جمعہ 21 اگست 2026 - 17:48
کلامِ امام عسکری (ع) میں امام زمانہ(عج) کی خصوصیات

حوزہ/امام حسن عسکری علیہ السلام کی اہم تدابیر میں سے ایک امام مہدی (عج) کی امامت کو واضح اور مستحکم کرنے کے لیے مہدوی تعلیمات و آگاہی فراہم کرنا تھا گیارہویں امام کے ارشادات میں فکرِ مہدویت کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

تحریر: مولانا ڈاکٹر عابد رضا

حوزہ نیوز ایجنسی|

تمہید

امام حسن عسکری علیہ السلام کی اہم تدابیر میں سے ایک امام مہدی (عج) کی امامت کو واضح اور مستحکم کرنے کے لیے مہدوی تعلیمات و آگاہی فراہم کرنا تھا گیارہویں امام کے ارشادات میں فکرِ مہدویت کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا۔

یہاں امام عسکری (ع) کی بعض روایات کی روشنی میں حضرت مہدی (عج) کی خصوصیات کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے:

نام، نسب اور صفات

الف) حضرت رسولِ اکرمؐ کے ساتھ امام مہدی (عج) کی خصوصی شابہت و نسبت

امام زمانہ(عج)خلقت (شکل و صورت) اور اخلاق کے اعتبار سے رسولِ خداؐ کے سب سے زیادہ مشابہ ہیں؛ان کا نام رسول اللہؐ کا نام اور ان کی کنیت رسول اللہؐ ہی کی کنیت ہے؛وہ وہی ہستی ہیں جن کے ظہور و آمد کی بشارت خود رسولِ اکرمؐ نے دی ہے شاید یہ کامل مشابہت، حضرت مہدی (عج) اور رسولِ خداؐ کے انقلاب کے باہم اور یکسانیت کی طرف اشارہ ہو؛ یعنی اہداف و طریقۂ کار میں یکسانیت اور قائدانہ اوصاف و رہنمائی کے انداز میں بھی مشابہت پائی جاتی ہے۔

ب) اللہ کی حجت، خلیفہ اور آخری امام

امام حسن عسکری (ع) کے فرامین میں حضرت مہدی (عج) کے بارے میں وارد ہونے والی بعض صفات دراصل ان کی شخصیت کے اسی پہلو کی وضاحت کرتی ہیں جیسے اللہ کا آخری خلیفہ یا امام عسکری (ع) کا جانشین، امام، حجتِ خدا، ولیِ خدا، امت کا صاحبِ اختیار اور وصی—یہ تمام بیانات اسی حقیقت کو بیان کرتے ہیں اسی طرح یہ نکتہ بھی بیان ہوا ہے کہ ان کی امامت کا اقرار اور ان کی اطاعت کا وجوب بالکل اسی طرح ہے جیسے پہلے امامؑ کی امامت کو تسلیم کرنا اور ان کی اطاعت کرنا واجب ہے۔

امامت و وصایت کو تسلیم کرنا درحقیقت کسی محض ایک فرد کو ماننا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک حجت ِالہی کو تسلیم کرنا ہے جو ہر زمانے میں کسی نہ کسی معصوم ہستی کے وجود میں مجسم ہوتی ہےہر امام اللہ کی حجت، اس کا ولی اور امت کا صاحبِ اختیار ہوتا ہے ان نکات پر اصرار اس لیے ہے کیونکہ کسی ایک امام کی امامت کا اقرار اور ان کی ذات سے قلبی وابستگی بسا اوقات اس بات کو بھلا دینے کا سبب بن جاتی ہے کہ جس ضرورت نے ہمیں ان کے مقام و منصب کو تسلیم کرنے پر آمادہ کیا تھا، وہ ان کی شہادت کے بعد ختم نہیں ہوتی اتمامِ حجت کے بعد کسی نئے امام کا انکار، سابقہ تمام ائمہؑ کے انکار کے مترادف ہے؛ کیونکہ نئی امامت کا ثبوت پچھلے امام کی باقاعدہ نص (تعیین و اعلان) اور اس دعوے کی حقانیت کے دلائل و نشانیاں ہوتی ہیں پس نئے امام کا انکار دراصل سابقہ ائمہ کے انکار اور حق کی نشانیوں کو جھٹلانے کے ہم معنی ہے۔

ج) قائمِ آلِ محمدؑ کی ذاتی خصوصیات

حضرتِ حجت (عج) عمومی اوصافِ امامت کے علاوہ کچھ ایسی مخصوص صفات کے بھی حامل ہیں جو خاص انہی کی ذات سے وابستہ ہیں؛ ان میں سے جن اوصاف کی طرف امام حسن عسکری علیہ السلام نے اشارہ فرمایا ہے وہ درج ذیل ہیں:ان کی والدہ ماجدہ قیصرِ روم کے فرزند کی صاحبزادی ہیں؛ انبیائے کرامؑ کی بعض خاص سنتیں امام مہدی (عج) میں جاری ہیں؛ یعنی حضرت نوحؑ کی طرح طولانی عمر کا پانا اور حضرت موسیٰؑ کی مانند غیبت کا پیش آنا؛ [10]ظہور کے وقت تک ان کا نامِ مبارک زبان پر لانا ممنوع ہے؛ [11]وہ ایسے قائم ہیں جن کے ظہور کے لیے لوگ طویل مدت تک انتظار کریں گے۔

ائمۂ اطہار علیہم السلام کے نسب پر ایک نظر ڈالنے سے یہ نکتہ واضح ہوتا ہے کہ ان میں سے اکثر ائمہ کی مائیں مختلف قومیتوں اور خطوں سے تعلق رکھتی تھیں؛ اس لحاظ سے امام مہدی (عج) کا نسبی تعلق دنیا کی بڑی بڑی اقوام سے جڑجاتا ہے، سیاہ فام افریقہ سے لے کر ایران اور روم تک یہ وسیع، کثیر القومی اور تمام تر نسلی حدود سے بالاتر خاندانی پس منظر، اس امام کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے جن کا مشن پوری زمین کا نظام سنبھالنا ہے۔

تمام اولیائے الٰہی، انبیائے کرامؑ کے حقیقی وارث ہیں؛ لیکن ان کی زندگیوں میں جاری رہنے والی بعض الٰہی سنتیں آج کی امت کے لیے عجیب اور غیر مانوس لگتی ہیں ایسی ہی بعض سنتیں امام مہدی (عج) کی حیاتِ مبارکہ میں دوبارہ جاری ہوئی ہیں؛ وہ سنتیں جو ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کتنی لامحدود ہے اور وہ مادی و قدرتی قوانین کا پابند نہیں ہے۔

جس دور میں طاغوتی طاقتیں حجتِ خدا کی تلاش میں گھر کے ہر کونے کو چھان رہی ہوں، وہاں ان کا اصل نام اور نسب بیان کرنا حساسیت اور خطرات کو مزید بڑھا دیتا ہے نام نہ لینے کی ممانعت دراصل خطرات کے سدِباب کے لیے تھی، اور جہاں خطرے یا حساسیت کا اندیشہ نہ ہو، وہاں اس ممانعت کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا۔

وہ اپنے آباؤ اجداد کی طرح حق کے لیے قیام فرمانے والے ہیں؛ مگر فرق یہ ہے کہ ان کے ظہور کے لیے طویل انتظار کرنا اور سازگار فضا تیار کرنا پڑے گی جب تک دنیا کو دوسرے تمام نظاموں اور دعویداروں کا تجربہ نہ ہو جائے اور ہم ان کے لئے مضطر انہ حالت اور بے بسی کا اعتراف نہ کر لیں، تب تک ان کے ظہور کا حقیقی انتظار اور ان کی راہ تکنے کی سچی تڑپ پیدا نہیں ہو سکتی۔

د) خاص افراد کے لیے امام کی شناخت کی مخصوص نشانیاں

خارق العادت امور کی انجام دہی ان طریقوں میں سے ایک تھی جس کے ذریعے امامِ معصوم ماورائی دنیا کے ساتھ اپنےا رتباط کو ثابت فرماتے تھے اسی طرح روایات کی رو سے امامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ شہادت فرمانے والے امام کے جنازے پر اگلا امام ہی نماز پڑھاتا ہے بعض روایات میں امام حسن عسکری علیہ السلام نے امام مہدی (عج) کی شناخت کے لیے انہی طریقوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

ابوالادیان امام حسن عسکری (ع) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرتؑ نے مجھے کسی کام کے سلسلے میں مدائن جانے کا حکم دیا اور مجھے آگاہ فرمایا کہ جب میں سامرا واپس آؤں گا تو آپؑ کے گھر سے گریہ و زاری کی صدائیں بلند ہو رہی ہوں گی اور امامؑ کا جسدِ مبارک تختۂ غسل پر ہوگاابوالادیان نے پوچھا: ایسے حالات میں، میں بعد والے امام کو کیسے پہچانوں؟حضرت عسکری (ع) نے ان کی رہنمائی کے لیے تین نشانیاں بیان فرمائیں:وہ شخص جو ان خطوط کے جوابات طلب کرے گا جو میں نے مدائن والوں کے لیے لکھے ہیں؛وہ جو میرے جنازے پر نماز پڑھائے گا؛اور وہ جو تھیلی کے اندر موجود اموال کی خبر دے گاٗابوالادیان مدائن سے واپسی پر امام عسکری (ع) کی تمام تر پیش گوئیوں کو حرف بہ حرف سچ پاتے ہیں اور انہی علامات کے ذریعے حضرتِ حجت (عج) کی حقیقی شناخت حاصل کر لیتے ہیں۔

غیبت اور نیابت

امام حسن عسکری علیہ السلام کی بعض روایات ان اہم نکات کے لیے مخصوص ہیں جن کا تعلق ابتدائی دورِ غیبت سے ہے جیسے ابو الادیان کی روایت—جس کا ذکر پہلے گزرا—انہیں روایات میں شمار ہوتی ہے؛ اسی طرح وہ روایت بھی جس میں امام عسکری (ع) نے سنہ 260 ہجری میں شیعوں کے درمیان وقتی انتشار اور تفرقے کی پیش گوئی فرمائی تھی— جیسے ابو ہاشم جعفری کی روایت—جس میں راوی نے اس مقام کے بارے میں دریافت کیا جہاں حضرتؑ کی وفات کے بعد ان کے فرزند کے احوال معلوم کیے جا سکیں اور امامؑ نے انہیں مدینہ منورہ کا حوالہ دیا—کا تعلق بھی اسی دور سے ہے۔

امام حسن عسکری علیہ السلام کی اہم ترین روایات میں سے ایک روایت عصرِ غیبت کے وکلاء کے باقاعدہ تعارف اور منصبِ نیابت کے قیام سے متعلق ہے: قَالَ الْحَسَنُ ( لِبَدْرٍ فَامْضِ فَائْتِنَا بِعُثْمَانَ بنِ سعِیدٍ الْعمْرِیِّ فَمَا لَبِثْنَا إِلَّا یَسِیراً حَتَّی دَخَلَ عُثْمَانُ فَقَالَ لَهُ سَیِّدُنَا أَبُو مُحَمَّدٍ) امْضِ یَا عُثْمَانُ فإِنَّکَ الْوَکیلُ وَ الثقَةُ الْمَأْمُونُ عَلَی مَالِ اللَّهِ وَ اقْبِضْ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ الْیَمَنِیِّینَ مَا حَمَلُوهُ منَ الْمالِ... ثُمَّ قُلْنَا بِأَجْمَعِنَا یَا سَیِّدَنَا وَ اللَّهِ إِنَّ عُثْمَانَ لَمِنْ خِیَارِ شِیعَتِکَ وَ لَقَدْ زِدْتَنَا عِلْماً بِمَوْضِعِهِ منْ خدْمَتِکَ وَ إِنَّهُ وَکِیلُکَ وَ ثِقَتُکَ عَلَی مَالِ اللَّهِ تَعَالَی راوی بیان کرتا ہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے (اپنے خادم) بدر سے فرمایا:”جاؤ اور عثمان بن سعید عمری کو ہمارے پاس لے کر آؤ“ہم نے بس تھوڑا ہی انتظار کیا تھا کہ عثمان اندر داخل ہوئے ہمارے آقا و مولا ابو محمد امام عسکری (ع) نے ان سے فرمایا:”اے عثمان! بلا شبہ تم وکیل اور اللہ کے مال پر قابلِ اعتماد و امانت دار ہو؛ جاؤ اور ان اہلِ یمن کے گروہ سے وہ اموال تحویل میں لو جو وہ لائے ہیں...“پھر ہم سب نے مل کر عرض کیا:”اے ہمارے آقا! خدا کی قسم عثمان بلاشبہ آپ کے بہترین اور برگزیدہ شیعوں میں سے ہیں، اور آپ نے اپنی بارگاہ میں ان کے مقام و منزلت کے بارے میں ہمارے علم میں مزید اضافہ فرمایا ہے؛ اور وہ واقعی آپ کے وکیل اور اللہ تعالیٰ کے مال پر آپ کے معتمد ہیں “امامؑ نے ارشاد فرمایا:نَعَمْ وَ اشْهَدُوا عَلَى أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الْعَمْرِيَّ وَكِيلِي وَ أَنَّ ابْنَهُ مُحَمَّداً وَكِيلُ ابْنِي مَهْدِيِّكُمْ”ہاں! اور تم سب گواہ رہنا کہ عثمان بن سعید عمری میرا وکیل ہے اور اس کا بیٹا محمد، میرے فرزند اور تمہارے مہدی (عج) کا وکیل ہے “۔

عثمان بن سعید ابتدائی دورِ غیبت میں امام مہدی (عج) کے وکیلِ خاص تھے اور امام عسکری (ع) کا ان کی مدح و توثیق فرمانا درحقیقت دورِ غیبت کے ابتدائی کٹھن مرحلے میں شیعوں کے لیے ایک مضبوط و قابلِ اعتماد سہارا قائم کرنا تھا [14] عثمان بن سعید امام ہادی اور امام عسکری علیہما السلام کے دور میں نظامِ وکالت کے منتظمِ اعلیٰ تھے؛ چنانچہ امامؑ کی جانب سے ان کی ذات اور فرامین کو یہ غیر معمولی سند و اعتبار عطا کرنا، آغازِ غیبت کے دور میں شیعہ معاشرے کے لیے ایک عظیم ترین فکری و عملی پشت پناہی ثابت ہوا۔

مزید برآں، امام حسن عسکری علیہ السلام کی جانب سے محمد بن عثمان کو امام مہدی (عج) کا وکیل مقررکرنا عصرِ غیبت میں باہمی اختلافات اور کشمکش کو کم سے کم کرنے کا سبب بنا اور اس نے دورِ غیبت کے لیے ایک قابلِ اعتماد و مرکزی قیادت کا تعین کر دیا؛ بالخصوص اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ محمد بن عثمان غیبتِ صغریٰ کے دوران وکالت کے طویل ترین دورانیے پر فائز رہے اور سنہ 304 یا 305 ہجری میں وفات پائی۔

