منگل 14 اپریل 2026 - 21:15
ٹرمپ کا محاصرہ ناکام، ایران مضبوط تر: عالمی سطح پر امریکہ و اسرائیل کو سفارتی و عسکری دھچکا

حوزہ/ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور نام نہاد جنگ بندی کے دوران اہم پیش رفتوں نے عالمی منظرنامے کو مزید بدل کر رکھ دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز پر عائد کردہ بحری محاصرہ عملی طور پر ناکام ثابت ہوا، کیونکہ ایران سے متعلق چار آئل ٹینکر اس محاصرے کو عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے، جس سے امریکی دعوؤں کی کمزوری نمایاں ہو گئی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور نام نہاد جنگ بندی کے دوران اہم پیش رفتوں نے عالمی منظرنامے کو مزید بدل کر رکھ دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز پر عائد کردہ بحری محاصرہ عملی طور پر ناکام ثابت ہوا، کیونکہ ایران سے متعلق چار آئل ٹینکر اس محاصرے کو عبور کرنے میں کامیاب ہو گئے، جس سے امریکی دعوؤں کی کمزوری نمایاں ہو گئی۔

ادھر ایران نے جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات پر تیزی سے قابو پاتے ہوئے ایک اور بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ امریکی۔صہیونی حملوں میں متاثر ہونے والے ریلوے نیٹ ورک کے چھ اہم مقامات کو ایرانی ماہرین نے محض 40 گھنٹوں کے اندر بحال کر دیا، جس کے بعد ملک بھر میں ٹرین سروس مکمل طور پر بحال ہو چکی ہے۔ یہ اقدام ایران کی داخلی صلاحیت اور ہنگامی ردعمل کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی امریکہ اور اسرائیل کو شدید تنقید اور سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔ سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اعتراف کیا کہ امریکہ اس وقت ایران کے مقابلے میں کمزور پوزیشن میں ہے اور اتحادی ممالک بھی امریکی پالیسیوں سے مایوس ہو چکے ہیں۔ اسی طرح انٹونی بلنکن نے بھی اس صورتحال کو امریکہ کی اسٹریٹجک شکست قرار دیا۔

یورپی اور مغربی ممالک کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ کینیڈا نے امریکی فوجی اخراجات میں حصہ ڈالنے سے انکار کر دیا، جبکہ اسپین اور اٹلی نے اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون معطل کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز نے بھی اعتراف کیا کہ نتن یاہو کی جانب سے جنگ کو کامیابی قرار دینا حقیقت کے برعکس ہے۔

دوسری جانب خطے میں عوامی سطح پر بھی ایران کی حمایت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ترکی سے درجنوں مسلمان ایران پہنچے، جبکہ سینکڑوں گاڑیوں پر مشتمل قافلے نے انہیں سرحد تک رخصت کیا، جسے ایران کی حمایت اور "عزت اسلام" کے دفاع کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

مزید برآں، امریکی صدر ٹرمپ کو مذہبی سطح پر بھی شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے پاپ لیو چہاردم کے خلاف توہین آمیز بیان دیا۔ اس اقدام پر عالمی سطح پر شدید مذمت ہوئی، جس کے بعد ٹرمپ کو اپنا بیان واپس لینا پڑا۔ ایران سمیت مختلف مذہبی و سیاسی شخصیات نے پاپ کی حمایت میں آواز بلند کی۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ جنگی، سفارتی اور عوامی محاذ پر ایران کو برتری حاصل ہو رہی ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی شدید دباؤ اور تنقید کی زد میں ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha