حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس خط میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ظہور کے دور میں حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام، امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے ہمراہ ہوں گے اور حقیقی اہلِ ایمان عدل کے قیام اور ظلم کے مقابلے میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔
اس پیغام کا ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ اس میں امریکی عوام اور اس ملک کے سیاست دانوں کے درمیان تفریق کی گئی ہے۔ امریکی عوام کو براہِ راست مخاطب کیا گیا ہے تاکہ وہ ایک تاریخی انتخاب کے ذریعے ظلم و تسلط کی قوتوں کے مقابلے میں اپنا مقام متعین کر سکیں۔
خط کے اس حصے کی اہمیت اس وقت مزید واضح ہوتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ گزشتہ برسوں کے دوران امریکہ میں مسیحی صہیونیت سے وابستہ بعض حلقوں نے آخری زمانے کی ایک ایسی متضاد تصویر پیش کرنے کی کوشش کی ہے جس میں امام مہدی علیہ السلام کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آخری زمانے کے دشمن کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
اس تصور کے مقابلے میں اسلام اور مسیحیت کے آخری زمانے سے متعلق مشترکہ عقائد کی درست وضاحت یہ ظاہر کر سکتی ہے کہ "منجی" کا مسئلہ اہلِ ایمان کے باہمی اتحاد اور ظلم و ناانصافی کے مقابلے میں مشترکہ جدوجہد کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اس تناظر میں مهدویت کے شعبے سے وابستہ فعال افراد کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان مشترکہ عقائد کی درست وضاحت کریں اور مختلف ادیان کے پیروکاروں کے درمیان موعود منجی کے بارے میں تحریف شدہ تصورات کے فروغ کو روکیں۔
مرکز تخصصی مهدویت حوزہ علمیہ قم، شعبہ مغرب و مهدویت










آپ کا تبصرہ