حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید یاسین موسوی نے 25 ستمبر 2026 کو نماز جمعہ کے خطبے میں اقوام متحدہ کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ عالمی امن و سلامتی کے تحفظ اور جنگ و جارحیت کی روک تھام جیسے اپنے بنیادی مقاصد کے حصول میں بڑی حد تک ناکام رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سوویت یونین کے خاتمے کے بعد دنیا یک قطبی نظام کی طرف بڑھی اور امریکہ و اس کے مغربی اتحادی عالمی نظام پر غالب ہوگئے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے مختلف ممالک میں مداخلت اور جنگوں کے ذریعے نوآبادیاتی پالیسیوں کو نئے انداز میں جاری رکھا، جبکہ اقوام متحدہ ان اقدامات کو روکنے میں مؤثر کردار ادا نہیں کرسکا۔
عراق کو کمزور نہیں ہونا چاہیے
آیت اللہ موسوی نے بعض عرب اور اسلامی ممالک کے حالیہ رویوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ عراق کو امریکہ کے سامنے اس انداز میں پیش نہیں ہونا چاہیے جس میں کمزوری یا ذلت کا تاثر ملے۔ انہوں نے کہا کہ عراق کو ایسے فریقوں کے ساتھ تعاون بڑھانا چاہیے جو اس کی طاقت، اقتدار اور عزت کو مضبوط کرتے ہیں۔
انہوں نے ایران کو خطے کی ایک اہم طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں مزاحمت کی ہے۔
ایران سے پروازوں کی پابندی پر اعتراض
امام جمعہ بغداد نے ایران سے عراق آنے والی بعض پروازوں کو روکنے کے فیصلے پر بھی اعتراض کیا اور کہا کہ ان پروازوں کے مسافروں کی ایک بڑی تعداد امام حسین علیہ السلام کے زائرین پر مشتمل ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو عراقی اور ایرانی حکام کے ساتھ ساتھ متعلقہ کمیٹی کے سامنے بھی اٹھایا گیا ہے، تاہم انہیں فراہم کی گئی سکیورٹی وجوہات اس اقدام کو ثابت نہیں کرتیں۔
آیت اللہ موسوی نے واضح کیا کہ ان کا اصولی موقف یہ ہے کہ ہتھیار ریاستی ڈھانچے کے اندر ہونے چاہئیں، لیکن اس معاملے کو دہشت گردی کے خلاف لڑنے والی قوتوں کو کمزور کرنے یا عراق پر امریکی اثر و رسوخ مسلط کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے لبنان کی مزاحمت اور یمن کی تحریک انصار اللہ کو بھی خطے میں مزاحمتی قوتوں کا حصہ قرار دیا اور عراقی سیاسی جماعتوں، خصوصاً رابطۂ فریم ورک، سے مطالبہ کیا کہ وہ عراق کی عزت و وقار کے تحفظ کی ذمہ داری ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات عزت و وقار کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، نہ کہ کمزوری اور رعایت دینے کی بنیاد پر۔










آپ کا تبصرہ