بشارتِ مجتبٰیؑ (امام مہدیؑ کی  معرفت  اور عالمگیر حکومت)

حوزہ/ اگرچہ مہدويت کے موضوع پر امام مجتبیٰ علیہ السلام کی روایات بہت محدود ہیں، لیکن وہ انتہائی معتبر اور مضبوط ہیں؛ کیونکہ وہ معتبر شیعہ مصادر میں نقل ہوئی ہیں اور ان میں کوئی عجیب یا شاذ (غیر معمولی) بات نظر نہیں آتی۔

تحریر: مولانا ڈاکٹر عابد رضا حوزہ علمیہ قم

حوزہ نیوز ایجنسی|

مقدمہ

امام حسن علیہ السلام کی مختصر سوانح حیات
امام حسن علیہ السلام شیعوں کے دوسرے امام جو حضرت علی علیہ السلام اور دخترِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک بندھن کا پہلا پھل تھے، ۳ ہجری 15ماہِ رمضان میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے،حسن بن علی علیہ السلام اپنے جدِّ امجد کی ظاہری زندگی کے صرف چند سال ہی دیکھ سکے، کیونکہ جب پیغمبرِ اسلام کی شہادت واقع ہو تو آپ کی عمر تقریبا سات سال تھی رسولِ خدا کے بعد، آپ تقریباً ۳۰ سال اپنے والد گرامی امیر المؤمنین علیہ السلام کے شانہ بشانہ رہے اور ۴۰ ہجری میں حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ نے ۱۰ سال تک امت کی امامت کی ذمہ داری سنبھالی اور بالآخر ۵۰ ہجری میں معاویہ کی سازش کے تحت زہر دیے جانے سے ۴۸ سال کی عمر میں بقول مشہور ۲۸ صفر المظفرمیں شہید ہوئے اور مدینہ کے قبرستان «بقیع» میں سپردِ خاک کیے گئے۔
امام حسن بن علی علیہ السلام کا دور، امام کی غربت، اور دین و ولیِ خدا کے مقام و مرتبے سے بے توجہی کا دور تھا امام مجتبیٰ علیہ السلام سے نقل ہونے والی روایات کی انتہائی محدود تعداد، اس دور کے فکری ماحول اور اس معاشرتی بحران کی نشاندہی کرتی ہیں جو بنو امیہ کے تسلط کے آغاز اور شیعہ معاشرے میں شدید تلاطم و بے چینی کا عروج تھا۔
اگرچہ مہدويت کے موضوع پر امام مجتبیٰ علیہ السلام کی روایات بہت محدود ہیں، لیکن وہ انتہائی معتبر اور مضبوط ہیں؛ کیونکہ وہ معتبر شیعہ مصادر میں نقل ہوئی ہیں اور ان میں کوئی عجیب یا شاذ (غیر معمولی) بات نظر نہیں آتی۔
امام مجتبیٰ علیہ السلام کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی سلاطین اور بادشاہوں کی حکومت کا آغاز ہوتا ہے۔ شیعوں کو ایسے حالات کے لیے تیار رہنا چاہیے؛ ایسے حالات جن میں نیک اور بد لوگ زمین کے ہر گوشے میں زندگی بسر کرتے ہیں، نیک لوگوں کو آمادہ رہنا چاہیے تاکہ وہ ان حالات میں بھی نیکیوں کی حفاظت کریں اور ان کے فروغ میں مشغول رہیں،مؤمن، حق کی حکومتوں—علی اور حسن علیہما السلام—کے دور میں پاسبانی اور تحفظ میں مشغول رہتا ہے، اور باطل حکومتوں کے دور میں اسے تقیہ کے ذریعے خود کو محفوظ رکھتے ہوئے افراد کی تربیت اور خاندانِ عصمت کی مسندِ اقتدار پر واپسی کے لیے زمینہ سازی میں مشغول ہو جانا چاہیے۔

ضرورتِ مہدویت

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شہادت کے بعد معاشرے کو ایک ایسے مستحکم نظام کی ضرورت تھی جوتا قیامِ قیامت امت کی ہدایت کرتا رہے اس نظریے کے تحت، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد نظام امامت معاشرے کی قیادت و رہنمائی کا ذمہ دار تھا، جو امت کو دوبارہ جاہلیت اور سابقہ باطل نظام کی طرف لوٹنے سے محفوظ رکھ سکے یہی حقیقت قرآن کریم کی اس آیت میں بیان ہوئی ہے:الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتیآج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی)۔
چونکہ ایک عالم اور اصول پسند رہنما معاشرے کی نگرانی کر رہارہتاتھا، اس لیے دینِ الٰہی ہمیشہ محفوظ رہتا مگر تاریخ نے کچھ اور رخ اختیار کیا اور نظام امامت کو عملی میدان سے ہٹا کر حاشیے پر ڈال دیا گیا جس کی وجہ سے وہ اپنی حقیقی ذمہ داری پوری نہ کر سکےیہی وجہ تھی کہ اس نظام کے تمام امام ایک کے بعد ایک آخری امام کے ظہور کے منتظر رہے، جو اللہ کی قدرت سے اس نظام کو اس کے حقیقی مقام پر واپس لے آئیں گے اوروہ موعود آلِ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے سوا کوئی اور نہیں۔
معصومین علیہم السلام، خاص طور پر امام علی علیہ السلام، جنہوں نے خود اسلامی حکومت کوقائم کیا، کی روایات اس حقیقت کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں لہٰذا، معصومین، بشمول امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کی امید اور انتظار کو اسی زاویے سے دیکھنا چاہیے یعنی ایک ایسے امام کا ظہور جو اللہ کی قدرت سے تمام رکاوٹوں کو دور کرکے، اسلامی نظام کو پھر سے معاشرے کا مرکز بنائیں گے وہ ہر قسم کے سیاسی، اقتصادی، اعتقادی، ثقافتی اور دیگر ارتدادکو ختم کرکے، نبوی معاشرتی نظام کو قائم کریں گے، اور دین کی تکمیل و نعمت کے اتمام کو عملی طور پر نافذ کریں گے۔

امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں امام حسن (ع) کے اقوال

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے کل 438 روایات منقول ہیں، جن میں سے 10روایات حضرت امام مہدی علیہ السلام سے متعلق ہیں اس کے علاوہ کئی ایسی روایات بھی موجود ہیں جو براہ راست نہیں، لیکن کسی نہ کسی طریقے سے امام مہدی علیہ السلام سے متعلقہ ہیں، جیسے رجعت کے بارے میں احادیث، ائمہ دین سے متعلق عمومی روایات وغیرہ۔
ان 10روایات میں سے: 6احادیث براہ راست امام حسن علیہ السلام سے مروی ہیں ۲روایات امام حسن علیہ السلام کے توسط سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کی گئی ہیں اورایک حدیث امام علی علیہ السلام سے منقول ہےاور ایک حدیث حضرت خضر علیہ السلام کی ہے، جو امام حسن علیہ السلام کی موجودگی میں بیان کی گئی۔
یہ تمام روایات حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ظہور، ان کے عدل و انصاف پر مبنی عالمی حکومت، اور ان کی شخصیت کے بارے میں بیش قیمت معلومات فراہم کرتی ہیں۔

الف) روایات نبوی صلی الله علیه و آله وسلم

۱. آخری حجّت خدا

عبد اللہ بن حسین (حسن) بن حسن نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ امام حسن علیہ السلام نے فرمایا:
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: "لوگوں! مجھے جلدی بلالیا جائے گا اور مجھے اس کا جواب دینا ہوگا، اور میں تم میں دو قیمتی چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں: کتاب اللہ اور میری عترت و خاندان اگر تم ان دونوں سے متمسک رهو گے تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہو گےپس ان سے سیکھو اور انہیں نہ سکھاؤ، کیونکہ وہ تم سے زیادہ علم والے ہیں زمین کبھی بھی ان سے خالی نہیں رہتی، ورنہ یہ اپنے اہل کو تباہ کر دے گی" پھر فرمایا: "اے اللہ! میں جانتا ہوں کہ علم کبھی ختم نہیں ہوتا اور کبھی مٹتا نہیں، اور تو اپنی زمین کو اپنے حجت سے خالی نہیں چھوڑتا، چاہے وہ ظاہر ہو اور لوگ اس کی پیروی نہ کریں یا وہ غائب ہو، لیکن حجت باقی رہتی ہے تاکہ تیرے اولیاء ہدایت سے گمراہ نہ ہوں، وہ تھوڑے ہیں لیکن اللہ کے نزدیک ان کا درجہ بہت بلند ہے"۔
جب وہ منبر سے نیچے اترے، تو میں نے کہا: "یا رسول اللہ! آپ تمام مخلوقات پر حجت ہیں" فرمایا: "حسن جان! اللہ کا فرمان ہے: 'بیشک تم صرف ڈرا دینے والے ہو اور ہر قوم کے لیے ہدایت دینے والا ہے!' میں ڈرا دینے والا ہوں اور علی ہدایت دینے والا ہے" میں نے عرض کیا:
یا رسول اللّه! فقولک انّ الارض لاتخلو من حجّة؛یا رسول اللّه! فقولک انّ الارض لاتخلو من حجّة؛
"یا رسول اللہ! آپ کا یہ کہنا کہ 'زمین کبھی حجت سے خالی نہیں رہتی' کیا مطلب ہے؟" فرمایا:
نعم علیٌّ هو الامام والحجة بعدی، و انت الحجة والامام بعده والحسین الامام والحجة بعدک و… یخرج اللّه تعالی من صلب الحسین الحجة القائم امام شیعته زمانه و منقذ اولیائه یغیب حتّی لایری فیرجع عن امره قوم و یثبت آخرون «و یقولون متی هذا الوعد ان کنتم صادقین»
"ہاں، علی میرے بعد امام اور حجت ہیں، اور تم ان کے بعد امام و حجت ہو، اور حسین تمہارے بعد امام و حجت ہیں... اور خدا حسین کے صلب سے قائم حجت کو اٹھائے گا، جو اپنے پیروکاروں کا امام اور اپنے دوستوں کا نجات دہندہ ہوگا وہ غیبت میں چلا جائے گا، یہاں تک کہ وہ دکھائی نہیں دے گا پھر کچھ لوگ اس سے واپس پلٹ جائیں گے اور کچھ ثابت قدم رہیں گے اور کہیں گے: 'یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو؟
پھر آنحضرت نے فرمایا:
و لولم یبق من الدنیا الاّ یوم واحد لطوّل اللّه عزّوجلّ ذلک حتی یخرج قائمنا فیملأها قسطاً و عدلاً کما ملئت جوراً و ظلماً فلاتخلوا الارض منکم اعطاکم اللّه علمی و فهمی و لقد دعوت اللّه تبارک و تعالی ان یجعل العلم والفقه فی عقبی و عقب عقبی و مزرعی (زرعی) و زرع زرعی۔
اور اگر دنیا کی عمر میں صرف ایک دن باقی رہ جائے، تو اللہ عزّوجل اس دن کو اتنا طویل کرے گا کہ ہمارا قائم ظہور کرے گا اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسے کہ وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی پس، زمین تم سے خالی نہیں رہ سکتی اور اللہ نے تمہیں میرے علم اور حکمت دی ہے، اور میں نے اللہ سے درخواست کی ہے کہ علم و فہم میرے نسلوں میں منتقل ہوتی رہے"
مشیتِ الٰہی یہی تھی کہ سلسلۂ وصایت و امامت حسین بن علی علیہ السلام کی اولاد میں جاری رہے اور اہل بیت، جو خدائے بزرگ و برتر کی رضا کے سوا کچھ نہ سوچتے تھے، حسن یا حسین علیہما السلام کی ذات سے قطع نظر، پوری جانفشانی کے ساتھ اس ہستی کی حمایت و پیروی کرتے تھے جس کے نام پر امامت کی الٰہی مہر ثبت ہو چکی تھی۔

اہل بیت علیہم السلام سے بارہ امام

خزّاز قمی نے ہشام بن محمد سے، اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ جب امیرالمؤمنین علیہ السلام کی شہادت ہوئی تو حسن بن علی علیہ السلام منبر پر تشریف لے گئے اور جب بولنے کا ارادہ کیا تو روتے روتے ان کا گلا بھر آیا کچھ لمحے بیٹھے رہے، پھر اٹھے اور فرمایا:
الحمد للّه الذی احسن الخلافة علینا اهل البیت و عند اللّه نحتسب عزاءنا فی خیر الآباء رسول اللّه صلی الله علیه و آله وسلم و عنداللّه نحتسب عزاءنا فی امیرالمؤمنین و قد اصیبت (لقد اصبت) به الشرق و الغرب… و لقد حدّثنی جدّی رسول اللّه صلی الله علیه و آله وسلم : «انّ الامر یملکه اثناعشر اماماً من اهل بیته و صفوته ما منّا الاّ مقتول او مسموم؛
"تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے خلافت کو ہم اہل بیت کے لیے احسن طریقے سے مقرر فرمایا ہم اپنے غم کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں، جو ہمیں اپنے سب سے بہترین والد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فراق میں پہنچا ہے ہم اپنے غم کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں، جو ہمیں امیرالمؤمنین علیہ السلام کے فراق میں پہنچا ہے مشرق و مغرب ان کے غم میں سوگوار ہیں... میرے جد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا:
یہ امر (ولایت) بارہ اماموں کے پاس ہوگا، جو ان کے اہل بیت اور برگزیدہ افراد میں سے ہوں گے ہم میں سے ہر ایک یا تو قتل کیا جائے گا یا زہر دیا جائے گا"۔

