حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ کے صدر کی جانب سے کیتھولک عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردم کو مبینہ طور پر قتل کی دھمکی دینے اور بعد ازاں خود کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے روپ میں پیش کرنے کے اقدام نے عالمی سطح پر شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔ پاپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگی دھمکیوں پر تنقید کے بعد ٹرمپ کے سخت ردعمل نے مذہبی و سیاسی حلقوں میں ایک نئے بحران کو جنم دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، ٹرمپ نے ایک مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ تصویر جاری کی، جس میں وہ خود کو حضرت مسیح علیہ السلام کے طور پر ایک مریض کو شفا دیتے ہوئے دکھاتے ہیں، جبکہ پس منظر میں فرشتے اور امریکی جنگی طیارے بھی موجود ہیں۔ اس اقدام کو دنیا بھر میں عیسائی برادری نے نہایت توہین آمیز قرار دیا، خصوصاً اس تناظر میں کہ اس سے قبل وہ پاپ پر سخت تنقید اور دھمکی آمیز لہجہ اختیار کر چکے تھے۔

امریکی سیاسی شخصیات نے بھی اس معاملے پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔ سینیٹر مارک کیلی نے کہا کہ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ میں ناکامی اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ہر سمت حملے کر رہے ہیں، حتیٰ کہ مذہبی اداروں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔
اسی طرح مارجوری ٹیلر گرین نے اس تصویر کو "کفر سے بھی بڑھ کر" قرار دیتے ہوئے اسے "دجالی سوچ" کا مظہر کہا۔ دوسری جانب گیون نیوسن نے طنزیہ انداز میں ایک تصویر شیئر کی، جس میں ٹرمپ کو دجال کے روپ میں دکھایا گیا، جو امریکی سیاست میں بڑھتی ہوئی تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے نیٹو پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے اسے غیر مؤثر قرار دیا اور ایران کے خلاف جنگ میں ساتھ نہ دینے پر ناراضی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس اتحاد سے علیحدگی کی دھمکی بھی دی، جس سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔

دوسری جانب، پاپ لیو چہاردم نے ٹرمپ کے ایران کے حوالے سے بیانات کو "ناقابل قبول" قرار دیتے ہوئے جنگ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی تھی۔ اسی تناظر میں ٹرمپ کا سخت اور مبینہ طور پر دھمکی آمیز ردعمل سامنے آیا، جس نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور اقدامات نہ صرف عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ مذہب جیسے حساس معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے بین الاقوامی کشیدگی اور داخلی کشیدگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔









آپ کا تبصرہ