اتوار 21 جون 2026 - 18:02
کربلا؛ انسانیت کی ابدی درسگاہ (پنچم محرم)

حوزہ/پانچ محرم 61 ہجری تک کربلا کی سرزمین پر حالات مزید سنگین ہو چکے تھے۔ دشمن کے لشکر میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا اور امام حسینؑ کے گرد محاصرہ تنگ کیا جا رہا تھا۔ ظاہری نگاہ سے دیکھا جائے تو طاقت کا توازن مکمل طور پر ایک طرف جھکا ہوا نظر آتا تھا، لیکن کربلا کا حسن یہ تھا کہ یہاں تعداد نہیں بلکہ کردار بول رہا تھا۔ یہاں فوجوں کی کثرت نہیں بلکہ وفاداری کی عظمت تاریخ رقم کر رہی تھی۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی| پانچ محرم 61 ہجری تک کربلا کی سرزمین پر حالات مزید سنگین ہو چکے تھے۔ دشمن کے لشکر میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا اور امام حسینؑ کے گرد محاصرہ تنگ کیا جا رہا تھا۔ ظاہری نگاہ سے دیکھا جائے تو طاقت کا توازن مکمل طور پر ایک طرف جھکا ہوا نظر آتا تھا، لیکن کربلا کا حسن یہ تھا کہ یہاں تعداد نہیں بلکہ کردار بول رہا تھا۔ یہاں فوجوں کی کثرت نہیں بلکہ وفاداری کی عظمت تاریخ رقم کر رہی تھی۔

یہی وہ دن ہیں جب نگاہیں بار بار ان عظیم اصحابِ حسینؑ کی طرف اٹھتی ہیں جنہوں نے وفا، ایثار اور قربانی کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ رہتی دنیا تک ان کے نام عزت و احترام سے لیے جائیں گے۔

امام حسینؑ کے اصحاب مختلف علاقوں، مختلف قبائل اور مختلف عمروں سے تعلق رکھتے تھے۔ کوئی بوڑھا تھا، کوئی جوان، کوئی آزاد کردہ غلام تھا اور کوئی عرب کے معروف خاندانوں کا چشم و چراغ۔ لیکن ان سب کو ایک چیز نے یکجا کر رکھا تھا، اور وہ تھی حسینؑ سے وفاداری اور خدا کی رضا کی طلب۔ ان کے درمیان حسب و نسب، مال و دولت یا دنیاوی مرتبے کا کوئی امتیاز نہ تھا۔ ان کی اصل شناخت یہ تھی کہ وہ حق کے مسافر تھے اور اپنے امام کے ساتھ آخری سانس تک کھڑے رہنے کا عزم رکھتے تھے۔

قرآن مجید فرماتا ہے:﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا﴾“مؤمنوں میں ایسے مرد موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا۔ ان میں بعض اپنا عہد پورا کر چکے اور بعض انتظار میں ہیں، اور انہوں نے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔”(سورۂ احزاب: 23)

اگر اس آیت کی عملی تصویر دیکھنی ہو تو کربلا کے خیموں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ حبیب بن مظاہرؑ، مسلم بن عوسجہؑ، زہیر بن قینؑ، نافع بن ہلالؑ، بریر بن خضیرؑ اور دیگر جانثار اصحاب اس آیت کی جیتی جاگتی تفسیر تھے۔

حبیب بن مظاہرؑ کی عمر پچھتر برس کے قریب تھی۔ بڑھاپا جسم پر اثر انداز ہو چکا تھا، مگر عشقِ حسینؑ نے ان کے قدموں میں جوانی بھر دی تھی۔ جب انہیں امام حسینؑ کی آمد کی خبر ملی تو سب خطرات مول لے کر کربلا پہنچ گئے۔ وہ جانتے تھے کہ یہاں زندگی نہیں، شہادت ان کی منتظر ہے، مگر ان کے لیے یہی سب سے بڑی سعادت تھی۔

مسلم بن عوسجہؑ ان بزرگ اصحاب میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زمانہ پایا تھا۔ عمر کے آخری حصے میں بھی ان کی وفاداری میں کوئی کمی نہ آئی۔ وہ دنیا کو یہ بتانے آئے تھے کہ ایمان عمر کا محتاج نہیں ہوتا۔

زہیر بن قینؑ کا واقعہ بھی کربلا کا ایک روشن باب ہے۔ ابتدا میں وہ امام حسینؑ کے قافلے سے فاصلہ رکھتے تھے، لیکن جب حق ان کے سامنے پوری وضاحت کے ساتھ آیا تو انہوں نے دنیا کی ہر مصلحت کو ٹھکرا کر حسینؑ کا ساتھ اختیار کر لیا۔ یہی کربلا کا پیغام ہے کہ انسان کا ماضی کچھ بھی ہو، اگر وہ حق کو پہچان لے اور اس کا ساتھ دے تو وہ تاریخ کے عظیم ترین انسانوں میں شمار ہو سکتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:«خَيْرُ الْإِخْوَانِ أَوْفَاهُمْ»“بہترین بھائی وہ ہے جو سب سے زیادہ وفادار ہو۔”

کربلا کے اصحاب نے وفاداری کا ایسا مفہوم پیش کیا جس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے نہ دولت دیکھی، نہ طاقت دیکھی، نہ اپنی جان کی پروا کی۔ ان کی نگاہ صرف اپنے امام پر تھی۔

امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں: «ثَمَرَةُ الْوَفَاءِ الْوَفُورُ»“وفاداری کا پھل عزت و سربلندی ہے۔”(غرر الحکم)

کربلا کے شہداء کی عزت اس بات کا ثبوت ہے کہ وفاداری کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ چودہ سو سال گزر جانے کے باوجود دنیا ان کے نام احترام سے لیتی ہے، ان پر سلام بھیجتی ہے اور ان کی قربانیوں کو یاد کرتی ہے۔

پانچ محرم ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ کسی بھی عظیم تحریک کی کامیابی صرف ایک قائد کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ مخلص ساتھی اس کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ امام حسینؑ یقیناً حق کے امام تھے، لیکن ان کے اصحاب نے اپنے خون سے اس حقانیت پر مہر ثبت کی۔ اگر یہ وفادار ساتھی نہ ہوتے تو کربلا کا پیغام اتنی قوت کے ساتھ دنیا تک نہ پہنچ پاتا۔

آج کے دور میں بھی انسان کو ایسے رفقاء اور ساتھیوں کی ضرورت ہے جو مشکل وقت میں ساتھ چھوڑنے والے نہ ہوں۔ دنیا میں دوستی کا دعویٰ کرنے والے بہت ملتے ہیں، لیکن آزمائش کے وقت وفادار لوگ بہت کم رہ جاتے ہیں۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی دوستی اور حقیقی وفاداری وہ ہے جو حالات کے بدلنے سے تبدیل نہ ہو۔

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:«الصَّدِيقُ مَنْ صَدَقَ فِي مَوَدَّتِهِ»“سچا دوست وہ ہے جو اپنی محبت میں سچا ہو۔”

اصحابِ حسینؑ کی محبت اور وفاداری صداقت کا وہ معیار ہے جس کے سامنے دنیا کی تمام دوستیوں کے دعوے ماند پڑ جاتے ہیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ محبت صرف زبان سے نہیں بلکہ قربانی سے ثابت ہوتی ہے۔

پانچ محرم کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ حق کا راستہ اکیلے طے نہیں ہوتا۔ اس کے لیے ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو مقصد پر یقین رکھتے ہوں، جو قربانی سے نہ گھبرائیں اور جو دنیاوی مفادات پر اصولوں کو ترجیح دیں۔ یہی لوگ تاریخ کے اصل ہیرو ہوتے ہیں اور یہی لوگ آنے والی نسلوں کے لیے مینارۂ نور بن جاتے ہیں۔

آج کا پیغام:

زندگی میں کامیابی صرف صلاحیتوں سے نہیں ملتی بلکہ مخلص اور وفادار ساتھیوں سے بھی ملتی ہے۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کے راستے پر چلنے والا انسان خود بھی وفادار بنے اور وفادار لوگوں کی قدر بھی کرے۔

پروردگار! ہمیں امام حسینؑ کے اصحاب جیسی وفاداری، اخلاص اور استقامت عطا فرما۔ ہمارے دلوں کو دنیا کی محبت سے پاک اور حق کی محبت سے روشن فرما۔ ہمیں ایسے لوگوں میں شامل فرما جو عہد کرتے ہیں تو اسے نبھاتے ہیں، محبت کرتے ہیں تو خلوص کے ساتھ کرتے ہیں، اور حق کو پہچانتے ہیں تو اس کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار رہتے ہیں۔

آمین یا رب العالمین

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha