جمعہ 17 جولائی 2026 - 20:31
رہبرِ شہید کے خون کا انتقام خطے سے امریکہ کے انخلا اور صہیونی حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گا

حوزہ/ تہران میں نماز جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین محمدجواد حاج علی اکبری نے کہا ہے کہ رہبرِ شہیدِ انقلاب اسلامی کے خون کا انتقام اس وقت تک جاری رہے گا جب تک امریکہ خطے سے مکمل طور پر نکل نہیں جاتا اور صہیونی حکومت کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام خود کو رہبرِ شہید کا "ولیِ دم" سمجھتے ہیں اور اس مطالبے کی بنیاد جذبات نہیں بلکہ شرعی، قانونی اور عقلی اصول ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران میں نماز جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین محمدجواد حاج علی اکبری نے کہا ہے کہ رہبرِ شہیدِ انقلاب اسلامی کے خون کا انتقام اس وقت تک جاری رہے گا جب تک امریکہ خطے سے مکمل طور پر نکل نہیں جاتا اور صہیونی حکومت کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام خود کو رہبرِ شہید کا "ولیِ دم" سمجھتے ہیں اور اس مطالبے کی بنیاد جذبات نہیں بلکہ شرعی، قانونی اور عقلی اصول ہیں۔

تہران کے مصلائے امام خمینیؒ میں نماز جمعہ کے خطبے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دشمن کی مسلط کردہ جنگ کے تناظر میں عوام سے کفایت شعاری اختیار کرنے اور قومی یکجہتی برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے مشکل حالات میں ملک کی نمائندگی کرنے والی ایران کی قومی فٹبال ٹیم کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا۔

حجۃ الاسلام حاج علی اکبری نے رہبرِ شہید کی تشییع میں ایرانی عوام کی غیر معمولی شرکت کو معاصر تاریخ کا عظیم واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عوامی اجتماع نے عالمی استکبار کے اندازوں کو غلط ثابت کر دیا اور یہ واضح کر دیا کہ اسلامی انقلاب آج بھی زندہ، طاقتور اور عوامی حمایت کا حامل ہے۔ ان کے بقول دشمن انقلاب کے زوال کا دعویٰ کرتا تھا، لیکن عوام کی بے مثال حاضری نے ان تمام دعوؤں کو باطل کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام رہبرِ شہید کے خون کا مطالبہ اپنے دینی اور قومی فریضے کے طور پر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انتقام کے پہلے مرحلے میں اس قتل میں ملوث تمام منصوبہ سازوں، حکم دینے والوں اور عملی کردار ادا کرنے والوں کو سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں مسلح افواج، عدلیہ، سکیورٹی، قانونی اور سفارتی اداروں کی اپنی اپنی ذمہ داریاں ہیں۔

خطیب نماز جمعہ نے مزید کہا کہ انتقام کے دوسرے مرحلے میں خطے سے امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ ضروری ہے، جبکہ تیسرے اور چوتھے مرحلے میں صہیونی حکومت کے زوال، امریکہ کی بالادستی کے خاتمے اور مسجد اقصیٰ کی آزادی کو اس عمل کا حصہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ کے بعد امریکہ کی عالمی حیثیت کمزور ہوئی ہے اور خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی اور ایران کے مختلف علاقوں پر حملوں کے بعد مذاکرات کا مرحلہ ختم ہو چکا ہے اور آئندہ تعلقات کا تعین اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی طاقت کی بنیاد پر ہوگا۔

حاج علی اکبری نے آبنائے ہرمز کو ایران کی ایک اہم اسٹریٹجک نعمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ اقتصادی، دفاعی اور علاقائی سلامتی کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے اور ایران اسے پوری قوت سے محفوظ رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز اب کسی صورت ماضی کی کیفیت میں واپس نہیں جائے گی۔

انہوں نے اپنے خطاب کے اختتامی حصے میں رہبرِ شہید کو "امامِ فاتح" قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تقویٰ، علم، قیادت، استقامت اور جہاد کا کامل نمونہ تھے۔ ان کے بقول رہبرِ شہید نے سائنسی ترقی، اسلامی بیداری اور عالمی استکبار کے خلاف مزاحمت کو نئی قوت بخشی اور اپنی قیادت کے ذریعے استکباری طاقتوں کی کمر توڑ دی، جس کی وجہ سے وہ تاریخ اسلام کے کامیاب اور فاتح قائدین میں شمار ہوتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha