حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پیرس، چنئی، تمل ناڈو میں نمازِ جمعہ کے خطیب مولانا محمد معراج رنوی نے خطبۂ جمعہ میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ، دورِ امامت اور اس زمانے میں شیعہ معاشرے کی دینی رہنمائی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ غیبتِ کبریٰ کے زمانے میں دینی امور کے لیے جامع الشرائط مرجعِ تقلید سے رہنمائی حاصل کرنا شیعہ معاشرے کی اہم ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کا دور شیعہ معاشرے کے لیے انتہائی اہم اور حساس تھا۔ اس زمانے میں شیعوں کو مختلف سماجی اور دینی مشکلات کا سامنا تھا۔ ایسے حالات میں امام علیہ السلام نے اپنے پیروکاروں کی دینی رہنمائی، ان کے درمیان اتحاد اور اسلامی تعلیمات سے ان کے تعلق کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی۔
غیبتِ کبریٰ میں مرجعیت دینی رہنمائی کا اہم ذریعہ
مولانا محمد معراج رنوی نے مرجعیت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ غیبتِ کبریٰ کے زمانے میں جب مومنین براہِ راست اپنے معصوم امام کی زیارت اور رہنمائی سے محروم ہیں، دینی احکام اور اسلامی مسائل میں اہل اور قابلِ اعتماد مرجعِ تقلید سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔ مرجعیت پر اعتماد درحقیقت امامِ زمانہ علیہ السلام کی ہدایت اور ان کی معصوم ذات پر ایمان و اعتماد سے بھی جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس دور میں انسان اپنے معصوم امام کی ظاہری زیارت سے محروم ہو، اس دور میں دین کی صحیح سمجھ اور معتبر دینی رہنمائی سے وابستہ رہنا اس کی اہم ذمہ داری ہے۔ مرجعیت اسی دینی رہنمائی کے نظام کا ایک اہم حصہ ہے۔
مولانا نے کہا کہ اپنے زمانے کے معصوم امام پر ایمان، اللہ تعالیٰ پر ایمان کی علامت ہے۔ تاہم ایمان صرف زبان سے دعویٰ کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کا اثر انسان کے عقائد، کردار، عمل اور زندگی کے فیصلوں میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔
اللہ پر ایمان اور مومنین کے لیے فائدہ مند ہونا
خطیبِ نماز جمعہ نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے ایک نورانی فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انسان کے لیے دو صفات سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں؛ ایک اللہ تعالیٰ پر ایمان اور دوسری مومن بھائیوں کے لیے فائدہ مند ہونا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ پر حقیقی ایمان انسان کو روحانی اور اخلاقی کمال کی طرف لے جاتا ہے۔ جب دل میں اللہ پر یقین مضبوط ہوتا ہے تو انسان کے افکار، کردار اور دوسروں کے ساتھ اس کے تعلقات بھی اسی ایمان سے متاثر ہوتے ہیں۔
مولانا معراج رنوی نے کہا کہ ایمان کا حقیقی اثر انسان کے کردار میں نظر آنا چاہیے۔ صرف عبادت انجام دینا کافی نہیں بلکہ انسان کو اپنے آس پاس رہنے والے لوگوں کے لیے خیر اور راحت کا ذریعہ بھی بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جو شخص اپنے مومن بھائیوں کے لیے فائدہ اور بھلائی کا ذریعہ بنتا ہے، وہ معاشرے میں عزت حاصل کرتا ہے۔ اس کا احترام صرف لوگوں کی نظر میں نہیں ہوتا بلکہ دینی اعتبار سے بھی اسے اہم مقام حاصل ہوتا ہے اور وہ امام علیہ السلام کی نظر میں بھی قابلِ احترام ہوتا ہے
مومنین کی خدمت ایمان کا عملی اظہار ہے
مولانا نے کہا کہ ایک دوسرے کی مدد کرنا، ضرورت مند مومنین کا ساتھ دینا، ان کی مشکلات کو سمجھنا اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کی پریشانیاں دور کرنے کی کوشش کرنا دینی اور سماجی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے کی حقیقی طاقت اس کے افراد کے درمیان باہمی اعتماد، اخوت اور تعاون سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر مومنین ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں اور ذاتی اختلافات سے بالاتر ہوکر اجتماعی مفاد کو ترجیح دیں تو معاشرہ بہت سے مسائل کا بہتر انداز میں مقابلہ کرسکتا ہے۔
انہوں نے مومنین کو نصیحت کی کہ ہر شخص اپنے کردار کا جائزہ لے اور یہ دیکھے کہ اس کی ذات سے دوسروں کو کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے۔ انسان کی قدر و منزلت صرف اس کے ذاتی اعمال سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کے لیے کس قدر مفید ہے۔
باہمی اختلافات معاشرے کو کمزور کرتے ہیں
خطیبِ نماز جمعہ نے معاشرے میں بڑھتے ہوئے باہمی اختلاف، کشیدگی اور ایک دوسرے سے بدگمانی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ جب لوگ ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے، نیچا دکھانے یا ذاتی مفادات کو ترجیح دینے لگتے ہیں تو اس کا نقصان پوری قوم کو پہنچتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ باہمی اختلافات اور دلوں میں ایک دوسرے کے لیے نفرت صرف ایک شخص کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کو متاثر کرتی ہے۔ مومنین کے درمیان بھائی چارے، احترام اور تعاون کا ماحول قائم رکھنا ضروری ہے۔
مولانا نے کہا کہ قوم کے اندر مسلسل اختلاف اور ایک دوسرے کے لیے ناپسندیدگی کی کیفیت ایمان کی کمزوری کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے۔ حقیقی ایمان انسان کو عاجزی، بھائی چارے، برداشت اور دوسروں کے حقوق کا احترام سکھاتا ہے۔
قوم کی بدحالی کا ایک سبب باہمی تعاون کی کمی ہے
مولانا محمد معراج رنوی نے کہا کہ کسی قوم کی بدحالی، پسماندگی اور زوال کے متعدد اسباب ہوسکتے ہیں، لیکن مومن بھائیوں کے لیے فائدہ مند بننے کا جذبہ کمزور ہوجانا بھی اس کی ایک اہم وجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب معاشرے کے افراد ایک دوسرے کی مدد سے دور ہوجاتے ہیں اور ہر شخص صرف اپنے ذاتی مفادات تک محدود ہوجاتا ہے تو اجتماعی اتحاد کمزور پڑنے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں معاشرتی مسائل میں اضافہ ہوتا ہے اور قوم کی اجتماعی قوت متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے مومنین سے اپیل کی کہ وہ ایک دوسرے کی مدد کو اپنی دینی اور سماجی ذمہ داری سمجھیں اور معاشرے میں تعاون، بھائی چارے اور باہمی احترام کی ثقافت کو مضبوط کریں۔
امام حسن عسکری علیہ السلام کی تعلیمات پر عمل کی ضرورت
خطبۂ جمعہ کے اختتام پر مولانا محمد معراج رنوی نے کہا کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی تعلیمات صرف تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ آج بھی ہمارے لیے رہنمائی کا اہم ذریعہ ہیں۔ بالخصوص ایمان، حسنِ اخلاق، مومنین کے حقوق اور معاشرتی ذمہ داریوں کے حوالے سے امام علیہ السلام کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم واقعی اہل بیت علیہم السلام کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمارے کردار میں بھی ان کی تعلیمات کی جھلک نظر آنی چاہیے۔ ایک دوسرے کے لیے خیر اور بھلائی کا ذریعہ بننا، مشکل وقت میں ساتھ دینا، اختلافات کو بڑھانے کے بجائے انہیں ختم کرنا اور معاشرے کے اتحاد کو مضبوط کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
خطبے کے آخر میں مولانا محمد معراج رنوی نے مومنین کو اپنی دینی اور سماجی ذمہ داریوں پر عمل کرنے کی نصیحت کی اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مومنین کے درمیان اتحاد، بھائی چارے اور باہمی تعاون کو مضبوط فرمائے اور معاشرے کو ہر قسم کے اختلاف و انتشار سے محفوظ رکھے۔
اس موقع پر ایران کو دنیا کے ظالموں کے مقابلے میں کامیابی و فتح عطا ہونے اور ظالموں کی شکست کے لیے بھی دعا کی گئی۔ ساتھ ہی حضرت امام عصر، امام مہدی علیہ السلام کے جلد ظہور، ظہور کی راہ ہموار ہونے اور پوری دنیا میں عدل و انصاف کے قیام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔










آپ کا تبصرہ