حوزہ نیوز ایجنسی کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے حوزه علمیه کی سپریم کونسل اور مجلس خبرگان کی اعلی کونسل کے رکن آیت اللہ محسن اراکی نے مقام معظم رہبری کے احکام کی پیروی اور ان پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: ہمیں امید ہے کہ سیاسی ذمہ داران سو فیصد اور مکمل طور پر اسی فریم ورک کے اندر عمل کریں گے جو مقام معظم رہبری مذاکرات میں متعین فرماتے ہیں۔
انہوں نے کہا: ذمہ داران کے لیے ضروری ہے کہ وہ گفتگو، سیاسی سفارت کاری اور ممالک سے تعلقات کے تمام شعبوں خاص طور پر امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں بالکل اسی طرح عمل کریں جیسا کہ مقام معظم رہبری نے فرمایا ہے اور جو سرخ خطوط اور قواعد انہوں نے متعین کیے ہیں۔
مجلس خبرگان کی اعلی کونسل کے رکن نے کہا: اگر ذمہ داران مقام معظم رہبری کے ضوابط، فریم ورک اور سرخ خطوط سے ایک ذرہ حتیٰ کہ بال برابر بھی تجاوز کریں تو یہ شرعاً حرام ہے اور انہیں ایسی اجازت نہیں ہے۔
آیت اللہ اراکی نے کہا: حکام جان لیں کہ ہم امریکہ سے صرف طاقت کے راستے ہی کامیاب ہو سکتے ہیں، ہمیں اپنی طاقت کا مظاہرہ ان کے سامنے کرنا ہوگا، ورنہ وہ ان گفتگوؤں کے ذریعے ہماری شرائط کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا: اس راستے میں ذمہ داران خدا پر توکل کریں اور کسی بھی چیز سے خوفزدہ نہ ہوں اور جان لیں کہ خدا ان کا مددگار ہے اور مقام معظم رہبری اور تمام عوام کی دعائیں ان کے شامل حال ہیں اور ان شاء اللہ وہ کامیاب ہوں گے کہ مقام معظم رہبری کے متعین کردہ فریم ورک کے اندر ہی اقدامات کریں گے۔









آپ کا تبصرہ