حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حالیہ جنگ بندی کے بعد ایک نئی لفظی جنگ شروع ہو گئی ہے، جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور ایران کے جوابات آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ ایران نے ٹرمپ کے متعدد دعوؤں کو “غلط اور گمراہ کن” قرار دیتے ہوئے ان کی تردید کی ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے مکمل کھلنے، ایران کے مالی اثاثوں، جوہری پروگرام اور دیگر معاملات پر کئی دعوے کیے، لیکن تہران کا کہنا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز مکمل طور پر نہیں کھولی گئی تھی بلکہ محدود اور کنٹرولڈ انداز میں آمد و رفت کی اجازت دی گئی تھی، جو بعد میں دوبارہ سخت نگرانی میں آ گئی۔
ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “امریکی صدر نے ایک ہی وقت میں کئی غلط دعوے کیے، لیکن وہ نہ جنگ میں کامیاب ہوئے اور نہ ہی مذاکرات میں کامیاب ہوں گے۔” انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات کا فیصلہ زمینی حقائق سے ہوتا ہے، نہ کہ سوشل میڈیا بیانات سے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے یہ بھی مسترد کیا ہے کہ اس نے یورینیم کی افزودگی روکنے یا اپنے جوہری مواد کو کسی اور ملک منتقل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی اس کا قانونی اور خود حاصل کردہ حق ہے، جس سے دستبردار ہونا ممکن نہیں۔
ادھر ایرانی مسلح افواج کے مرکزی ہیڈکوارٹر نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث آبنائے ہرمز پر دوبارہ سخت کنٹرول نافذ کر دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ جب تک ایرانی جہازوں کی مکمل آزادی بحال نہیں ہوتی، یہ سخت نگرانی برقرار رہے گی۔
معاشی میدان میں بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ چین نے خلیجی ممالک کے ساتھ “پیٹرو-یوآن” معاہدوں کا اعلان کیا ہے، جسے ماہرین امریکی ڈالر کے اثر و رسوخ کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا میں بھی ٹرمپ اور ان کی حکومت پر تنقید بڑھ رہی ہے۔ The Hill، The Atlantic، Foreign Affairs اور Politico جیسے اداروں نے اپنی رپورٹس میں جنگ کے اثرات، امریکی پالیسی کی کمزوری اور اندرونی دباؤ کو نمایاں کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی نظام میں بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے، جہاں امریکہ کی گرفت کمزور اور نئے طاقت کے مراکز ابھر رہے ہیں۔









آپ کا تبصرہ