آیت الله شہید ڈاکٹر سید محمد حسینی بہشتیؒ

حوزہ/تاریخِ انسانیت میں بعض شخصیات ایسی جنم لیتی ہیں جو اپنے عہد کی حدود سے بلند ہو کر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔ ان کی عظمت کا راز دولت، اقتدار یا شہرت میں نہیں، بلکہ علم، کردار، اخلاص اور خدمتِ خلق میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ آیت اللہ شہید ڈاکٹر سید محمد حسینی بہشتی بھی انہی نابغۂ روزگار ہستیوں میں سے ہیں۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| تاریخِ انسانیت میں بعض شخصیات ایسی جنم لیتی ہیں جو اپنے عہد کی حدود سے بلند ہو کر آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔ ان کی عظمت کا راز دولت، اقتدار یا شہرت میں نہیں، بلکہ علم، کردار، اخلاص اور خدمتِ خلق میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ آیت اللہ شہید ڈاکٹر سید محمد حسینی بہشتی بھی انہی نابغۂ روزگار ہستیوں میں سے ہیں؛ جنہوں نے اپنی علمی بصیرت، اخلاقی رفعت، انقلابی فکر اور بے مثال قربانی سے اسلامی دنیا میں ایک انمٹ نقش چھوڑا۔

آپ کی ولادت 2 نومبر 1928ء کو ایران کے تاریخی شہر اصفہان کے ایک علمی اور مذہبی خاندان میں ہوئی۔ ابتدائی عمر ہی سے ذہانت، محنت اور سنجیدگی آپ کی شخصیت کا حصہ بن گئی تھی۔ دینی علوم کے حصول کے لیے آپ قم کے حوزۂ علمیہ پہنچے، جہاں امام روح اللہ خمینیؒ، آیت اللہ سید حسین بروجردیؒ، آیت اللہ محقق دامادؒ اور دیگر جلیل القدر اساتذہ سے فقہ، اصول اور اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں آپ نے تہران یونیورسٹی سے فلسفے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور جدید علوم کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان پر بھی عبور حاصل کیا۔ آپ کا یقین تھا کہ عالمِ دین کو صرف روایت کا امین نہیں بلکہ اپنے زمانے کے فکری تقاضوں سے بھی آگاہ ہونا چاہیے۔

شہید بہشتی کی شخصیت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے حوزے کی علمی روایت اور جدید تعلیم کے درمیان ایک مضبوط پل قائم کیا۔ وہ اسلام کو محض چند عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات سمجھتے تھے، جو انسان کی فکری، اخلاقی، معاشرتی اور سیاسی زندگی کی رہنمائی کرتا ہے۔ علامہ سید محمد حسین طباطبائیؒ سے علمی استفادہ نے ان کی فکر کو مزید وسعت بخشی اور انہیں یہ یقین عطا کیا کہ اسلام عقل، وحی اور فطرت کے درمیان کامل ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

تعلیم و تربیت کو وہ معاشرے کی تعمیر کا بنیادی ستون سمجھتے تھے۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے قم میں مدرسۂ دین و دانش کے قیام میں اہم کردار ادا کیا، جہاں دینی اور عصری علوم کو یکجا کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی۔ بعد ازاں ہیمبرگ اسلامک سنٹر کی ذمہ داری سنبھال کر انہوں نے یورپ میں اسلام کا نہایت معقول، مدلل اور معتدل تعارف پیش کیا۔ انہوں نے مغربی معاشرے کو بتایا کہ اسلام شدت، تعصب اور جمود کا نہیں بلکہ علم، عدل، اخلاق اور انسان دوستی کا مذہب ہے۔ ان کی گفتگو دلیل، حکمت اور حسنِ اخلاق کا حسین امتزاج ہوتی تھی، جس سے مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم دانشور بھی متاثر ہوتے تھے۔

ایران واپسی کے بعد انہوں نے امام خمینیؒ کی قیادت میں چلنے والی اسلامی تحریک میں بھرپور کردار ادا کیا۔ انقلابِ اسلامی کی کامیابی کے بعد ریاستی اداروں کی تشکیل، اسلامی جمہوریہ پارٹی کے قیام، آئین سازی اور عدلیہ کی تنظیم میں ان کی خدمات بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ وہ اس حقیقت پر یقین رکھتے تھے کہ انقلاب صرف حکومت کی تبدیلی کا نام نہیں بلکہ انسان، معاشرے اور اداروں کی اصلاح کا نام ہے۔ اسی لیے انہوں نے قانون، عدل، نظم اور عوامی خدمت کو اسلامی حکومت کی بنیاد قرار دیا۔

آئینِ اسلامی جمہوریہ ایران کی تدوین میں ان کی فقہی بصیرت، قانونی مہارت اور سیاسی دور اندیشی نمایاں رہی۔ بعد ازاں جب انہیں عدلیہ کی سربراہی سونپی گئی تو انہوں نے انصاف کو حکومت کی روح قرار دیا۔ ان کے نزدیک قانون امیر و غریب، طاقتور و کمزور سب کے لیے برابر ہونا چاہیے، کیونکہ عدل ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک صالح معاشرہ قائم رہ سکتا ہے۔

اگرچہ شہید بہشتی علم، سیاست اور قانون کے میدان میں بلند مقام رکھتے تھے، لیکن ان کی اصل عظمت ان کے اخلاق، تواضع اور معنویت میں تھی۔ وہ بڑے سے بڑے منصب پر فائز ہونے کے باوجود نہایت سادہ زندگی گزارتے، ہر شخص سے احترام کے ساتھ پیش آتے اور اختلاف کو کبھی دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیتے۔ ان کے نزدیک علم کی حقیقی زینت اخلاق اور عاجزی ہے۔ وہ ہمیشہ اول وقت نماز ادا کرتے، نمازِ شب کے پابند تھے اور ذکرِ الٰہی کو اپنی روحانی طاقت کا سرچشمہ سمجھتے تھے۔ ان کی عبادت گوشہ نشینی کی عبادت نہیں بلکہ میدانِ عمل میں خدا سے وابستگی کا عملی اظہار تھی۔

گھریلو زندگی میں بھی وہ ایک مثالی شوہر اور شفیق باپ تھے۔ وہ اپنی اہلیہ کے گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹاتے، بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیتے اور سادگی و محبت کو خاندانی زندگی کی بنیاد سمجھتے تھے۔ اسی طرح مالی معاملات میں بھی ان کی دیانت بے مثال تھی۔ انہوں نے کبھی بیت المال کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا اور ہمیشہ اپنی محنت کی کمائی کو باعثِ عزت سمجھا۔

انقلاب کے بعد انہیں شدید مخالفت، بے بنیاد الزامات اور مسلسل پروپیگنڈے کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے صبر، تحمل اور خاموش خدمت کا راستہ اختیار کیا۔ ان کا مشہور جملہ “ہم اقتدار کے طالب نہیں، خدمت کے مشتاق ہیں” ان کی پوری عملی زندگی کا خلاصہ ہے۔ وہ منصب کو اعزاز نہیں بلکہ امانت سمجھتے تھے اور ہر ذمہ داری کو خدا کے حضور جواب دہی کے احساس کے ساتھ انجام دیتے تھے۔

28 جون 1981ء کو اسلامی جمہوریہ پارٹی کے مرکزی دفتر میں ہونے والے دہشت گردانہ بم دھماکے میں آیت اللہ شہید ڈاکٹر سید محمد حسینی بہشتیؒ اپنے بہتر رفقاء کے ساتھ جامِ شہادت نوش کر گئے۔ دشمن سمجھتا تھا کہ اس ایک حملے سے انقلاب کمزور ہو جائے گا، مگر ان کی شہادت نے اسلامی انقلاب کو مزید استحکام بخشا۔ امام خمینیؒ نے ان کے بارے میں فرمایا: “بہشتی ایک فرد نہیں، ایک امت تھے۔” حقیقت بھی یہی ہے کہ وہ ایک انسان نہیں بلکہ ایک مکتبِ فکر، ایک تعلیمی ادارہ، ایک اخلاقی نمونہ اور ایک انقلابی تحریک کا نام تھے۔

آج بھی شہید بہشتی کی زندگی اہلِ علم، نوجوانوں، اساتذہ، علماء، ججوں، سیاست دانوں اور سماجی کارکنوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ وہ ہمیں یہ درس دیتے ہیں کہ علم اگر اخلاق سے خالی ہو تو نقصان دہ بن جاتا ہے، سیاست اگر معنویت سے محروم ہو تو ظلم میں بدل جاتی ہے، اور عبادت اگر خدمتِ خلق سے وابستہ نہ ہو تو اپنی روح کھو دیتی ہے۔ ان کی پوری زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ایک مسلمان بیک وقت عالم، مفکر، عابد، منتظم، مجاہد اور خادمِ انسانیت ہو سکتا ہے۔

شہید آیت اللہ ڈاکٹر سید محمد حسینی بہشتیؒ کی حیاتِ مبارکہ علم، اخلاق، عدل، اخلاص اور قربانی کا ایسا روشن باب ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کو یہ پیغام دیتا رہے گا کہ قوموں کی حقیقی تعمیر صرف اقتدار سے نہیں بلکہ باکردار انسانوں سے ہوتی ہے۔ ایسے انسان جو اپنی ذات کو خدا کی رضا کے لیے وقف کر دیں، وہ جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہو کر بھی اپنے افکار، کردار اور قربانی کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، اور یہی شہید بہشتیؒ کی ابدی زندگی اور ان کی سب سے بڑی میراث ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha