حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ محسن اراکی نے دزفول کے قاریوں اور حفاظ کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس علاقے کے عوام کی گہری دینی وابستگی اور قابلِ مثال استقامت کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ دزفول کے عوام نے اسلام اور ایران کی ترقی کی راہ میں بہت سی قربانیاں اور مشکلات برداشت کی ہیں، اسی وجہ سے دزفول کو ملک میں ایک مثالی شہر کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
انہوں نے دزفول کے مثالی شہر بننے کے عوامل کی وضاحت کرنے اور اس خصوصیت کو برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے مقامی ذمہ داران سے کہا کہ وہ اس شہر کی مثالی حیثیت کو زندہ رکھیں۔
آیت اللہ اراکی نے ملک بھر میں تقویٰ اور معنویت کے فروغ کے لیے قرآنی جلسوں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
مسلح افواج کے ہاتھ چومنے چاہئیں
مجلسِ خبرگانِ رہبری کے رکن نے ملک کی موجودہ صورتِ حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج کی شجاعت اور بہادری عروج پر ہے اور ہمیں ان کے ہاتھ چومنے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں ملک کا انتظام چلانا بھی آسان نہیں، اس لیے حکومت اور ذمہ داران کی خدمات کی قدر کرنی چاہیے۔
عوام کے بھی کچھ مطالبات ہیں
انہوں نے کہا کہ اس سفر میں عوام کے بھی کچھ مطالبات ہیں، جن میں سب سے اہم یہ ہے کہ بالخصوص ذمہ داران کی جانب سے دشمن کے سامنے کسی قسم کی کمزوری کا اظہار نہیں ہونا چاہیے۔
ذمہ داران اپنی زبان پر قابو رکھیں
آیت اللہ اراکی نے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک اپنی کمزوریوں کو ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں، لہٰذا ہمارے ذمہ داران کو بھی اپنی زبان پر قابو رکھنا چاہیے۔
انہوں نے تاکید کی کہ ذمہ داران کے بیانات سے دشمن کو حوصلہ نہیں ملنا چاہیے۔ بعض ذمہ داران کبھی یہ کہتے ہیں کہ حکومت میں امر و نہی کا کوئی تصور نہیں، حالانکہ حکومت چلانا اصولی طور پر عقل مندانہ اور ذمہ دارانہ امر و نہی کے ساتھ ہوتا ہے۔
بے حجابی اللہ اور رسولِ خدا سے اعلانِ جنگ ہے
آیت اللہ اراکی نے علناً بے حجابی کو اللہ اور رسولِ خدا سے اعلانِ جنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ داران کم از کم زبان سے یہ واضح کریں کہ بے حجابی قانون کے خلاف ہے اور معاشرے میں قانون شکنی کو رواج نہیں ملنا چاہیے۔
مجمع تشخیص مصلحتِ نظام کے رکن نے بے حجابی کی مخالفت کو تمام ذمہ داران، علما، مقررین اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کی قطعی شرعی ذمہ داری قرار دیا اور کہا کہ معاشرے میں برائی کو اچھائی اور اچھائی کو برائی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
میدان میں عوام کی مسلسل موجودگی ضروری ہے
آیت اللہ اراکی نے عوام کی میدان میں مسلسل موجودگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور توفیق سے حق کے محاذ کو جلد از جلد حتمی فتح حاصل ہوگی۔









آپ کا تبصرہ