حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید محمد سعیدی نے قم میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں سورۃ الفتح کی آیت نمبر 18 کی تفسیر میں، جسے آیت رضوان کے نام سے جانا جاتا ہے، کہا کہ یہ آیت ولی اور امت کے درمیان تعلق کی وضاحت کرنے والی کلیدی عبارتوں میں سے ایک ہے۔
امام جمعہ قم نے مزید کہا کہ قرآن کے نقطۂ نظر سے ولی کی بیعت سیاسی اور سماجی معاہدہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک دینی فریضہ ہے جو خدا کو راضی کرتا ہے اور اس کا ثمر معاشرے کے انتشار اور شدید بحرانوں میں مؤمنین کے دلوں کا سکون ہے۔ جو معاشرہ ولی کے گرد جمع ہو گیا ہو وہ نہ اضطراب کا شکار ہو گا اور نہ ہی ٹوٹے گا اور اس قسم کی بیعت پر ڈٹ کر رہنے کا صلہ فتح و نصرت ہے۔
انہوں نے بیعت رضوان کو ایک مشکل بیعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مؤمنین جانتے تھے کہ اس سے عملی وابستگی ان کی جانوں کو ضائع کر سکتی ہے؛ جب خداوند متعال نے ان مؤمنین کی بیعت میں خلوص کو دیکھا تو اس نے بیعت کرنے والوں کے حق میں ورق پلٹا دیا۔
انہوں نے کہا کہ یا تو ایران آبنائے ہرمز کے قوانین کا تعین کرے نہیں تو کوئی دوسرا آبنائے ہرمز کے لیے اصول طے کرے گا۔ اس اہم مسئلے میں کوئی خلا باقی نہیں بچے گا، اگر ہم نے میدان کو نہیں سنبھالا تو دوسرے آ کر سنبھالیں گے۔ اگر ہم ممالک کو اکٹھا نہیں کریں گے تو دوسرے اتحاد کریں گے اور اگر ہم فریم ورک نہیں ترتیب دیں گے تو دوسرے فریم ورک ترتیب دیں گے۔
آیت اللہ سعیدی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ایران کو آبنائے ہرمز میں رہنا چاہیے اور دوسروں کو بھی ایران کے منصوبے پر مؤقف اختیار کرنا چاہیے، کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ رد عمل کی حالت سے نکل کر منصوبہ ساز، دعوت دینے والے، حکمرانی کرنے والے اور مطالبہ کرنے والے کی حالت میں داخل ہو جائے۔ اگر ایران اس بات کا انتظار کرتا ہے کہ دوسرے کیا کہتے ہیں اور برطانیہ اور فرانس ایک کانفرنس انعقاد کریں اور ہندوستان اور چین کو اصول طے کرنے کے لیے مدعو کریں تو وہ اس پہل سے محروم ہو جائے گا۔
انہوں نے آبنائے ہرمز میں اٹھائے جانے والے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلا یہ ہے کہ ان تمام ممالک کو دعوت دی جائے جن کی تجارت اس آبی گزرگاہ پر منحصر ہے، دوسرا خطے کے عرب ممالک کے ساتھ مشاورت شروع کرنا اور تیسرا یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے نئے فریم ورک کا اعلان کرنے کی پوزیشن میں ایران پر مرکوز ایک نئی حکمرانی کی تشکیل کی طرف بڑھے۔
انہوں نے جابر ٹرمپ کی پوپ اور دنیائے عیسائیت کے رہنما کی توہین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے سب سمجھ گئے کہ ٹرمپ کسی منطق کا پابند نہیں ہے اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا تمام الٰہی انبیاء کا مشترکہ راستہ ہے۔
امام جمعہ قم نے سڑکوں پر لوگوں کے اجتماع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ راہ خدا میں جہاد کرنے اور جھنڈا بنانے والے پہلے شخص حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔ان ایام میں عوام اپنے بامقصد اجتماعات میں ایران اور جرأت مند حزب الله کے پرچم کو لہرا کر اس پرچم کو دنیا میں مظلوموں کا جھنڈا بنانے اور ظلم، کفر اور عالمی استکبار کے پرچم کو گرانے کا سبب بنے اور خدائی طاقت اور دشمنوں کی شکست کے ساتھ، یہ پرچم مہدی آل محمد علیہم السّلام کی عالمی حکومت کے پرچم کو بلند کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔









آپ کا تبصرہ