے کہ دشمن کا سب سے بڑا ہتھیار آج میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ہیں۔
مسلسل جڑے رہنے کا خطرہ
ہم جس دور میں رہ رہے ہیں، اس میں انسان:
دن میں سینکڑوں پوسٹس دیکھتا ہے،
درجنوں ویڈیوز سنتا ہے،
ہر وقت “ری ایکشن” موڈ میں رہتا ہے۔
یہ حالت انسان کو غیر شعوری طور پر کنٹرول ایبل بنا دیتی ہے۔
سامراج یہی چاہتا ہے کہ:
قوم سوچے نہیں، بس ردِ عمل دے،
تجزیہ نہ کرے، بس جذباتی ہو،
سوال نہ اٹھائے، بس نعرے لگائے۔
اس لیے مسلسل ڈیجیٹل کنکشن بعض اوقات آزادی نہیں بلکہ غلامی بن جاتا ہے۔
ڈیجیٹل تنہائی: فرار نہیں، حکمتِ عملی
یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ضروری ہے: دنیا سے کچھ وقت کے لیے الگ ہونا کمزوری نہیں، بلکہ شعور کی حفاظت ہے۔
جیسے فوجی میدان میں سپاہی:
ہر وقت فائر نہیں کرتا،
کبھی چھپتا ہے،
کبھی پوزیشن بدلتا ہے،
اسی طرح جنگِ نرم میں بھی:
کبھی خاموشی، کبھی تنہائی، کبھی معلوماتی بریک دفاعی حکمتِ عملی ہوتی ہے۔
جب دشمن جھوٹ پھیلا رہا ہو،
جذبات بھڑکا رہا ہو،
دین، ولایت اور انقلاب کو نشانہ بنا رہا ہو،
تو اُس وقت ہر “کنٹینٹ” دیکھنا ضروری نہیں، بلکہ خطرناک ہو جاتا ہے۔
نیٹ بند کرنا: فکری سرحدوں کی حفاظت
جب کوئی ملک یا نظام:
اپنے اندر انتشار محسوس کرے،
بیرونی میڈیا سے حملے بڑھ جائیں،
نوجوان نسل فکری یلغار میں آ جائے،
تو نیٹ، پلیٹ فارمز یا بعض چینلز کی بندش دراصل:
ڈیجیٹل سرحد بندی ہوتی ہے۔
جیسے جغرافیائی سرحد پر:
دشمن کو روکا جاتا ہے،
چیک پوسٹ لگتی ہے،
اسی طرح ڈیجیٹل سرحد پر:
زہریلے بیانیے کو روکا جاتا ہے،
افواہوں کی ترسیل بند کی جاتی ہے۔یہ آزادی پر قدغن نہیں بلکہ:
داخلی سلامتی کا تقاضا ہے۔
آج دشمن کی توجہ نوجوانوں پر ہے۔ کیونکہ نوجوان:
جلد متاثر ہوتا ہے، جذباتی ہوتا ہے، مجازی فضا میں معلق مواد سے زیادہ کنٹرول ہوتا ہے۔
ایسے میں اگر نوجوان ہر وقت:
سوشل میڈیا پر ہو،
دشمن کے بیانیے میں گھرا ہو،
تو وہ آہستہ آہستہ: اپنی شناخت، اپنے دین، اپنے انقلاب سے بدظن ہو جاتا ہے۔
اس لیے بعض اوقات نوجوان کو سکھانا ضروری ہے کہ:
وہ خود کو “ڈیجیٹل فاقہ” دے،
معلوماتی روزہ رکھے،
اپنے ذہن کو شور سے بچائے۔
یہی اصل جہادِ اکبر ہے۔
تاریخ کا سبق: تنہائی میں طاقت
تاریخ بتاتی ہے کہ:
انبیاء نے غار میں وقت گزارا،
امام علی ع نے 25 سال کے تلخ سکوت کے دور میں قرآن کریم کو جمع کیا
امام حسینؑ نے کربلا میں ظاہری تنہائی میں حق کو زندہ کیا، امام خمینیؒ نے جلاوطنی میں انقلاب کی بنیاد رکھی۔
تنہائی کبھی کمزوری نہیں، بلکہ شعور کی پختگی کا مرحلہ ہوتی ہے۔
آج اگر کوئی قوم وقتی طور پر: ڈیجیٹل رابطے محدود کرے، بیرونی بیانیے سے فاصلے پر جائے تو وہ دراصل: اپنی فکری خودمختاری بچا رہی ہوتی ہے۔
اعتماد اور تصویر سازی کی جنگ
کبھی دشمن نظام کو نہیں گراتا، وہ تصویر بناتا ہے۔یعنی پہلے قوم کو دکھایا جاتا ہے کہ:
تم ناکام ہو،
تم تنہا ہو،
تم مایوس ہو۔
پھر قوم خود ہی اپنے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے۔
ایسے میں اگر قوم: دشمن کے میڈیا سے خود کو کاٹ لے،اپنی تصویر خود بنائے تو وہ: سامراجی جال کو توڑ کر آزاد ہو جاتی ہے۔
امید، ایمان اور خاموش مزاحمت
قرآن نے فرمایا: “وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ”
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ:
مایوسی دشمن کا ہتھیار ہے اور امید مؤمن کی ڈھال ہے۔
جب قوم: ایمان کو بچا لے، شعور کو محفوظ رکھے، فکری آلودگی سے خود کو دور کرے تو وہ جنگِ نرم میں بھی فاتح رہتی ہے۔
تنہائی ایک انقلابی حکمت ہے
سامراج کے مکروہ عزائم سے بچنے کے لیے
ہر وقت دنیا سے جڑے رہنا ضروری نہیں، بلکہ بعض اوقات دنیا سے کچھ فاصلے پر جانا ہی