امام علیہ السلام نے بعض روایات میں شیعوں کو امام کی غیبت کے اثرات اور درپیش مشکلات سے روشناس کرایا اور انہیں اس راہ میں استقامت اور عقیدے پر ثابت قدم رہنے کے لیے تیار کیا ایک روایت میں امامؑ اپنے فرزند کا بحیثیتِ قائم تعارف کروانے کے بعد، ان میں انبیائے کرامؑ کی سنتوں کے جاری ہونے کے وصف کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: إن ابنی هو القائم من بعدی، و هو الذی یجری فیه سنن الأنبیاء بالتعمیر و الغیبة حتی تقسو القلوب لطول الأمد فلا یثبت علی القول به إلا من کتب الله عز وجل فی قلبه الایمان و أیده بروح منه؛بے شک میرا یہ فرزند میرے بعد وہی قائم ہے، اور یہی وہ ہستی ہے جس میں انبیاءؑ کی سنتیں یعنی طویل عمر اور غیبت جاری ہوں گی؛ یہاں تک کہ مدت لمبی ہونے کی وجہ سے (کمزور) دلوں میں سختی پیدا ہو جائے گی اور اس کی امامت کے عقیدے پر کوئی ثابت قدم نہیں رہے گا سوائے اس شخص کے جس کے دل میں اللہ عزوجل نے ایمان نقش کر دیا ہو اور اپنی طرف سے ایک خاص روح کے ذریعے اس کی تائید فرمائی ہو “۔

اگرچہ امام مہدی (عج) اپنے آباؤ اجداد کی طرح حق کے لیے قیام کرنے والے ہیں، لیکن ان کا نظروں سے اوجھل رہنا اور طویل عمر پانا ایک ایسی آزمائش ہے جو دلوں سے نرمی اور قبولیت کا مادہ چھین کر انہیں شک اور تذبذب میں مبتلا کر سکتی ہے اس آزمائش سے دل کو سلامتی کے ساتھ نکال لے جانے والی چیز صرف وہ گہرا ایمان ہے جو انسان کے باطن میں اس طرح رچ بس چکا ہو کہ خدا اور اس کے رسولؐ کے دشمنوں کے لیے محبت کی کوئی گنجائش باقی نہ چھوڑے وہ چیز جو دل کو اس گرداب سے محفوظ رکھتی ہے، وہ ایک مختلف اور پاکیزہ روح ہے جو انسان میں پھونکی گئی ہے؛ ایسا بلند و مستحکم جذبہ جسے شکوک، شبہات اور زمانے کی سختیاں نہ توڑ سکتی ہیں اور نہ ہی مغلوب کر سکتی ہیں۔

ایک اور فرمان میں امام حسن عسکری علیہ السلام ان گروہوں کی خبر دیتے ہیں جو عصرِ غیبت کے فتنوں میں مبتلا ہو جائیں گے اور جن کا انجام حیرانی و سرگردانی، ہلاکت یا جھوٹ گھڑنا ہوگا:«اِنَّ لَهُ غَيْبَةً يَحَارُ فِيهَا الْجَاهِلُونَ، وَ يَهْلِكُ فِيهَا الْمُبْطِلُونَ، وَ يَكْذِبُ فِيهَا الْوَقَّاتُون ”یقیناً ان کے لیے ایک ایسی غیبت ہوگی جس میں نادان و جاہل لوگ حیران و سرگرداں ہو جائیں گے، باطل پرست ہلاکت کے گھاٹ اتر جائیں گے، اور (ظہور کے لیے) وقت کا تعین کرنے والے جھوٹے ثابت ہوں گے“

وہ لوگ جو صحیح معرفت اور الٰہی تعلیمات سے محروم ہیں، غیبت کے آغاز سے ہی حیرانی اور پریشانی میں مبتلا ہو جائیں گے؛ اور وہ لوگ جو غلط اور فاسد افکار رکھتے ہیں، غیبت کا ماحول انہیں ہلاکت و بربادی کی طرف لے جائے گا غیبت کے خاتمے کے حتمی وقت کا پوشیدہ رہنا، ان لوگوں کو جو جلد بازی کا شکار ہیں یا حالات سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی تاک میں رہتے ہیں، خود ساختہ اوقات متعین کرنے اور بے بنیاد پیش گوئیاں کرنے کی طرف دھکیل دے گایہ ارشادات ایک طرف مخاطبین کے سامنے عصرِ غیبت کی حقیقت کو واضح کرتے ہیں اور دوسری طرف ان کمزوریوں اور خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن کا اگر بروقت سدِباب نہ کیا گیا، تو یہی عصرِ غیبت ہمارے زوال اور ہلاکت سببب کا بن سکتا ہے۔

