حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ بندی کے پانچویں روز بھی خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، خصوصاً آبنائے ہرمز کے حوالے سے صورتحال نہایت حساس ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اشتعال انگیز بیان دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے اور نکلنے والے تمام جہازوں کا محاصرہ کرے گی، حتیٰ کہ ایران کو ادائیگی کرنے والے جہازوں کو روکنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکہ سمندر میں بارودی سرنگوں کو صاف کرے گا اور کسی بھی ایرانی ردعمل کا سخت جواب دیا جائے گا۔
اس کے جواب میں ایرانی مسلح افواج نے واضح اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دشمن سے وابستہ کسی بھی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ دیگر جہاز ایرانی ضوابط کے تحت گزر سکتے ہیں۔ ایران نے یہ بھی خبردار کیا کہ اگر اس کی بندرگاہوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو خلیج فارس اور بحیرہ عمان کا کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گا۔ ایرانی فوجی قیادت نے امریکی دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کنٹرول مکمل طور پر ایران کے ہاتھ میں ہے اور جنگ کے بعد بھی مستقل نگرانی کا نظام نافذ کیا جائے گا۔
یورپ میں ایران کے سفارتی محاذ نے بھی سخت ردعمل دیا ہے۔ اسٹریلیا میں موجود ایرانی ایمبیسی نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کا محاصرہ درحقیقت اسے مزید بند کرنے کے مترادف ہوگا اور مسئلے کا حل صرف سنجیدہ مذاکرات میں ہے۔
دوسری جانب عالمی سطح پر بھی امریکہ کو بھرپور حمایت حاصل نہیں ہو سکی۔ برطانیہ اور جاپان نے واضح طور پر اس ممکنہ فوجی کارروائی سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے، جبکہ سابق سی آئی اے سربراہ جان برینن نے ٹرمپ پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
ادھر لبنان میں حسب اللہ نے صہیونی افواج کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 60 حملے کیے گئے، جبکہ بنت جبیل کے علاقے میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
اسی دوران صہیونی ذرائع ابلاغ نے داخلی بحران کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اسرائیل میں ہجرت معکوس (الٹی ہجرت) کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ شہری کھلے عام ملک چھوڑنے کی بات کر رہے ہیں، جس کی وجہ سیکیورٹی، معاشی اور نفسیاتی بحران کو قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال صہیونی ریاست کے اندرونی زوال کی واضح علامت بن چکی ہے۔









آپ کا تبصرہ