قوم کو بچا لیتا ہے۔ نیٹ بند کرنا، ڈیجیٹل خاموشی اختیار کرنا، مجازی دنیا سے وقتی علیحدگی —
یہ سب فرار نہیں بلکہ فکری دفاع ہے۔
جنگِ نرم میں ہر باخبر ذہن ایک قلعہ ہے اور ہر محفوظ شعور ایک مورچہ اور جو قوم اپنے ذہن کی سرحدوں کی حفاظت کرنا جان لے، اسے کوئی سامراجی طاقت
اندر سے توڑ نہیں سکتی، کیونکہ بالآخر سچ وہ مضبوط دیوار ہے جس سے ٹکرا کر جھوٹ کی ہر لہر ٹوٹ جاتی ہے۔
ایران میں نیٹ پر بندش کیوں؟
اب آئیں اس سوال کا منطقی جواب ڈھونڈتے ہیں کہ ایران نے پوری طرح نیٹ کیوں بند کیا ؟ اس کی کیا ضرورت پیش آئی؟
قابل غور ہے کہ
غیر ملکی دشمنوں نے امریکہ اور اسرائیل کی حمایت سے اپنے جاسوسی اور فساد پھیلانے والے نیٹ ورک کو فعال کیا اور اقتصادی احتجاجات کے پردے میں داعش جیسی منظم بغاوت سینکڑوں شہروں میں شروع کی۔ ان نیٹ ورکس کی ہم آہنگی کو روکنے اور عوام کی جانوں کی حفاظت کے لیے رابطوں پر پابندیاں، بشمول انٹرنیٹ کی بندش یا کنٹرول، نافذ کی گئیں۔ یہ اقدام عوام کی سلامتی کو ترجیح دینے اور تشدد و دہشت گردی کے پھیلاؤ کو روکنے کے مقصد سے کیا گیا۔
ایران پر حملے کے لیے غیر ملکی دشمنوں کو دعوت دینے میں ضدِ انقلاب کی رسوائی
ضدِ انقلاب گروہ داخلی بغاوت میں ناکام ہونے کے بعد غیر ملکی دشمنوں کی طرف متوجہ ہوئے اور حتیٰ کہ امریکہ اور اسرائیل سے براہِ راست فوجی حملے اور ایرانی حکام کے وسیع پیمانے پر قتل میں مدد مانگی۔ یہ اقدام ان کے لیے بڑی رسوائی ثابت ہوا کیونکہ اس نے ظاہر کیا کہ یہ گروہ نہ صرف ایرانی عوام کے وفادار نہیں ہیں بلکہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ملک کو غیر ملکیوں کے حوالے کرنے پر بھی تیار ہیں۔ آخرکار یہ سازش بھی ناکام ہوئی اور دشمنوں کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔
ایران کے موجودہ دشمن کون ہیں؟
امریکہ
اسرائیل
مغربی طاقتیں
مجاہدین خلق
سلطنت پسند
یہ وہ دشمن ہیں جنکے بارے میں سب کچھ عیاں ہے ۔
دیکھا جائے تو ایران کے دشمن مختلف طبقات پر مشتمل ہیں: - مغربی طاقتیں جیسے امریکہ اور صہیونی ریاست جو وسائل پر قبضہ اور آزاد ممالک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔
- داخلی مزدور نیٹ ورک جو احتجاجات کے پردے میں فساد اور دہشت گردی کو منظم کرتے ہیں
- ضدِ انقلاب گروہ، بشمول مجاہدین خلق اور سلطنت پسند، جو غیر ملکی دشمنوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور بدامنی و فساد میں کردار ادا کرتے ہیں۔
یہ تمام گروہ مل کر اسلامی جمہوریہ ایران کو گرانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہوئے لیکن عوام کی کروڑوں کی تعداد میں موجودگی اور نظام کی با بصیرت قیادت کے باعث ناکام ہوگئے۔
موجودہ نیٹ پر بندش کو مغربی اسی لئےبڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے کہ سامراج اور انقلاب مخالف عناصر کو جوانوں کے ذہنوں میں شیطانی زراعت کا موقع نہیں مل رہا ہے۔ جبکہ داخلی طور پر ایران میں کسی حد تک نیٹ کے سلسلہ سے سہولت فراہم کی گئی ہے اور ضروری حد تک صارفین کو شرائط کے تحت بیرونی دنیا سے بھی جڑنے کی اجازت ہے ۔یہ شرائط و ضوابط اور نیٹ پر بندش یوں ہی نہیں جبکہ روزانہ اسلامی جمہوریہ ایران کو کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے لیکن یہ کروڑوں کا نقصان اس نقصان کے بہ نسبت کم ہے جو نیٹ کی سہولت کی بنیاد ہر نظام کے مخالفین نے پہنچایا یا آگے پہنچا سکتے ہیں ۔جب خطرے بڑھ جاتے ہیں تو پابندیاں بھی بڑھتی ہیں اس قسم کی پابندیوں کا مطلب عوام کو پریشان کرنا نہیں بلکہ ملک کو بیرونی مداخلت سے روکنا بھی ہوتا ہے۔ جو قوم اپنے ذہن کی سرحدوں میں کسی کو گھسنے کا موقع نہیں دیتی وہی ظفریاب بھی ہوتی ہے۔









آپ کا تبصرہ