بدھ 1 جولائی 2026 - 16:11
آیت‌الله اعرافی کا رہبر شہید (رہ) کی تشییع کے موقع پر آزاد اور بیدار اقوام کے نام پیغام

حوزہ / رہبر شہید (رہ) کی تشییع کو ایک منفرد، بے مثال، ماورائے زمان و مکان واقعہ کے طور پر ثبت کیا جانا چاہیے۔ عالم اسلام کی صفِ اول کی شخصیات، عالمی علامات، امت کے طاقتور میڈیا، علماء، دانشور، مجاہدین اور دنیا کے آزاد لوگوں کا اجتماع اس بات میں مددگار ہوگا کہ یہ واقعہ عالمی سطح پر اپنی روشنی پھیلائے اور رہبر شہید (رہ) کے عظیم پیغامات تمام براعظموں خاص طور پر عالم اسلام تک پہنچ سکیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے مدیر آیت‌اللہ علی رضا اعرافی نے رہبر شہید (رہ) کی تشییع کے موقع پر آزاد اور بیدار اقوام کے نام پیغام ارسال کیا ہے۔ اس اہم اور اسٹریٹجک پیغام کا خلاصہ درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِینَ قُتِلُوا فِی سَبِیلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ﴾

﴿مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَیْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَیٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن یَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِیلًا﴾

عظیم امتِ اسلامیہ، دنیا کے آزاد افراد اور مستضعفین، بیدار اقوام اور پوری دنیا میں بیدار ضمیروں کے نام

آج عالم اسلام بلکہ عدالت و انصاف کی پیاسی تمام انسانیت ایک ایسی ہستی کے سوگ میں ہے جو کسی ایک سرحد یا قوم کی نہیں بلکہ امت اسلامی کا مشترکہ سرمایہ اور انبیاء و اولیاء کے راستہ کا وارث تھا۔ دانشمند رہنما، عالی مرتبہ مرجع اور انقلاب اسلامی کے رہبر حضرت آیت‌اللہ العظمیٰ امام خامنه‌ای اعلیٰ اللہ مقامہ کی مظلومانہ شہادت کوئی ایسا واقعہ نہیں جو محدود جغرافیہ میں سمجھا جا سکے۔ اس واقعے کو عالم اسلام کی مساواتوں کے پیمانے اور انسانی تحولات کے افق پر دیکھنا چاہیے۔ وہ بزرگ ہستی جو اپنے آپ میں بے شمار فضائل کا ایک نظام اور ممتاز خصوصیات کی ایک کہکشاں تھے، جن کی منفرد شخصیت کے جلوے ایران اور دنیا میں چمکے، عالمی مساواتوں کو بدل دیا اور ایران اور امت اسلامی کی ترقی و عظمت کا باعث بنے۔

رہبر شہید (رہ) عالمی سوچ کے لیے ایک اسوہ اور نمونہ تھے۔ ان کی فکر نے قومی اور ملی حدود کو توڑا اور ایک عالمی گفتگو قائم کی جس میں مشترکہ انسانی اقدار، انسان کا احترام، عدالت اور استکبار کے خلاف مزاحمت کو ایک عالمی زبان ملی۔ وہ عالمی چیلنجز اور خطرات کو گہرائی سے سمجھتے تھے اور تہذیبوں کے دور کے مطابق زبان میں گفتگو کرتے تھے۔

انہوں نے جو الہیات پیش کی وہ ایک عالمی رهایی بخش الہیات تھی؛ ایک ایسا کلام جو ایمان کو اقوام کی آزادی کی طاقت میں بدل دیتا۔ ان کی مرجعیت بھی اسی تسلسل میں کوشاں تھی: ایک ایسی مرجعیت جس نے فقاہت کو تاریخی ذمہ داری اور امت کے دکھوں سے جوڑ دیا۔ وہ قوم کے باپ، مقاومتی ڈھانچے کے روح رواں، امت کے پیشوا اور قوم کی جان تھے۔

امریکہ اور اسرائیل کے سیاہ چہروں کا یہ ہولناک قتل، جس کا انجام یہ شہادت تھی، اس کے منصوبہ سازوں کی خام خیالی میں اس تحریک، قوم اور حکومت پر کاری ضرب لگانے اور ان کے اچانک خاتمے کا باعث بننا تھا۔ یہیں پر ان کی رہبری و قیادت کی عظمت کا ایک پہلو آشکار ہوتا ہے۔ انہوں نے برسوں امت سازی اور حکومت سازی کی تھی؛ لوگوں کو اپنی ذات سے نہیں بلکہ خدا، اصولوں اور عظیم، توانا اور حیات بخش آرمانوں سے منسلک کیا تھا۔ جو رہنما اپنی ذاتی و انفرادی شخصیت پر سرمایہ کاری کرتے ہیں، ان کی اس فردی حیثیت کے خاتمے کے ساتھ ہی ان کی قوم اور حکومت کا نظام بھی گر جاتا ہے۔ لیکن رہبر شہید (رہ) کی قیادت کا نمونہ ایسا تھا کہ دشمن کی تمام اسٹریٹجک پیش گوئیوں کے باوجود کہ افراتفری اور خاتمہ ہوگا، سب کچھ معجزانہ طور پر استواری، استحکام اور ہم آہنگی کے راستے پر آگے بڑھا۔ یہ اس مکتب کی حقانیت اور گہرائی کی ایک اور دلیل ہے کہ اس نے لوگوں کو افراد سے نہیں، خدا سے جوڑا ہے۔

اے ہوشیار اور رشید امت! اس پاک خون کے انتقام کا جذبہ دلوں میں زندہ اور مستقل رہنا چاہیے؛ نہ کہ ایک عارضی شعلے کی طرح بلکہ اسی راستے پر چلتے رہنے کے عزم کی طرح جسے اس عظیم شخصیت نے اپنے خون سے سیراب کیا۔ شہیدوں کا خون راستے کا چراغ ہے اور ان کے آرمانوں اور نظریات سے وفاداری ہی ان کے خون کا اصل انتقام ہے۔ رہبر شہید (رہ) کا خون اور انتقام کوئی جذباتی اور پرجوش مقابلہ نہیں بلکہ ظلم اور استکبار کے خلاف نئی شکل میں جاری جدوجہد ہے اور مقاومتی محاذ کے مرکزی اور بنیادی فرائض میں سے ہے۔

آج حوزہ علمیہ، جامعات، ممتازین، دانشوروں اور میڈیا والوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس موجودگی کو ایک پائیدار ثقافتی، علمی اور تہذیبی تحریک میں بدلنا ہوگا۔ ہمارا فرض ہے کہ حقیقت کو واضح کریں، فکری ورثے کی حفاظت کریں، مستقبل کا افق ترتیب دیں اور اس راستے کو جاری رکھیں۔ تاریخ اسلام کی عظیم شخصیتیں ایک پائیدار مکتب میں تبدیل ہو جاتی ہیں جس سے متواتر نسلیں الہام لیتی ہیں۔

رہبر شہید (رہ) کے راستے کا تسلسل وقت کے ولی فقیہ کی سچی، باخبر اور ایماندارانہ پیروی میں ہے۔ حضرت آیت‌اللہ سید مجتبی حسینی خامنه‌ای رہبر شہید (رہ) کے وجود، افکار اور رہبری کے تسلسل کا روشن اور مبارک نمونہ ہیں۔

ہم اللہ تعالیٰ سے رہبر شہید (رہ) کے درجات کی بلندی اور ان کے اولیائے الٰہی سے الحاق، امت کے لیے صبر و بصیرت، اسلامی امت کے اتحاد، مقاومتی محاذ کی مضبوطی، اقوام کی بیداری اور الٰہی وعدوں کے تحقق کی راہ ہموار کرنے کی دعا کرتے ہیں۔

راستہ روشن اور کاروان رواں دواں ہے۔

﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَیٰ أَمْرِهِ وَلَٰکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُونَ﴾

والسلام علی عبادالله الصالحین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha