حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد امریکہ کو نہ صرف عسکری بلکہ سیاسی اور اخلاقی سطح پر بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ تازہ رپورٹس نے امریکی دعوؤں کی حقیقت کو مزید بے نقاب کر دیا ہے۔ امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) کی جانب سے جانی نقصانات کے حوالے سے متضاد اعداد و شمار سامنے آنے پر خود امریکی میڈیا نے اسے “سینسرشپ” قرار دیا ہے۔ پہلے 348 زخمیوں کا دعویٰ کیا گیا تھا، جو اب بڑھا کر 399 کر دیا گیا ہے، جبکہ شدید زخمیوں کی تعداد میں بھی تضاد پایا جاتا ہے۔
میدان جنگ میں امریکی فوجیوں کے حوصلے بھی پست ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مسلسل ایرانی حملوں، غیر یقینی حالات اور واشنگٹن کی ناقص حکمت عملی کے باعث امریکی فوجیوں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ صرف ایک ماہ کے اندر خلیج فارس کے مختلف اڈوں سے 734 اہلکاروں کے استعفے رپورٹ ہوئے، جو اس بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ دعویٰ کیا کہ ان کی مداخلت نہ ہوتی تو ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیتا، تاہم ان کے اپنے دور کے سابق انسداد دہشت گردی سربراہ جو کنٹ نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ 18 امریکی انٹیلی جنس ادارے اس بات پر متفق ہیں کہ ایران اس وقت ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا تھا۔
عالمی میڈیا نے بھی اس جنگ میں امریکہ کی ناکامی کو واضح طور پر اجاگر کیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز The New York Times کے مطابق امریکہ کو چار بڑے محاذوں پر شکست ہوئی، جن میں آبنائے ہرمز، عسکری میدان، اتحادیوں سے اختلافات اور اخلاقی ساکھ شامل ہیں۔ اسی طرح الجزیرہ چینل Al Jazeera English نے ایران کو خطے میں اسرائیلی منصوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔
امریکی داخلی سیاست میں بھی اس جنگ پر تنقید بڑھتی جا رہی ہے۔ Nancy Pelosi نے کہا کہ اس جنگ نے امریکی عوام، خصوصاً مزدور طبقے پر معاشی بوجھ بڑھا دیا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ایران کے مؤقف کو تقویت مل رہی ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ یورینیم کی افزودگی ایران کا قانونی حق ہے اور اس حوالے سے کسی بھی معاہدے میں ایران کی رضامندی ضروری ہے۔
ایران کے اندر بھی جنگ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے دیہی علاقوں میں 3 کروڑ اور شہری علاقوں میں 7 کروڑ تومان تک رہائشی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے دوران 91 ہزار سے زائد رہائشی و تجارتی یونٹس متاثر ہوئے، جن میں تہران سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ رہا۔
لبنان کے محاذ پر بھی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، جہاں نبیہ بری اور حسن فضل اللہ نے لبنانی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے غلط حکمت عملی اور امریکہ پر انحصار کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جنگ کے بعد امریکہ کو داخلی و خارجی سطح پر دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ ایران نہ صرف اپنے مؤقف پر قائم ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اسے تائید حاصل ہو رہی ہے۔









آپ کا تبصرہ