اتوار 31 مئی 2026 - 19:00
ہم اپنے رہبر شہید (رہ) سے کیے گئے عہد پر ثابت قدم رہیں گے / آج امریکہ اور اسرائیل اپنی تاریخی تنہائی کے دور سے گزر رہے ہیں

حوزہ / حوزہ علمیہ کے حجت‌الاسلام والمسلمین حسینی کوہساری نے شہید امام خامنه‌ای کی عالمی اور الٰہی شخصیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا: رہبر شہید (رہ) نے امت اسلامی کے لیے راستہ متعین کیا اور پچاس سال سے زائد عرصے تک انقلاب اسلامی کی رہبری اور رہنمائی کی اور قرآن و اسلام پر گہرے ایمان کے ساتھ، اسلام اور انقلاب کے اہداف کے حصول میں ایک عالمگیر اور مؤثر کردار چھوڑا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب کے تہران میں دفتر میں شہید امام خامنه‌ای کی عالمی شخصیت کو خراج تحسین پیش کرنے کی غرض سے ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں بین الاقوامی مبلغین، زبان دانوں اور عالمی سطح پر سرگرم شخصیات نے شرکت کی۔

اس نشست میں حوزہ علمیہ ایران کے بین الاقوامی امور کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین سید مفید حسینی کوہساری نے اپنی گفتگو کے دوران رہبر شہید انقلاب حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای کی بین الاقوامی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ پیش کیا اور ان کی فکری حکمت عملیوں کی تشریح کی۔

حجت الاسلام والمسلمین حسینی کوہساری نے اپنے خطاب کے آغاز میں امام زمانہ (عج) اور شہداء کی بارگاہ میں عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: آج ہم یہاں جمع ہوئے ہیں تاکہ رہبر معظم انقلاب حضرت آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کے ساتھ اپنے عہد کی تجدید کریں اور خداوند متعال، انبیاء، اولیاء، شہدائے انقلاب، مقاومتی محاذ کے شہداء، بین الاقوامی میدان کے شہداء اور دنیا بھر کے مستضعفین سے یہ عہد کریں کہ ہم اپنے رہبر شہید (رہ) سے کیے گئے عہد و پیمان پر ثابت قدم رہیں گے تاکہ دنیا کو اس کے حقیقی مقصد یعنی عدلِ مہدوی کی عالمی حکومت تک پہنچایا جا سکے۔

انہوں نے رہبر شہید (رہ) کی شہادت کے نوّے دن گزر جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ معمول کے دن نہیں ہیں بلکہ ہم نے "انسانیت کی ایک شبِ قدر" کو اپنے پیچھے چھوڑا ہے۔ ہم ایک فیصلہ کن موڑ اور تاریخی مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ ہم ایسے دور کے قریب پہنچ رہے ہیں جو جمہوریہ اسلامی ایران کے مقدس نظام کی طاقت کے اظہار کا دور ہو گا۔ ہم استکباری نظام اور اس کی تسلط پسند فطرت کو شکست دینے کے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

حوزہ علمیہ ایران کے بین الاقوامی امور کے سربراہ نے کہا: یہ اجتماعات صرف ملک کے اندر تک محدود نہیں ہیں بلکہ آج ہم مسلم اقوام کے جوش و خروش کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ یہ باشعور اور وفادار ملت جو گزشتہ نوّے راتوں سے سڑکوں پر موجود ہے، روشن مستقبل کی پیامبر ہے۔

انہوں نے امام شہید کے فکری پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ہمارے امام شہید اگرچہ ایرانیوں میں سب سے بڑھ کر ایرانی تھے اور ان کے گفتار و کردار میں ایران سے وابستگی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا لیکن عظیم شخصیات جغرافیائی سرحدوں میں محدود نہیں ہوتیں۔ وہ ایک عالمی نگاہ رکھنے والی اور امت ساز شخصیت تھے۔

حجت الاسلام والمسلمین حسینی کوہساری نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے رہبر شہید انقلاب کی فکر کے اسٹریٹجک پہلوؤں کا تجزیہ پیش کیا اور کہا: میں آپ مبلغین کو بشارت دیتا ہوں کہ ہماری روایات کے مطابق ایرانی اسلامِ ناب کی ان تعلیمات کو پوری دنیا میں پھیلائیں گے۔ روایات میں مذکور "قومی" سے مراد کسی مخصوص جغرافیے کے افراد نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو حوزات علمیہ کے مکتب اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے افکار میں تربیت یافتہ ہیں اور جنہوں نے اس عظیم انقلاب کو برپا کیا۔ یہی وہ افراد ہیں جو صہیونی حکومت کی فتنہ انگیزیوں اور تسلط پسندانہ اقدامات کا خاتمہ کریں گے۔ یہ بھی ان الٰہی وعدوں کا حصہ ہے جن کی بشارت روایات میں دی گئی ہے۔

انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کی تنہائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مغربی مادّی تہذیب رسوا ہو چکی ہے۔ امریکہ سے نفرت کی لہر خود اس ملک کے اندر نیز یورپ اور لاطینی امریکہ میں تیزی سے پھیل رہی ہے۔ صہیونی حکومت کے خلاف نفرت بھی ایک عالمی تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ آج امریکہ اور اسرائیل اپنی تاریخی تنہائی کے دور سے گزر رہے ہیں اور مختلف بحرانوں پر قابو پانے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha