حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران کے امام جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے اس ہفتے تہران یونیورسٹی میں نمازِ جمعہ کے خطبوں میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں حقیقی امن کے قیام کی بنیادی شرط صہیونی حکومت کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب میں رہبرِ معظم انقلاب کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کبھی موت انسان کے پاس آتی ہے اور کبھی انسان خود موت کو انتخاب کرتا ہے۔ رہبرِ معظم کی شہادت ایک منتخب اور باعزت موت تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب نے رہبرِ انقلاب کے پہلے پیغام میں سنا کہ انہوں نے اپنے سالم ہاتھ کو مٹھی میں بند رکھا اور آخری لمحے تک دشمنوں کے خلاف عزم و استقامت کے ساتھ اپنے پروردگار سے جا ملے۔
آیت اللہ خاتمی نے مزید کہا کہ جو لوگ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں وہ دو گروہوں میں ہوتے ہیں: ایک وہ جو خالی ہاتھ جاتے ہیں اور دوسرے وہ جو نیک اعمال کا سرمایہ لے کر جاتے ہیں۔ ان کے بقول امامینِ انقلاب دوسرے گروہ میں شامل تھے اور نیک اعمال کے عظیم ذخیرے کے ساتھ لقاءِ الٰہی کو پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ داخلی میدان میں امام خمینیؒ نے اسلامی نظام کی بنیاد رکھی جو نیک اعمال کی جڑ ہے، جبکہ شہید رہبر نے اس نظام کو مزید مضبوط کیا۔ اگرچہ دشمنوں نے اس عظیم شخصیت کو ہم سے جدا کر دیا، لیکن اس کے فوراً بعد مجلس خبرگانِ رہبری کی جانب سے نئے رہبر کا انتخاب خود ایک اہم اور نیک اقدام تھا۔
آیت اللہ خاتمی نے کہا کہ عالمی سطح پر امامینِ انقلاب کی ایک بڑی خدمت مسئلۂ فلسطین کو زندہ رکھنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن چاہتے تھے کہ فلسطین کا مسئلہ صرف عرب دنیا تک محدود رہے، لیکن امام خمینیؒ نے ماہِ رمضان کے آخری جمعہ کو عالمی یومِ قدس قرار دے کر واضح کیا کہ یہ صرف عربوں کا نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور دنیا کا مسئلہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی راستے کو جاری رکھتے ہوئے شہید رہبر نے بھی ہمیشہ فلسطین کو عالمِ اسلام کا سب سے اہم مسئلہ قرار دیا۔ ان کے بقول امام خمینیؒ نے فرمایا تھا کہ اسرائیل کو صفحۂ ہستی سے مٹ جانا چاہیے اور ہم بھی واضح طور پر کہتے ہیں کہ خطے میں حقیقی امن اور سکون کے قیام کے لیے اس ظالم صہیونی حکومت کا خاتمہ ضروری ہے۔
تہران کے خطیبِ جمعہ نے کہا کہ جب تک امریکہ اور صہیونی حکومت موجود ہیں، انسانیت کو حقیقی سکون نصیب نہیں ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اسلام کے مجاہدین ان قوتوں کو شکست دے کر دشمنوں کو پشیمان کریں گے۔ انہوں نے میناب میں معصوم بچوں کے قتل کے واقعے کو بھی یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ظلم امریکہ کی سرپرستی میں ہوا اور یہ داغ ہمیشہ کے لیے امریکہ کے دامن پر رہے گا۔
انہوں نے بدھ کے روز مسلح افواج کے کمانڈروں اور عوامی شہداء کی تشییع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان شہداء کا خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا اور یہ دن ہماری قوم کے لیے تاریخی اور باعثِ فخر ہیں۔ ان کے بقول عالمی استکبار نے ایران کے خلاف اپنی چوتھی جنگ مسلط کی ہے۔
آیت اللہ خاتمی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کی سورۂ بقرہ کی آیات کے مطابق دشمن دراصل اسلام کی بنیاد کے خلاف برسرِ پیکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ آٹھ سالہ جنگ، بارہ روزہ جنگ اور تیسری جنگ جو شہید رہبر کے بقول ایک طرح کی نیم بغاوت تھی، کے بعد اب ہم چوتھی جنگ کے مرحلے میں ہیں جس کی ایک اہم خصوصیت عوام کی بھرپور شرکت اور استقامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب عوام میدان میں موجود ہوں تو دشمن کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ دشمن کا خیال تھا کہ نظام کے سربراہ کو نشانہ بنا کر پورے نظام کو کمزور کر دے گا، مگر وہ یہ بات سمجھنے میں ناکام رہا کہ اسلامی نظام کسی ایک شخص پر قائم نہیں بلکہ عوام کی طاقت پر قائم ہے اور اس کے اصل مالک عوام ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجلس خبرگانِ رہبری نے بروقت اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ایک صالح اور باصلاحیت شخصیت آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای کو رہبر کے طور پر منتخب کیا۔ ان کے مطابق یہ انتخاب عقل و دانش اور قانون کے مطابق کیا گیا اور قیادت کے تمام تقاضے ان میں موجود ہیں۔
آیت اللہ خاتمی نے کہا کہ وہ ایک مدبر اور باصلاحیت فقیہ ہیں جنہوں نے قیادت اور تدبیر شہید رہبر کے مکتب سے سیکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا جامع اور اہم پیغام بھی قوم نے سنا جس نے دشمنوں کو مایوس کر دیا۔
انہوں نے ملک میں پائی جانے والی وحدت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مراجعِ تقلید، تینوں قواؤں کے سربراہان اور مسلح افواج نے اس انتخاب کو مبارکباد دی، جو دراصل وہی اتحاد ہے جس پر امام خمینیؒ اور رہبرِ معظم ہمیشہ زور دیتے رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج سب سے اہم ذمہ داری یہ ہے کہ جس طرح امام خمینیؒ اور شہید رہبر کی اطاعت کی گئی، اسی طرح اب نوجوان امام اور انقلاب کے تیسرے رہبر کی بھی اطاعت کی جائے۔
آیت اللہ خاتمی نے مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے میں انہوں نے بہترین امتحان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے افواج کے ہر سپاہی کے ہاتھ چومنے کو تیار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ دشمن کو ایسی سخت ضرب لگائیں گے کہ دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم وہ قوم ہے جو کبھی تھکتی نہیں، بلکہ اپنے دشمن کو تھکا دیتی ہے۔
خطیبِ جمعہ تہران نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ اس میدان میں ایرانی قوم ہر حال میں کامیاب رہے گی اور دشمن بالآخر شکست کھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کے مجاہدین شہید رہبر، میناب کے شہداء اور دیگر شہداء کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ یومِ قدس کے عظیم اجتماع کے پیش نظر عوام کی سہولت کے لیے خطبہ مختصر کرتے ہوئے اسے ختم کیا جا رہا ہے۔









آپ کا تبصرہ