امام حسن عسکری علیہ السلام کے فرامین میں ہم سابقہ ائمہ معصومین علیہم السلام کے اس بار بار دہرائے گئے پیغام کا مشاہدہ کرتے ہیں جو صبر اور انتظارِ فرج کی دعوت پر مبنی تھا:عَلَيْكَ بِالصَّبْرِ وَ انْتِظَارِ الْفَرَجِ، قَالَ النَّبِيُّ (ص): أَفْضَلُ أَعْمَالِ أُمَّتِي انْتِظَارُ الْفَرَجِ، وَ لَا يَزَالُ شِيعَتُنَا فِي حُزْنٍ حَتَّى يَظْهَرَ وَلَدِيَ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ النَّبِيُّ (ص) يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً، فَاصْبِرْ يَا شَيْخِي يَا أَبَا الْحَسَنِ عَلِيُّ وَ أْمُرْ جَمِيعَ شِيعَتِي بِالصَّبْرِ، فَإِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُها مَنْ يَشاءُ مِنْ عِبادِهِ وَ الْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ”تم پر لازم ہے کہ صبر کرواورفرج کا انتظار اختیار کرو؛ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا سب سے افضل ترین عمل انتظارفرج ہے، اور ہمارے شیعہ غم اور حزن کی کیفیت میں رہیں گے یہاں تک کہ میرا وہ فرزند ظاہر ہو جائے جس کی نبیؐ نے بشارت دی ہے کہ وہ زمین کو عدل و انصاف سے ویسے ہی بھر دے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی پس اے میرے بزرگ! اے ابوالحسن علی! صبر کرو اور میرے تمام شیعوں کو بھی صبر کا حکم دو؛ یقیناً زمین اللہ ہی کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور بہترین انجام پرہیزگاروں ہی کے لیے ہے۔“

صبر کا حقیقی مفہوم حق کے راستے پر ثابت قدمی اور استقامت دکھانا ہے، اور عصرِ غیبت کے پرآشوب حالات میں جس چیز پر سب سے زیادہ توجہ کرنا چاہیے وہ اسی صراطِ مستقیم پر جمے رہنا ہے ان حالات میں صبر کے ساتھ ساتھ حضرتؑ کے ظہور کے لیے تیاری بھی کرنی چاہیے، جس تیاری کو ”انتظارِ فرج“ سے تعبیر کیا گیا ہےاس روایت میں انتظارِ فرج کو محض ایک کیفیت یا احساس کے بجائے ”افضل ترین عمل“ قرار دیا گیا ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ انتظارِ فرج محض ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک مسلسل اور عملی جدوجہد ہے جو منتظر انسان حجتِ خدا کے ظہور اور تشریف آوری کی تیاری کے لیے انجام دیتا ہے۔

امام عسکری علیہ السلام اس نکتے کی طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ شیعہ، حضرت مہدی (عج) کی الٰہی حکومت کے قیام سے پہلے تک مسلسل غم اور حزن کی کیفیت میں رہیں گے شیعہ اگر خود بھی اقتدار میں ہوں اور عدل کے ساتھ حکومت چلائیں، تب بھی وہ معصوم اور غیر معصوم کی حکومت کے درمیانی بنیادی فرق کو بخوبی سمجھتے ہیں، اس لیے وہ کبھی اس قلبی حزن سے جدا نہیں ہوتے۔

حق کی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرنے والی اصل تین چیزیں ہیں:تقویٰ کی بنیاد پر قدم بڑھانا «وَ الْعاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ»،حق راستے پر استقامت و ثابت قدمی اختیار کرنا (صبر)،اور حجتِ خدا کے ظہور کے لیے حالات کو سازگار بنانا (انتظارِ فرج [عملی تیاری])۔

امام حسن عسکری علیہ السلام سے منسوب تفسیر میں عصرِ غیبت کے دوران علماء کے کردار کے بارے میں آپؑ سے متعدد روایات وارد ہوئی ہیں، جو عصرِ غیبت میں علماء کے منصب و مقام پر امام عسکری (ع) کی خصوصی تاکید کو ظاہر کرتی ہیں یہی مفہوم ان روایات سے بھی حاصل ہوتا ہے جن میں علماء اور فقہاء کو انبیاء کا وارث، پیغمبروں کا جانشین اور ان کا امانت دار قرار دیا گیا ہے علمائے دین پر نہ صرف یہ فریضہ عائد ہوتا ہے کہ وہ اس تحریک کو آگے بڑھائیں جس کا آغاز ائمہ معصومین علیہم السلام نے فرمایا تھا، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ حضرت مہدی (عج) کے ظہور کے لیے فضا اور زمین ہموار کرنے کے بھی ذمہ دار ہیں۔

امام عسکری علیہ السلام کے دیگر کلمات میں امامت اور مہدویت کے بنیادی اور اہم مسلمہ اصولوں کی بار بار تکرار اور ان پر تاکید بھی ملتی ہے؛ جیسے:«مَنْ مَاتَ وَ لَمْ يَعْرِفْ إِمَامَ زَمَانِهِ...» (جو شخص اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مر گیا...)«إِنَّ الْأَرْضَ لَا تَخْلُو مِنْ حُجَّةٍ...» (زمین کبھی حجتِ خدا سے خالی نہیں رہتی...)«يَمْلَأُ اللَّهُ بِهِ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلاً كَمَا مُلِئَتْ جَوْراً وَ ظُلْماً» (اللہ ان کے وسیلے سے زمین کو اسی طرح عدل و انصاف سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی)«إِنَّ الْأَرْضَ لِلَّهِ يُورِثُهَا مَنْ يَشَاءُ» (یقیناً زمین اللہ کی ہے، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے اس کا وارث بناتا ہے)

نتیجۂ بحث

حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی امامت تاریخِ تشیع کے ایک مختصر مگر انتہائی نازک اور اہم ترین موڑ پر قائم ہوئی اس دور میں شیعہ معاشرے کو دو سمتوں سے شدید خطرات لاحق تھے:عباسی حکومت کی اس فرزند کے بارے میں غیر معمولی حساسیت اور کڑی نگرانی جو امام حسن عسکری (ع) کے ہاں پیدا ہونے والا تھا؛ یہ ایسی حساسیت تھی جو سابقہ اولیائے الٰہی کی جانب سے گیارہویں امام کے ہاں مہدیِ موعود کے پیدا ہونے کی بشارتوں سے پیدا ہوئی تھی اور جس نے اب خود امام مہدی (عج) کی جان کو خطرے میں ڈال رکھا تھاامامت اور مہدویت سے متعلق شیعہ معاشرے کے بنیادی اعتقادات کے متزلزل اور تباہ ہونے کا شدید خدشہ ٗعین جوانی کے عالم میں امام حسن عسکری علیہ السلام کو شہید کیا جانا دراصل اسی پہلی حساسیت کا نتیجہ تھا، جو اس فاسد امید کے تحت انجام دیا گیا کہ مہدیِ موعود (عج) کی ولادت کا راستہ روکا جا سکےلیکن امام عسکری (ع) نے اپنی پیچیدہ، باریک بین اور حکیمانہ تدابیر کے ذریعے ایک طرف توامام مہدی (عج) کی ولادت کو حکومت اور عام لوگوں کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھا، اور دوسری طرف عصرِ غیبت کے بعض نائبین کا باقاعدہ تعین فرما کر ’نظامِ وکالت‘ کو غیبت کے پرآشوب دور میں شیعہ مکتب کے تحفظ کے لیے مستحکم بنیادوں پر قائم کیامزید برآں، آپؑ نے بعض رشتہ داروں اور مخلص دوستوں کو اپنے فرزند کی ولادت اور ان کے مقام و منزلت سے آگاہ کر کےآغازِ غیبت کے ابتدائی سالوں کے وقتی اختلافات اور بحرانوں کو کامیابی سے کنٹرول کیا اور یہاں تک کہ ان حالات کو بھی اپنے الٰہی منصوبے کی کامیابی کے لیے استعمال کیاامام علیہ السلام نے اپنے آباؤ اجداد کی طرح امت کو درپیش خطرات اور ان سے نجات کی راہوں سے باخبر فرمایا، اور مہدویت کے اہم ترین معارف و تعلیمات کو لوگوں کے کانوں تک پہنچا کر حجت تمام فرمائی۔

