حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے مدیر آیتاللہ علی رضا اعرافی نے علماء، خطباء اور مبلغین کے نام پیغام ارسال کیا ہے۔ جس کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
محترم علماء کرام، خطباء حضرات اور معزز مبلغینِ پیغامِ کربلا
سلام علیکم
ہم محرم الحرام کے مہینے میں ہیں جو الٰہی اقدار کی احیاء اور اہل بیت علیہم السلام کے عمیق معارف کے بیان کا مہینہ ہے۔ محرم الحرام بصیرت افزائی اور "دینی عقلانیت" و "امت اسلامی کے مفادات" کے درمیان ربط قائم کرنے کا مہینہ ہے۔
آج جب استکباری محاذ، جس کی قیادت امریکہ اور قدس پر قابض صہیونی حکومت کر رہی ہے، نے ایران کی سربلند قوم کے عزم کو ایک جامع اور ترکیبی جنگ کے ذریعے نشانہ بنا رکھا ہے، علماء کی ذمہ داری "جہاد تبیین" اور "میدان میں مجاہدت" کے پہلوؤں کو واضح کرنے میں دوبرابر ہوگئی ہے۔
آج کے جہاد کے اہم مظاہر میں "وسائل کے نظم و نسق" اور "مصرف میں ذمہ دارانہ رویہ" کے کلچر کو فروغ دینا ہے۔ کفایت شعاری اور اسراف سے اجتناب کا مطلب عقلمندانہ استفادہ اور اعتدال سے باہر نہ جانا ہے۔ قرآن کریم نے ہمیں شدید ترین الفاظ میں اسراف اور فضول خرچی سے پرہیز کرنے پر تاکید کی ہے: «إِنَّ الْمُبَذِّرِینَ کَانُوا إِخْوَانَ الشَّیَاطِینِ» (اسراء / ۲۷)
اس راستے میں ہمارا عملی نمونہ ہمیشہ رہبر شہید انقلاب حضرت آیتاللہ خامنہای (قدس سرہ) کی حکیمانہ سیرت ہے جو ہمیشہ "غیر مسرفانہ طرز زندگی" اور "ملکی وسائل سے زیادہ سے زیادہ استفادہ" پر خصوصی زور دیتے تھے۔
بلاشبہ آج بھی حضرت آیتاللہ سید مجتبیٰ خامنہای (دامت برکاتہ) بطور نظام اسلامی کے رہنما ہم سے توقع رکھتے ہیں کہ انقلابی معاشرہ قناعت کے کلچر اور مصرف کے نمونے کی اصلاح پر مبنی، دشمن کو معاشی جنگ کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام کر دے۔
آپ سے بطور سافٹ وار کے کمانڈرز اور منبر و محراب کے محافظین کے عنوان سے توقع ہے کہ اپنی پُرجوش عزاداری کی مجالس میں اہل بیت علیہم السلام کے نورانی بیانات سے استفادہ کرتے ہوئے درج ذیل تین اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دیں اور ان کے بارے میں تشریح و توضیح فرمائیں:
۱- پانی کے مصرف کا نظم: پانی الٰہی امانت اور زندگی کا سرچشمہ ہے۔ موجودہ حالات میں اس حیاتیاتی مادے میں کفایت شعاری "تعاون علی البر والتقویٰ" کی عملی مثال ہے۔
۲- توانائی کے مصرف کا نظم: توانائی معاشی طاقت اور ملکی قومی سلامتی کا ستون ہے۔ بجلی اور ایندھن کا بہترین استعمال، استقلال کے نعرے پر لبیک کہنا اور دشمن کی معاشی جنگ کا مقابلہ کرنا ہے۔ توانائی کے ضیاع سے اجتناب کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا آپ مبلغین کی ذمہ داریوں میں سے ہے۔
۳- پلاسٹک کے مصرف کا نظم: ماحولیاتی آلودگی زمین میں فساد پھیلانے کی مثالوں میں سے ہے۔ ماحول دوست طرز زندگی کو فروغ دینا اور پاکیزہ طریقوں کو رائج کرنا، معاشرے کی صحت کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کا حق ادا کرنے کے مصادیق میں سے ہے۔
معزز مبلغین، محرم اور صفرِ حسینی (ع) کے ایام میں پروگراموں اور عزاداریوں کے دوران عوام کو "اجتماعی بھلائی" اور "قومی اثاثوں کے تحفظ" کی ترغیب دیں۔ بلاشبہ، ان تین شعبوں میں عمومی کفایت شعاری قومی سلامتی کی ضامن اور ہمارے معاشرے کے ایمانی پختگی کی علامت ہے۔
امید ہے کہ حضرت بقیۃ اللہ الاعظم (ارواحنا فداہ) کے فضل و کرم اور مکتب عاشورا و اربعین سے استفادہ کے ذریعہ عزائے حسینی کا یہ موسم ایران کی بہادر اور فاتح قوم کی مادی و معنوی ترقی و پیشرفت کا باعث بنے گی۔
علی رضا اعرافی
مدیر حوزہ علمیہ









آپ کا تبصرہ