ب:روایتِ علوی علیہ السلام

۱. زمین پر عدل و انصاف کا قیام

طبرسی نے زید بن وہب جہنی سے روایت نقل کی ہے کہ حسن بن علی علیہماالسلام کو مدائن کے راستے میں زخمی کیا گیا تومیں اس وقت ان کی خدمت میں حاضر ہوا، جب وہ شدید تکلیف میں تھے میں نے عرض کیا:
"اے فرزند رسول خدا! کیا آپ اپنے شیعوں کو بے چرواہے کی بھیڑوں کی طرح تنہا چھوڑ دیں گے؟"تو آپ نے فرمایا:
"اے برادر جہنی! میں ایک ایسی حقیقت جانتا ہوں جو میرے لیے واضح ہےامیرالمؤمنین علیہ السلام نے ایک دن مجھے خوش دیکھا تو فرمایا: اے حسن! کیا تم خوش ہو؟ تمہارا حال کیا ہوگا جب تم اپنے والد کو شہید ہوتے دیکھو گے؟ اور تمہارا کیا حال ہوگا جب بنی امیہ مسلمانوں کی حکومت پر قابض ہو جائیں گے؟ ان کا امیر وہ شخص ہوگا جو بڑے حلق اور بڑے پیٹ والا ہوگا، جو کھاتا رہے گا اور کبھی سیر نہ ہوگاوہ مرے گا، نہ آسمان میں اس کا کوئی مددگار ہوگا اور نہ زمین میں اس کے لیے کوئی معذرت باقی رہے گی وہ مشرق و مغرب پر قابض ہو جائے گا، لوگ اس کی اطاعت کریں گے اور اس کی حکومت طویل ہوگی وہ بدعتیں اور گمراہیاں پیدا کرے گا، حق اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مٹا دے گا، مسلمانوں کے مال کو اپنے حامیوں میں بانٹ دے گا اور مستحقین کو اس سے محروم کر دے گا...
...فکذلک حتی یبعث اللّه رجلاً فی آخر الزمان و کلب من الدّهر و جهل من الناس یؤیّده اللّه بملائکته و یعصم انصاره و ینصره بآیاته و یظهره علی الارض حتّی یدینوا طوعاً و کرهاً یملأ الارض عدلاً و قسطاً و نوراً و برهاناً یدین له عرض البلاد و طولها حتّی لایبقی کافراً الاّ آمن و لا طالح الاّ صلح و تصطلح فی ملکه السّباع و تخرج الارض نبتها و تنزل السّماء برکتها و تظهر له الکنوز، یملک ما بین الخافقین اربعین عاماً فطوبی لمن ادرک ایّامه و سمع کلامه۔
یہ سلسلہ یونہی جاری رہے گا، یہاں تک کہ اللہ آخرالزمان میں ایک مرد کو بھیجے گا، اس سخت دور اور لوگوں کی جہالت میں، اللہ اسے اپنے فرشتوں کے ذریعے مدد دے گا، اس کے انصار کو محفوظ رکھے گا اور اپنی نشانیوں کے ذریعے اس کی نصرت کرے گا وہ پوری زمین پر غالب آئے گا، یہاں تک کہ سب اس کے حکم کو بخوشی یا نارضامندی سے تسلیم کرلیں گے وہ زمین کو عدل، انصاف، نور اور برہان سے بھر دے گا دنیا کے تمام خطے اس کے تابع ہو جائیں گے، یہاں تک کہ کوئی کافر نہ رہے گا مگر وہ ایمان لے آئے گا، اور کوئی فاسد نہ رہے گا مگر وہ اصلاح پا جائے گااس کی حکومت میں درندے آپس میں صلح کر لیں گے، زمین اپنی تمام تر سبزیاں اگائے گی، آسمان اپنی برکتیں نازل کرے گا اور خزانے اس کے لیے ظاہر ہو جائیں گے وہ مشرق و مغرب کے درمیان 40 سال تک حکمرانی کرے گا پس خوش نصیب ہے وہ شخص جو اس کے زمانے کو پائے اور اس کی باتوں کو سنے!" ۔

ج-روایت از حضرت خضر علیہ السلام

امام ہادی علیہ السلام نے فرمایا: امیرالمؤمنین علیہ السلام مسجد الحرام میں داخل ہوئے، جبکہ وہ سلمان فارسی کے سہارے چل رہے تھے اور حسن بن علی علیہماالسلام بھی ان کے ساتھ تھے حضرت علی علیہ السلام مسجد میں بیٹھ گئےاسی وقت ایک خوش شکل آدمی، جو نہایت عمدہ لباس پہنے ہوئے تھا، ان کے پاس آیا اور سلام کیا،پھر اس نے کہا:"اے امیرالمؤمنین! میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں اگر آپ نے ان کے صحیح جوابات دے دیے، تو میں جان لوں گا کہ یہ لوگ (یعنی حکمران) ایسے معاملے پر قابض ہو گئے ہیں، جس کے وہ اہل نہیں ہیں اور میرا فیصلہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ دنیا و آخرت میں امن میں نہیں رہیں گے"
یہ سن کر امیرالمؤمنین علیہ السلام نے حسن بن علی علیہماالسلام کی طرف رخ کیا اور فرمایا: "ابا محمد! تم اس کے سوالات کے جواب دو"جب امام حسن علیہ السلام نے اس کے سوالات کے جوابات دیے تو وہ مرد کہنے لگا: … اشهد علی رجل من ولد الحسین لا یکنّی و لا یسمّی حتّی یظهر امره فیملأها عدلاً کما ملئت جوراً…
"میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور... میں ایک مرد کی گواہی دیتا ہوں، جو حسین علیہ السلام کی نسل سے ہوگا، جس کی نہ کنیت لی جائے گی اور نہ اس کا نام لیا جائے گا، یہاں تک کہ اس کا امر ظاہر ہوگا، اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، جیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی"۔
یہ سن کر امیرالمؤمنین علیہ السلام نے امام حسن علیہ السلام سے فرمایا: "ابا محمد! اس کے پیچھے جاؤ اور دیکھو وہ کہاں جاتا ہے؟"امام حسن علیہ السلام اس کے پیچھے گئے، لیکن جیسے ہی وہ شخص مسجد سے باہر نکلا، میں نے دیکھا کہ وہ یکدم غائب ہو گیا اور مجھے معلوم نہ ہو سکا کہ زمین کے کس حصے میں اللہ سبحان و تعالیٰ نے اسے چھپا لیا،میں واپس آیا اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کو اطلاع دی حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: "ابا محمد! کیا تم نے اسے پہچانا؟... وہ خضر علیہ السلام تھے۔

د:روایاتِ امام حسن علیہ السلام

۱. امامِ زمانہ کی خصوصیات

طبرسی نے ابوسعید عقیصا سے روایت کی ہے کہ جب امام حسن علیہ السلام نے معاویہ سے صلح کی، تو لوگ ان کے پاس آئے اور بعض نے ان پر اعتراض کیا اس پر امام حسن علیہ السلام نے فرمایا:… أما علمتم اَنّه ما منّا الاّ و یقع فی عنقه بیعة لطاغیة زمانه الاّ القائم الذی یصلّی خلفه روح اللّه عیسی بن مریم علیهماالسلام فان اللّه عزّوجلّ یخفی ولادته و یتغیّب شخصه لئلایکون لأحد فی عنقه بیعة اذا خرج. ذلک التّاسع من ولد اخی الحسین ابن سیدة الإماء یطیل اللّه عمره فی غیبته ثمّ یظهره بقدرته فی صورة شابّ دون اربعین سنة، ذلک لیعلم انّ اللّه علی کلّ شی ءٍ...
کیا تم نہیں جانتے کہ ہم میں سے ہر ایک پر اپنے زمانے کے طاغوت کی بیعت لازم آتی ہے، سوائے ہمارے قائم (امام مہدی علیہ السلام) کے؟ وہی ہیں جن کے پیچھے روح اللہ، عیسیٰ بن مریم علیہماالسلام نماز ادا کریں گےبے شک، اللہ سبحان و تعالیٰ ان کی ولادت کو مخفی رکھے گا اور انہیں پردۂ غیبت میں رکھے گا، تاکہ جب وہ ظہور کریں تو کسی کی بیعت کا بوجھ ان کی گردن پر نہ ہو وہ میرے بھائی حسین علیہ السلام کی نسل سے نویں فرزند ہوں گے اور عالم کی برگزیدہ کنیزوں میں سے ایک کے بیٹے ہوں گےاللہ ان کی غیبت کو طویل کرے گا، پھر اپنی قدرت سے انہیں ظاہر کرے گا، اور وہ اس وقت ایک ایسے جوان کی صورت میں ہوں گے، جس کی عمر چالیس سال سے کم ہوگی یہ اس لیے ہوگا تاکہ لوگ جان لیں کہ بے شک اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے"
حضرت مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خصوصیات اور فضائل کا بیان دین کی نظر میں حاکم اور حکومت کے معیار اور توقعات کو واضح کر سکتا ہےتاہم، چند مخصوص امور کی طرف اشارہ(جیسے خفیہ ولادت، امام کا پوشیدہ و ناآشنا ہونا، طویل عمر، اور ان کی گردن پر ظالموں کی بیعت کا نہ ہونا)شیعہ ذہنیت کو ایک بالکل غیر مأنوس اور غیر معمولی صورتِ حال کے لیے تیار کرتا ہے یہ ایک ایسی صورتِ حال ہے جس پر ایمان لانا اور غیبت کے کٹھن ماحول کو برداشت کرنے کے لیے آمادہ ہونا، ایک طویل عمل اور پیشگی تیاری کا تقاضا کرتا ہے؛ اور اس سلسلے میں ائمہ علیہ السلام کی وضاحتیں اور تاکیدات اسی تناظر میں قابلِ فہم ہیں۔

۲. امت کے مہدی ہم میں سے ہیں

امام محمد باقر علیہ السلام، امام زین العابدین علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ امام حسن علیہ السلام نے فرمایا: ...الائمّة عدد نقباء بنی اسرائیل و منّا مهدیّ هذه الأمّة..."اماموں کی تعداد بنی اسرائیل کے نقیبوں کے برابر ہے، اور مہدیٔ امت ہم میں سے ہوں گے۔

۳. بارہ شہید امام

خزّاز قمی نے اپنی سند کے ساتھ جنادہ بن ابی امیہ سے روایت کی ہے: میں اس وقت امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا جب وہ اپنی بیماری میں تھے، جس میں وہ دنیا سے رخصت ہوئےآپ کے سامنے ایک تشت رکھا ہوا تھا، پھر آپ نے فرمایا:
واللّه انّه لعهد عهده الینا رسول اللّه صلی الله علیه و آله وسلم انّ هذا الامر یملکه اثنا عشر اماماً من ولد علیّ علیه السلام و فاطمه علیهاالسلام ما منّا الاّ مسموم او مقتول.
"اللہ کی قسم! یہ وہ وعدہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں دیا تھا کہ اس ولایت کو بارہ امام سنبھالیں گے، جو علی علیہ السلام اور فاطمہ زہرا علیہاالسلام کی نسل سے ہوں گے ان میں سے ہر ایک یا تو زہر کے ذریعے یا قتل کے ذریعے دنیا سے جائے گا۔

۴. قائم منتظَر

ابن حمزہ، علی بن رئاب سے روایت کرتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ایک شخص امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور پوچھا:"خضر علیہ السلام کے واقعے میں، حضرت موسیٰ علیہ السلام کس چیز کو سمجھنے سے قاصر رہے؟امام حسن علیہ السلام نے فرمایا: "سب سے بڑے خزانے کو پہچاننے سے"
پھر آپ نے اس شخص کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور فرمایا: "مزید پوچھو!" اس کے بعد آپ آگے بڑھے، اور اچانک دو افراد ایک چٹان پر نمودار ہوئے وہ زہریلے دھوئیں سے لپٹے ہوئے تھے اور ان کی گردنوں میں شیطانی زنجیریں تھیں وہ پکار رہے تھے: "یا محمد! یا محمد!" اور دو شیطان ان کو جواب دے رہے تھے: "تم جھوٹے ہو!"
پھر امام حسن علیہ السلام نے صخرہ (چٹان) سے فرمایا: ...انطبقی علیهما الی الوقت المعلوم. الذی لایقدّم و لا یؤخّر» و هو خروج القائم المنتظر..
"انہیں اس معین وقت تک قید رکھو، جو نہ پہلے آئے گا اور نہ مؤخر ہوگا"اور یہ وہی وقت ہے جب قائمِ منتظر (امام مہدی علیہ السلام) کا ظہور ہوگا وہ شخص یہ منظر دیکھ کر بولا: "یہ تو جادو ہے!" پھر وہ واپس پلٹا تاکہ اس کے خلاف لوگوں کو خبر دے، مگر اچانک گونگا ہو گیا۔

۵ غیبت کے دور کی سختی

زید بن وہب سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جب امام حسن علیہ السلام مدائن میں زخمی اور علیل تھے، تو آپ نے معاویہ کے ساتھ جنگ کے بارے میں کچھ باتیں ارشاد فرمائیں آخر میں آپ نے مہدوی حکومت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: حَتَّى يَبْعَثَ اللَّهُ رَجُلًا فِي آخِرِ الزَّمَانِ وَ كَلَبٍ مِنَ الدَّهْرِ وَ جَهْلٍ مِنَ النَّاسِ؛ "یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ آخر الزمان، روزگار کی سختی اور لوگوں کی جہالت کے دور میں ایک شخص کو مبعوث کرے گا"۔

6. مکمل خیر

شیخ طوسی نے عمیر بنت نفیل سے روایت کی ہے کہ امام حسن علیہ السلام نے فرمایا: لایکون هذا الامر الذی تنتظرون حتّی یبرأ بعضکم من بعض و یلعن بعضکم بعضاً و یتفل بعضکم فی وجه بعض و حتّی یشهد بعضکم بالکفر علی بعض
"یہ امر، جس کا تم انتظار کر رہے ہو، اس وقت تک واقع نہیں ہوگا جب تک کہ تم میں سے بعض لوگ ایک دوسرے سے براءت نہ کریں، بعض ایک دوسرے پر لعنت نہ بھیجیں، بعض ایک دوسرے کے چہرے پر تھوک نہ دیں اور بعض ایک دوسرے کے کافر ہونے کی گواہی نہ دیں"
یہ ارشادات مشکل حالات کا سامنا کرنے کے لیے ایک قسم کی ذہنی تیاری کی طرف اشارہ کرتے ہیں؛ تاکہ جب وعدوں کی سچائی سامنے آئے، تو ناامیدی اور مایوسی کے بجائے ایمان اور تسلیم میں اضافہ ہو نیز اس سے یہ امید افروزا منظر بھی سامنے آتا ہے کہ اندھیرے کی انتہا میں ہی نور کے طلوع ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔

۷. اماموں کی تعداد

خزّاز قمی نے اپنی سند کے ساتھ سلیمان قصری سے روایت کی ہے کہ میں نے امام حسن علیہ السلام سے پوچھا: "اماموں کی تعداد کتنی ہے؟" آپ نے فرمایا: عدد شهور الحول "سال کے مہینوں کے برابر!" (یعنی بارہ) ۔