حوالہ جات

1_ ابن بابویہ، علی بن حسین (1404ق)، الإمامۃ و التبصرة من الحیرة، قم، مدرسۃ الإمام المہدی (عج)،چاپ اول.

3_ ابن شہر آشوب مازندرانی، محمد بن علی (1379ق)، مناقب آل أبی طالب، قم، انتشارات علامہ، اول.

3_ ابن طاوس، علی بن موسی (1411 ق)، مہج الدعوات و منہج العبادات، قم، دار الذخائر، چاپ اول.

4_ ابن عبدالوہاب، حسین بن عبدالوہاب (بی تا)، عیون المعجزات، قم، مکتبۃ الداوری، چاپ اول.

5_ اربلی، علی بن عیسی (1381ق)، کشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ، تبریز، بنی ہاشمی، چاپ اول.

6_ امام عسکری، حسن بن علی( (1409ق)، التفسیر المنسوب إلی الإمام الحسن العسکری (ع)، قم، مدرسۃالإمام المہدی (عج)، چاپ اول.

7_ حر عاملی، محمد بن حسن (1425ق)، إثبات الہداة بالنصوص و المعجزات، بیروت، اعلمی، چاپ اول.

8_ خاتون آبادی، میرمحمدصادق (1373ق)، کشف الحق (الاربعین)، تصحیح و تعلیق: داوود میرصابری،تہران، مؤسسہ امام مہدی (عج)، چاپ اول.

9_ خزاز رازی، علی بن محمد (1401ق)، کفایۃ الأثر فی النصّ علی الأئمۃالإثنی عشر، قم، بیدار.

10_ خصیبی، حسین بن حمدان (1419ق)، الہدایۃ الکبری، بیروت، البلاغ.

11_ راوندی، قطب الدین سعید بن ہبۃ الله (1409ق)، الخرائج و الجرائح، قم، مؤسسہ امام مہدی (عج)، چاپ اول.

12_ صدوق، محمد بن علی بن بابویہ (1395ق)، کمال الدین و تمام النعمۃ، تہران، اسلامیہ، دوم.

من لا یحضره الفقیہ،(1413ق)، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزه علمیہ قم، چاپ دوم.

13_ طوسی، محمد بن الحسن (1411ق)، کتاب الغیبۃ للحجۃ، قم، دار المعارف الإسلامیۃ، اول.

14_ عاملی نباطی، علی من محمد بن علی بن محمد بن یونس (1384ق)، الصراط المستقیم إلی مستحقی التقدیم، نجف، المکتبۃ الحیدریۃ، چاپ اول.

15_ کلینی، محمد بن یعقوب بن اسحاق (1407 ق)، الکافی، تہران، دار الکتب الإسلامیۃ، چهارم.

16_ نوری، حسین بن محمدتقی (1408ق)، مستدرک الوسائل و مستنبط المسائل، قم، مؤسسۃ آل البیت ( چاپ اول).

مشرق موعود ٗ زمستان 1395 - شماره 40 .

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha