حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ محمد باقر تحریری نے درسِ اخلاق میں حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے خطبۂ متقین کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ انسان کی بہت سی اچھی اور بری صفات اس کے سماجی تعلقات میں ظاہر ہوتی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے تعلقات کے اثرات کو سمجھے اور دیکھے کہ کن لوگوں کی صحبت اس کے ایمان اور تقویٰ کو مضبوط کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اچھے تعلق کی بنیادی علامت یہ ہے کہ انسان خود بھی دینی فرائض کا پابند ہو اور سامنے والا بھی کم از کم واجبات کی ادائیگی اور حرام کاموں سے بچنے کا اہتمام کرتا ہو۔ انسان کے عقائد بھی اس کے رویے پر اثر ڈالتے ہیں، اس لیے دوستوں اور ساتھیوں کے انتخاب میں ان کے دینی نظریات اور عملی کردار کو بھی دیکھنا چاہیے۔
آیت اللہ تحریری نے خبردار کیا کہ بعض لوگ بظاہر دینی شکل و صورت رکھتے ہیں، لیکن ان کے اندر غلط مقاصد، فریب یا ذاتی مفادات ہوسکتے ہیں۔ اس لیے صرف ظاہری صورت کو معیار نہیں بنانا چاہیے بلکہ انسان کے عمل اور کردار کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی سے دوری اختیار کرنا بھی تکبر، خود پسندی یا دوسروں کو حقیر سمجھنے کی وجہ سے نہیں ہونا چاہیے۔ مؤمن کو باطل کے مقابلے میں مضبوط اور اہلِ ایمان کے ساتھ نرم اور مہربان ہونا چاہیے۔ قرآن کریم نے بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھیوں کی ایک اہم صفت یہ بیان کی ہے کہ وہ باطل کے مقابلے میں مضبوط اور آپس میں رحم دل تھے۔
آیت اللہ تحریری نے بیعتِ رضوان اور صلحِ حدیبیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حق کے ساتھ وابستگی صرف زبانی دعویٰ نہیں بلکہ ایمان، وفاداری، ثابت قدمی اور عملی اطاعت کا تقاضا کرتی ہے۔ حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کی اطاعت اور فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے تسلیم ہونا اس کی روشن مثال ہے۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ صالح لوگوں کی صحبت انسان کی دینی اور اخلاقی ترقی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس لیے انسان کو اپنے خاندانی، دوستانہ اور سماجی تعلقات میں ہمیشہ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ تعلق خدا کی رضا اور حق کی بنیاد پر ہے یا ذاتی مفاد اور خواہشات کے زیرِ اثر۔










آپ کا تبصرہ