۸ .ملائکہ کے ذریعےامام کی تائیدونصرت

امام حسن علیہ السلام نے ایک مقام پر ارشاد فرمایا: يُؤَيِّدُهُ اللَّهُ بِمَلَائِكَتِهِ وَ يَعْصِمُ أَنْصَارَهُ وَ يَنْصُرُهُ بِآيَاتِهِ... ؛ "خداوند اپنے فرشتوں کے ذریعے اس کی تائید فرمائے گا، اس کے انصار کو لغزشوں سے محفوظ رکھے گا اور اپنی نشانیوں کے ذریعے اس کی نصرت کرے گا"۔
جہاں انسان خدا اور اس کے ولی کے ساتھ عہد و پیمان باندھ کر ان کا ساتھ دیتے ہیں، وہاں زمین و آسمان ایک ہو جاتا ہے فرشتے مومنین کی مدد کو آن پہنچتے ہیں اور مومنین کو گمراہی کی جگہوں سے محفوظ رکھا جاتا ہے پہلے سے نصب شدہ روشن نشانیاں اہل ایمان پر راستہ واضح کر دیتی ہیں اور تمام لوگوں پر حجت تمام کر دیتی ہیں۔

9.اہلِ زمین کی فتح

امام حسن علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:وَ يُظْهِرُهُ عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ حَتَّى يَدِينُوا طَوْعاً وَ كَرْهاً يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلًا وَ نُوراً وَ بُرْهَاناً يَدِينُ لَهُ عَرْضُ الْبِلَادِ وَ طُولُهَا لَا يَبْقَى كَافِرٌ إِلَّا آمَنَ بِهِ وَ لَا طَالِحٌ إِلَّا صَلَحَ؛ "خداوند اسے تمام اہل زمین پر غالب کر دے گا یہاں تک کہ تمام لوگ(خواہ خوشی سے ہوں یا مجبوری سے)اس کے آئین کے مطیع ہو جائیں گے وہ زمین کو عدل و انصاف، نور اور روشن دلیل سے بھر دے گا، یہاں تک کہ دنیا کے گوشے گوشے کی تمام سرزمینیں اس کی فرمانبردار ہو جائیں گی، کوئی کافر ایسا نہ بچے گا جو اس پر ایمان نہ لے آئے اور کوئی بدکار ایسا نہ رہے گا جو اصلاح نہ پا جائے"۔
معصومین علیہ السلام کی تعلیمات میں مہدویت سے متعلق سب سے زیادہ دہرایا جانے والا پیغام یہی کلام ہے؛ ایک ایسی بات جو آلِ ابی سفیان اور آلِ معاویہ کے مقابلے میں بظاہر شکست کی گھڑیوں میں بھی شیعوں کے دلوں میں ولولہ اور امید زندہ رکھتی تھی۔

خلاصہ ونتیجہ

مقدمہ و اہمیتِ امامت: یہ تحقیق اس بنیادی اسلامی نظریے کی وضاحت ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت کے بعد دین کی بقا اور معاشرے کی ہدایت کے لیے "نظامِ امامت" کا ہونا ناگزیر تھا اگرچہ تاریخی حالات کی بنا پر یہ نظام ظاہری حکمرانی سے دور کر دیا گیا، لیکن اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ زمین کبھی بھی حجتِ خدا سے خالی نہیں رہتی اسی سلسلے کی آخری کڑی حضرت امام مہدی (عج) ہیں، جو دین کو مکمل نافذ کریں گےامام حسن مجتبیٰ (ع) کی سیرت اور اقوال میں اس آخری نجات دہندہ کے بارے میں واضح بشارتیں موجود ہیں۔

روایات کا جائزہ: امام حسن (ع) سے منقول کل 438 روایات میں سے 10 روایات خاص طور پر امام مہدی (عج) کے بارے میں ہیں یہ روایات رسول اکرم (ص)، حضرت علی (ع)، حضرت خضر (ع) اور خود امام حسن (ع) سے مروی ہیں ان کا خلاصہ درج ذیل نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے:

۱. زمین حجت سے خالی نہیں: رسول اکرم (ص) کے حوالے سے امام حسن (ع) نے بیان کیا کہ زمین کبھی بھی حجتِ الٰہی سے خالی نہیں ہوگی، چاہے وہ ظاہر ہو یا غائب امام مہدی (عج) امام حسن (ع) کی نسل سے ہوں گے (براستہ امام حسین ع)، جو زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیسے وہ ظلم سے بھری ہوگی۔

۲. بارہ اماموں کا تذکرہ: امام حسن (ع) نے اپنے خطبات اور وصیتوں میں واضح کیا کہ ائمہ کی تعداد سال کے مہینوں کی طرح "بارہ" ہے اور یہ سب پیغمبر (ص) کے برگزیدہ وارث ہیں ان میں سے ہر ایک یا شہید کیا جائے گا یا زہر دیا جائے گا۔
۳. غیبت اور بیعت کا نہ ہونا: امام حسن (ع) نے اپنی صلح کی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ امام مہدی (عج) کی ولادت مخفی ہوگی اور وہ غیبت اختیار کریں گے تاکہ جب وہ قیام کریں تو ان کی گردن پر کسی ظالم حکمران کی بیعت کا طوق نہ ہو وہ مکمل طور پر آزاد ہو کر عدل قائم کریں گے اور حضرت عیسیٰ (ع) ان کی اقتدا میں نماز ادا کریں گے۔
۴. ظہور سے پہلے کے حالات: روایات میں ذکر ہے کہ ظہور سے پہلے معاشرہ شدید انتشار کا شکار ہوگا لوگ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور براءت کا اظہار کریں گے یہ سخت آزمائش کا دور ہوگا، جس کے بعد امام (عج) ظاہر ہو کر تمام اختلافات کو ختم کریں گے اور خوشحالی لائیں گے۔
۵. عالمی حکومت: امام مہدی (عج) کے دور میں زمین اپنے خزانے اگل دے گی، آسمان سے برکتیں نازل ہوں گی اور درندے تک آپس میں صلح کر لیں گے وہ مشرق و مغرب پر چالیس سال تک حکمرانی کریں گے۔

حرفِ آخر

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے فرمودات کی روشنی میں ہم درج ذیل اہم درس حاصل کر سکتے ہیں:
۱. زمین حجتِ خدا سے کبھی خالی نہیں رہتی: سب سے پہلا اور بنیادی سبق یہ ہے کہ اللہ کا نظامِ ہدایت کبھی منقطع نہیں ہوتاچاہے حالات کتنے ہی سازگار یا ناسازگار کیوں نہ ہوں، زمین پر اللہ کا ایک نمائندہ (امام) ہمیشہ موجود ہوتا ہے جو مخلوق کے لیے امن اور ہدایت کا ضامن ہوتا ہے، چاہے وہ نظروں سے اوجھل (غائب) ہی کیوں نہ ہو۔
۲. امید اور یقین کی طاقت: یہ روایات ہمیں مایوسی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں امید کی کرن دیتی ہیں مومن کو کبھی بھی ظالم حکمرانوں یا فساد کے پھیلاؤ سے ناامید نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور آخری فتح حق اور انصاف کی ہوگی ظلم کا انجام زوال ہے اور عدل کا مستقبل روشن ہے۔
۳. آزمائش میں ثابت قدمی: ظہور سے پہلے کا دور سخت ترین آزمائش کا دور ہے جس سے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ غیبت کے زمانے میں فتنوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ایسے میں اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان اپنے ایمان پر ڈٹا رہے، باطل نظریات سے متاثر نہ ہو اور خود کو امام (عج) کے ظہور کے لیے تیار رکھے۔
۴. باطل سے سمجھوتہ نہ کرنا: امام مہدی (عج) کی غیبت کی ایک بڑی حکمت یہ بیان کی گئی ہے کہ ان کی گردن پر کسی ظالم کی بیعت کا طوق نہیں ہوگایہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ایک حقیقی مصلح اور مومن حق کے نفاذ کے لیے طاغوت کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرتا، بلکہ مکمل آزادی کے ساتھ عدل قائم کرتا ہے۔
۵. حقیقی خیر کا انتظار: بعض اوقات معاشرتی بگاڑ اور مشکلات بھی کسی بڑے "خیر" کا پیش خیمہ ہوتی ہیں تمام تر اختلافات اور پریشانیوں کا حتمی حل امام مہدی (عج) کا قیام ہے جو زمین کو اسی طرح عدل سے بھر دیں گے جیسے وہ ظلم سے بھری ہوگی۔

مصادر

1۔ قرآن
2۔ ابن بابویہ، محمد بن علی،علل الشرایع، مومنین، 1380ش.
3۔ ابن‌ حمزه، محمد بن علی،الثاقب فی المناقب،انصاريان - قم – ایران،1370 ق.
4۔ بحرانی، عبد الله بن نور الله،عوالم العلوم و المعارف و الأحوال من الآیات و الأخبار و الأقوال،مدرسۃ الإمام المہدي (عج) - قم - ایران
5۔ بحرانی،ہاشم‌بن سلیمان، مدینۃ المعاجز: فضائل و کرامات چہارده معصوم علیہم السلام، قم،غریب عساکره‌مجد، 1384ش.
6۔ پیشوایی، مہدی، سیره پیشوایان، قم: موسسہ امام صادق، 1380
7۔ خزاز رازی، علی بن محمد، کفایۃالاثر، تحقیق: عبداللطیف حسینی کوه‌کمری، قم: انتشارات بیدار، 1401 ق.
8۔ صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمہ، تہران، انتشارات اسلامیہ، 1395 ق.
9۔ طبرسی، احمد بن علی ،الاحتجاج علی اہل اللجاج‌،نشر المرتضی،مشہد مقدس - ایران1403 ‌‎ق.
10۔ طوسی، محمد بن حسن، الغیبہ، تحقیق: عبادالله تہرانی و علی احمد ناصح، قم، دارالمعارف الاسلامیۃ، 1411 ق.
11۔ غنوی، امیر، طرح اندیشہ مہدویت از امام علی تا امام سجاد، مجلہ مشرق موعود، شماره 27، سال 1392
12۔ قطب راوندی، سعید بن ہبہ‌الله، الخرائج و الجرائح ،موسسۃ الامام المہدی (عج) - قم – ایران1409 ق.
13۔ مجلسی،محمد باقر ، بحارالانوار، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۸۴ق.

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha